سیاست اور صبر و تحمل

تازہ ترین

تازہ ترین

سیاست ایک پیچیدہ اور خطرات سے بھرپور کھیل ہے جو اعلیٰ سطح کی گفتگو، سفارت کاری اور باہمی احترام کا تقاضا کرتی ہے۔ تاہم، یہ بدقسمتی ہے کہ زیادہ تر سیاست دان ان اصولوں پر عمل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

خاص طور پر جب بات ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے اور اپوزیشن کا احترام کرنے کی ہو تویہ اصول سرے سے نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ یہ پاکستانی سیاست کے تناظر میں خاص طور پر واضح ہے، جہاں سیاست دان اکثر اپنے ذاتی ایجنڈوں کو ملکی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔

پاکستان کی موجودہ حکومت کا جاری کردہ حالیہ بیان جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن میں نہیں بیٹھنا چاہتی، اس رویے کی واضح مثال ہے۔ یہ بیان حکومت کے عوام کی خدمت کے حقیقی عزم کے بجائے طاقت اور کنٹرول کے جنون کی عکاسی کرتا ہے۔ اس طرح کا مبہم انداز جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ہے اور نمائندہ حکومت کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کی جانب سے ملک میں سیاست کو پولرائز کرنے میں سابق وزیراعظم عمران خان کے کردار کے حوالے سے جو بیانات دیئے گئے ہیں وہ بھی اتنے ہی پریشان کن ہیں۔ اگرچہ رہنماؤں کو ان کے اعمال کے لیے جوابدہ ٹھہرانا ضروری ہے، لیکن اس طرح کے بیانات صرف موجودہ تقسیم کو مزید گہرا کرنے اور قوم کو مزید پولرائز کرنے کا کام کرتے ہیں۔ سیاستدانوں کے لیے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ وہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں اور اس لیے انہیں اپنے سیاسی عزائم پر ملکی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔

رانا ثناء اللہ کے اپنے وجود کو خطرہ ہونے کی صورت میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہونے اور ہر چیز کا ذمہ دار عمران خان کو ٹھہرانے کے حوالے سے جو بیانات دیے گئے ہیں وہ خاصے تشویشناک ہیں۔ اس طرح کی زبان نہ صرف قانون کی حکمرانی کی بے توقیری کی عکاسی بلکہ جمہوری اصولوں کو بھی مجروح کرتی ہے جسے قائم کرنے کے لیے پاکستانیوں نے بہت جدوجہد کی ہے۔

حکومت کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ان کی سیاسی وابستگی سے قطع نظر قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا اور عوام کی خدمت کرنا زیادہ اہم ہے۔ جمہوریت میں اپوزیشن کا ایک اہم کردار ہوتا ہے کیونکہ وہ حکمران جماعت کو چیک اینڈ بیلنس فراہم کرتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت مزید تقسیم پیدا کرنے کی بجائے اپوزیشن کے ساتھ مل کر جمہوری روایات کی پاسداری کی کوشش کرے۔

 حکمران جماعت کی طرف سے دیے گئے حالیہ بیانات جمہوری اصولوں کی بے توقیری کی عکاسی کرتے ہیں جبکہ اصولوں کی پیروی جمہوریت کو استحکام دینے کیلئے ضروری ہے۔ وقت آگیا ہے کہ سیاست دان قوم کے مفادات کو اولیت دیں اور مزید جامع اور متحد پاکستان کی تعمیر کے لیے کام کریں۔

Related Posts