لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے زمان پارک میں پولیس کے آپریشن کو فوری روکنے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ میں زمان پارک میں پولیس آپریشن روکنے کے لیے فواد چوہدری کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب شان گل عدالت میں پیش ہوئے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ میں عمران خان کا دفاع نہیں کررہا لیکن جو زمان پارک کے باہر ہورہا ہے وہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، زمان پارک جنگی زون بن چکا ہے۔
ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ عمران خان کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، یہ درخواست لاہور ہائیکورٹ میں قابل سماعت نہیں ہے۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ جو بھی اسلام آباد پولیس کی طرف سے آپریشن لیڈ کررہا ہے ہم اسے بلا لیتے ہیں، اس معاملے کو کسی طرح ٹھیک بھی تو کرنا ہے، اگر اسلام آباد پولیس کے افسر عدالت میں پیش نہ ہوئے تو ہم انکے وارنٹ جاری کریں گے۔
نواز شریف شیر لیڈر ہے جبکہ زمان پارک کا گیڈر عدالت جانے سے ڈرتا ہے، مریم نواز
وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ اسلام آباد پولیس لاہور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔
عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب ، آئی جی پنجاب اور اسلام آباد پولیس کی طرف سے آپریشن کی سربراہی کرنے والے افسر ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد شہزاد بخاری کو فوری پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
وقفے کے بعد آئی جی پنجاب عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس طارق سلیم شیخ نے ان سے کہا کہ اگر ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک آپریشن روک دیں تو کوئی اعتراض ہے؟ آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ ہم عدالت کے ہر حکم پر عمل درآمد کرنے کے پابند ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے کل صبح دس بجے تک پولیس آپریشن روکنے کا حکم دے دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








