ملک کی معاشی صورتحال انتہائی نازک دور میں داخل ہوچکی ہے جس کیلئے حکومتِ وقت کو ہنگامی اقدامات اٹھانے اور اصلاحات پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
دراصل ملکی معیشت حالیہ دنوں میں بہت سے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ اگر جی ڈی پی کا جائزہ لیا جائے تو مالی سال 2022ء تک پاکستان کی جی ڈی پی 376ارب ڈالر تھی جو قوتِ خرید کے لحاظ سے اسے دنیا کی 23ویں بڑی معیشت قوت بتاتی ہے۔
معاشی ماہرین نے پیشگوئی کی کہ سال 2023ء میں پاکستان کا جی ڈی پی 0.6 فیصد جبکہ آئندہ برس 2024ء میں 2فیصد رہنے کا امکان ہے۔ جولائی تا مارچ میں برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں سال بہ سال کے اعتبار سے 10فیصد کی کمی آئی ہے۔
فی الحقیقت پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت 4.4 بلین ڈالر ہیں جبکہ مندرجہ بالا تمام اعداد و شمار تشویش کا باعث رہے ہیں، خاص طور پریہ بات تشویشناک ہے کہ آئی ایم ایف سے 7ارب ڈالر قرض کا حصول گزشتہ کئی مہینوں سے معطل ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام کی معطلی سے پاکستان کے مالی وسائل پر خاصا دباؤ پڑا ہے، جس سے ملک میں معاشی بحران مزید بڑھ گیا ہے۔سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے مستقبل میں قرضوں کی ادائیگیوں کو اجاگر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ملک کو 3.07 ارب ڈالرز کے قرض کی ادائیگی کا سامنا ہے، اس کے ساتھ اضافی $400 ملین سود بھی ہے، جو اگلے دو ماہ کے اندر ادا کرنا ضروری ہے۔ یہ تمام تر حقائق معاشی استحکام کے لیے ایک اہم رکاوٹ ہیں۔
گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کے قرضہ پروگرام کی معطلی، اور آنے والی قرضوں کی ادائیگیوں کے پاکستان کی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ غیر ملکی ذخائر کا سکڑتا ہوا حجم ملک کی توانائی کے وسائل اور مشینری جیسی ضروری درآمدات کیلئے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے جس کے نتیجے میں سپلائی چین میں خلل پڑا اور افراط زر کے باعث عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر پاکستانی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدام کرے۔ اس میں ریونیو کی پیداوار بڑھانے، ٹیکس وصولی کے طریقہ کار کو بہتر بنانے، برآمدات کو فروغ دینے، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا نفاذ شامل ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، حکومت مالی امداد کے متبادل آپشنز تلاش کر سکتی ہے۔ امداد اور سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کے لیے سفارتی کوششوں میں مشغول ہو سکتی ہے، اور اقتصادی ترقی اور استحکام کو بڑھانے کے لیے پالیسیوں پر عمل پیرا ہو سکتی ہے۔ایسے ہی اقدامات کے باعث ملکی معاشی صورتحال میں کسی بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے تاکہ ڈیفالٹ کر جانے کے خدشات کم کیے جاسکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں