بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ بیل آؤٹ معاہدے کو بچانے کی آخری کوشش میں وفاقی حکومت نے ملک کے معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، چنانچہ نازک معاشی صورتحال کا شکار ملک کے حکام انتہائی ضروری مالی امداد کو محفوظ بنانے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ملک شدید معاشی تناؤ سے دوچار ہے، جس کے بنیادی اسباب میں بڑھتا ہوا مالیاتی خسارہ، کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر اور بڑھتا ہوا قرض جیسے پہاڑ مسائل شامل ہیں۔ ابتدائی آئی ایم ایف معاہدہ جس پر 2019 میں دستخط ہوئے تھے، پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت کو لائف لائن دینے کے لیے ملٹی بلین ڈالر کے قرض پروگرام کو استعمال کرنے کی کوشش تھا، تاہم حکومت کی جانب سے قائم کردہ اہداف کو پورا کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں حالات بگڑتے چلے گئے۔
مسائل بڑھنے کی وجہ سے آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ پروگرام جاری رکھنے کے معاملے میں محتاط ہوگیا، جسے دیکھتے ہوئے اتحادی حکومت نے آئی ایم ایف کا اعتماد واپس حاصل کرنے اور معاہدے کو بحال کرنے کی تگ و دود شروع کی اور اس کوشش میں کفایت شعاری کے متعدد اقدامات اور اسٹرکچرل اصلاحات پر توجہ دی۔ ان اقدامات میں توانائی اور زرعی سبسڈی کو کم کرنا، ٹیکس کی وصولی کو بہتر بنانا اور اخراجات میں کمی شامل ہے۔ انتظامیہ نے ایسے ماحول کو فروغ دینے کی کوشش میں اداروں کی تعمیر، بدعنوانی سے نمٹنے، اور نظم و نسق کو بڑھانے کے لیے بھی کارروائی کی ہے جو طویل مدتی اقتصادی ترقی کو سہارا دے گا۔
پاکستان نے اپنی مالی حالت کو مضبوط کرنے کے لیے اپنے قریبی دوستوں سے بھی مدد مانگی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے چین اور سعودی عرب سمیت دیگر دوست ممالک کے ساتھ ممکنہ مالی امداد اور سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں بات چیت کی ہے۔ اس شراکت داری کے نتیجے میں پاکستان کی غیر ملکی ادائیوں کو مالی اور انتظامی طور پر مزید مدد فراہم کرنے کی توقع ہے۔
تاہم ان کوششوں کے باوجود آئی ایم ایف کے معاہدے کو بچانے کا راستہ اب بھی مشکل ہے۔ وزیر اعظم کی آخری کوشش کی کامیابی کا بہت زیادہ انحصار اصلاحات کے نفاذ اور مقررہ اہداف کو پورا کرنے کی صلاحیت پر ہے۔ یہ حکومت کے کنٹرول سے باہر کے عوامل پر بھی منحصر ہے، جیسے عالمی اقتصادی حالات اور جغرافیائی سیاسی حرکیات، ایسے میں بظاہر آئی ایم ایف کا اعتماد جیتنا اور معاہدے میں توسیع پر عالمی ادارے کو قائل کرنا خاصا مشکل لگ رہا ہے اور اس خدشے میں سے پاکستان کے معاشی مسائل میں مزید اضافے کا خطرہ بھی مسلسلس جھانک رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں