وقت بدلتے دیر نہیں لگتی

تازہ ترین

تازہ ترین

سائنس کی دنیا ہو یا سیاست کی، معاشرے کی کہانیاں ہوں یا انفرادی قصے، وقت کی اپنی ایک اہمیت ہے جسے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

یہ وقت ہی ہے جو ہمارا حال، ماضی اور مستقبل بن جاتا ہے اور کبھی ہم اس سے ہنستے کھیلتے یا پھر ڈر سہم کر گزرتے ہیں، کبھی دکھ سے یا خوشی سے اس کا انتظار کرتے ہیں اور کبھی اسے یاد کرکے رونے یا مسکرانے لگ جاتے ہیں۔ اسے آپ وقت کی خوبصورتی سمجھیں یا بد صورتی، وقت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

وقت کی سب سے بڑی طاقت اس کا حقیقت ہونا اور ہر حقیقت پر اثر انداز ہونا ہے اور یہ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ عمران خان ملک کے وزیر اعظم تھے اور نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری اور دیگر سیاسی رہنماؤں کو مقدمے بھگتنے سے فرصت نہیں ملتی تھی۔

پھر یہ وقت بدلا اور چشمِ فلک نے وہ نظارہ بھی دیکھا جب شہباز شریف ملک کے وزیر اعظم بنے جو برسہا برس سے نواز شریف کو کم از کم 3 بار ملک کا وزیر اعظم بنتے دیکھ چکے تھے اور خود بھی دل میں ایسی ہی امید رکھتے تھے، جو کبھی پوری نہیں ہوسکی۔

لیکن ان کی امید پوری ہوئی اور وہ وزیر اعظم بن گئے، پھر وہ ہوا جس کا تحریکِ انصاف کے دور میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، یعنی پی ٹی آئی کے وزرا مقدمات بھگتنے لگ گئے۔ ان کی گرفتاریاں ہونے لگیں اور ان پر بدعنوانی کے سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے۔

تاہم 9 مئی کا واقعہ نظر انداز نہیں کیاجاسکتا جس کے دوران قائدِ اعظم کی یادگار اشیا، جی ایچ کیو اور شہدا کی یادگاروں کی توہین کی گئی جو ملک کی 75سالہ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا جس کے الزامات پی ٹی آئی پر لگے اور پھر گرفتاریاں ہوئیں۔

گرفتاریوں کا یہ سلسلہ خدا خدا کرکے تھما ہی تھا کہ ہم نے گزشتہ روز یہ خبر سنی کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہ خبر دلچسپ اس لیے ہے کیونکہ عثمان بزدار وزارتِ اعلیٰ، پی ٹی آئی اور سیاست تینوں کو الوداع کہہ چکے، اس کے بعد بھی انہیں گرفتار کرنے کا فیصلہ حیران کن ضرور کہا جاسکتا ہے۔

ایسے ہی وقت کیلئے سیانے کہا کرتے ہیں کہ ”وقت بدلتے دیر نہیں لگتی“ لیکن بوقتِ تحریر راقم الحروف کے ذہن میں یہ خیال بھی ہے کہ حکومت محترمہ تو خود 1 ماہ کی مہمان رہ گئی ہے۔ اس کے بعد تو پھر وقت بدل جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی وقت بدلے گا اور اگر بدلے گا، تو کس کا اور کس حد تک؟

 

Related Posts