پاکستان ایک ملک ہے جس طرح دنیا کے درجنوں دیگر ممالک ہیں جن کی پالیسیوں اور حکام کے بیانات کی تعریف یا پھر ان پر تنقید کی جاسکتی ہے، اسی طرح پاکستانی عوام کو بھی مختلف ممالک کے لوگ تنقید کا نشانہ بنایا کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر پاکستان میں عوامی گفت و شنید اکثر و بیشتر عدل و انصاف، امن و امان کی صورتحال اور سیاسی آزادی کے گرد گھومتی ہے۔ بے شمار لوگ جذباتی انداز میں اپنی رائے، تحفظات اور تاثرات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔
اس سے یہ تاثر جنم لیتا ہے کہ لوگ کتنے اچھے ہیں، اپنے ملک کے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ بالکل یہی بات ہے۔ لوگ مسائل حل کرنا چاہتے ہیں لیکن پھر میڈیا کچھ چیدہ چیدہ خبریں پیش کردیتا ہے اور ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ بریکنگ نیوز اور ٹرینڈنگ اسٹوریز پرانی خبروں کی جگہ چھین لیتی ہیں۔
یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ شاید ہمیں اپنے ہی مسائل یاد دلانے کیلئے ایک ایسی ایپ کی ضرورت ہے جن کے متعلق ہم ایک ہی روز قبل بے حد پرجوش تھے اور ان کے حل کی تجاویز بھی پیش کر رہے تھے، ایپ ہم سے یہ سوال کیا کرے گی کہ بندہ پرور! کل تو آپ یہ فرما رہے تھے؟ آج کیا ہوگیا، بقول غالبؔ:
بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
ہم کہیں گے حالِ دل اور آپ فرمائیں گے کیا؟
حضرتِ ناصح گر آئیں، دیدہ و دل فرشِ راہ
کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا؟
ملکی تعمیر و ترقی کیلئے عوام جتنے سنجیدہ، پرجوش اور پر عزم ہیں ہمارے بعض سیاستدان اتنے ہی زیرک، چالاک اور کسی حد تک موقع پرست بھی کہے جاسکتے ہیں جو ووٹنگ کے دنوں میں عوام کے بہترین دوست بن جایا کرتے ہیں۔
انتخابات قریب آتے ہی تمام تر چالبازیوں کی تیاریاں مکمل کرلی جاتی ہیں۔ سادہ لوح عوام بھی اس موسمی دوستی سے بخوبی واقفیت رکھنے کے باوجود امید اور روشن مستقبل کے خوابوں سے چمٹے رہتے ہیں تاہم کوئی امید برآتی دکھائی نہیں دیتی۔ عوام کو اس کرشماتی دن کا انتظار رہتا ہے جب تمام تر مسائل جادوئی طور پر خود بخود ختم ہوجائیں گے۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا، لیکن امید پر تو دنیا قائم ہے۔ پھر کیا کیا جائے؟
خود ساختہ انقلابی عوام ملک کے گوشے گوشے میں بکثرت مل جائیں گے۔ وہ سیاسی تبدیلی پر بحث کرتے ہیں۔ بہتر معاشرے کا تصور پیش کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر انقلابی اقتباسات کو بھی جوش و خروش سے شیئر کیا جاتا ہے لیکن فعال طور پر کسی مہم کا حصہ بننے کی بات آتی ہے تو 100 میں سے شائد 10 ہی لوگ آپ کو اپنے ساتھ کھڑے نظر آئیں۔شاید ہمیں ایسے لوگوں کیلئے ایک انقلاب اسٹارٹر کٹ متعارف کرانے کی ضرورت پیش آئے گی۔
تمام تر خامیوں کے باوجود پاکستانیوں کی اپنے وطن سے غیر متزلزل محبت سے انکار نہیں کیا جاسکتا جو نعرے لگانے سے لے کر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے تک شاندار حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اپنی بہادر مسلح افواج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونا ہو یا پھر ملک کی سلامتی کیلئے اپنی جان پر کھیل جانا، اس ضمن میں پاکستانی قوم کے جوش و جذبہ ناقابلِ فراموش رہا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بھی ضروری محسوس ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ قوم کو اپنے سیاسی شعور میں ایک ایسا انقلاب لانے کی ضرورت ہے جو انہیں نئے دور کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے میدانِ عمل میں اترنے کا درس دے اور انہیں اپنے وطن کیلئے اس سے زیادہ کرنے کا حوصلہ بخشے جتنا کہ وہ عموماً کر جایا کرتے ہیں کیونکہ آج پاکستان سے زیادہ کسی اور ملک کو شاید ہی اس کی ضرورت ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں