وزیر اعظم کا اہم بیان

تازہ ترین

تازہ ترین

سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی جانب سے وزارت عظمیٰ کی پیشکش کے بارے میں وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ بیان نے پاکستان کے سیاسی میدان میں ہیجان برپا کردیا ہے۔

مذکورہ بیان نے ملک کے سیاسی منظر نامے کی تشکیل میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو سامنے لایا ہے اور سویلین معاملات میں فوج کی مداخلت کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے کہ عوام کی حکومت کیا واقعی عوامی حکومت ہے یا پھر عسکری حکام بھی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں؟

غور طلب ہے کہ یہ پیشکش مبینہ طور پر جولائی 2018 میں اسی سال کے عام انتخابات سے قبل کی گئی تھی، جس میں عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کامیاب ہوئی تھی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ دعویٰ کہ انہیں عمران خان سے پہلے اس عہدے کی پیشکش کی گئی تھی، پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے میں اسٹیبلشمنٹ کے ملوث ہونے کے بارے میں قیاس آرائیوں کا باعث  بنا۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پر سیاسی معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا گیا ہو۔ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی دونوں سیاسی جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے 2018 کے عام انتخابات کے دوران رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) کو بند کرنے کا سبب پیدا کیا۔ یہاں ایک فریق کا دعویٰ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی کی حکومت لانے کا باعث بنی جبکہ دوسرے فریق کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ پی ٹی آئی کو بطور حکمران جماعت کمزور کرنا تھا۔

صحافی حامد میر کا وزیر اعظم شہباز شریف سے سوال کہ اگر  وہ یہ پیشکش قبول کر لیتے تو کیا عمران خان وزیر اعظم نہ بنتے؟ اور وزیر اعظم کا اثبات میں جواب ملک کے سیاسی منظر نامے کی تشکیل میں اسٹیبلشمنٹ کے ملوث ہونے کے تاثر کو مزید تقویت دیتا ہے۔

پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سیاست میں اُلجھی ہوئی ہے، یہ نہ صرف ریاست کے لیے بلکہ خود اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی ایک خطرناک کھیل بن چکا ہے۔ سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی اور سوشل میڈیا نے سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ پاکستانی عوام نے ہمیشہ اپنی مسلح افواج سے گہری محبت اور احترام کیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے گزشتہ دور میں پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 1965 کی جنگ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح عوام اور فوج دشمن کے خلاف ملک کے دفاع کے لیے اکٹھے ہوئے۔

تاہم اسٹیبلشمنٹ کی بنیادی ذمہ داری ملکی سرحدوں کی حفاظت اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ دوسری طرف، سیاستدانوں کو ملک پر حکومت کرنے اور لوگوں کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ وزیر اعظم کا عہدہ کسی بھی قابل فرد کے لیے کھلا ہونا چاہیے جسے عوام نے منتخب کیا ہے، چاہے اس کی سیاسی وابستگی کچھ بھی ہو۔

پاکستان کے عوام اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ووٹ دیتے ہیں اور یہ اسٹیبلشمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوریت کی حمایت کرے اور سول معاملات میں مداخلت سے گریز کیا جائے۔ اگر موجودہ نظام جمہوری عمل پر اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کو ترجیح دیتا رہا تو تعمیر و ترقی کی راہ میں رکاوٹیں آئیں گی۔ جمہوریت کو برقرار رکھنا اور کسی بیرونی مداخلت کے بغیر منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کی اجازت دینا قوم کے مفاد میں اسٹیبلشمنٹ کا بہترین فیصلہ ہوگا۔

Related Posts