اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
عمران خان کے وکیل خواجہ حارث ایک کیس کی سماعت ختم ہونے پر اچانک روسٹرم پر آگئے اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ابھی تو آپ کی درخواست فکس نہیں ہوئی، مقرر ہوئی تو دیکھوں گا، اس عدالت نے پہلے ریلیف دیا تھا مگر اس کا کیا ہوا؟ عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوا، دیکھیں گے اس کےکیا نتائج ہوسکتے ہیں۔
عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست پر 12 بجے سے پہلے سماعت کرلی جائے۔
چیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ اس عدالت نے پہلے ایک راستہ دیا تھا، آپ کا کیس آج اعتراضات کے ساتھ لگا ہوا ہے اسے دیکھیں گے، کیا آپ نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کردیے ہیں؟
وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ لاہور میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ عدالت کے سامنے ہے اس پر چیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے۔
نواز شریف شیر لیڈر ہے جبکہ زمان پارک کا گیڈر عدالت جانے سے ڈرتا ہے، مریم نواز
چیف جسٹس نے رجسٹرار آفس کے دو اعتراضات جوڈیشل سائیڈ پر دور کردیے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رجسٹرار آفس کے چھوٹے چھوٹے اعتراضات ہیں، میں بائیو میٹرک اور دستخط والا اعتراض دور کررہا ہوں، ٹکٹوں والا اعتراض ہے، وہ آدھے گھنٹے میں دور ہوجائے گا۔
عدالت نے عمران خان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرکے سماعت شروع کردی۔
خیال رہے کہ عمران خان کی لیگل ٹیم نے گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس میں وارنٹ منسوخ کرنے اور فوری سماعت کی استدعا کی گئی تھی تاہم رجسٹرار آفس نے عمران خان کی درخواست پر اعتراض عائد کیا کہ عمران خان کا بائیومیٹرک نہیں کرایا گیا۔
ہائیکورٹ نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری منسوخی کی درخواست پرگزشتہ روز سماعت کی استدعا مسترد کردی تھی اور درخواست آج بروز بدھ سماعت کے لیے مقرر کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








