نئے وزیر اعظم کیلئے چیلنجز

تازہ ترین

تازہ ترین

گزشتہ روز پاکستانی قوم نے سبز ہلالی پرچموں کی بہار کے ساتھ اپنا 76واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جبکہ انوار الحق کاکڑ بطور نگراں وزیر اعظم اپنے عہدے کا حلف اٹھا چکے ہیں۔

 امید یہی کی جارہی ہے کہ عام انتخابات رواں برس منعقد ہوں گے جبکہ عبوری وزیر اعظم کے عہدے کیلئے ایک فعال سینیٹر کی تقرری پر پہلے ہی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ انوار الحق کاکڑ میدانِ سیاست میں نواز شریف سمیت دیگر سیاستدانوں کی بہ نسبت نئے ہیں، اس لیے انہیں نگراں وزیرِ اعظم بنانے پر تمام سیاسی پارٹیوں کا اتحاد بظاہر سمجھ سے بالاتر ہے۔

گزشتہ کم و بیش 5سال سے بلوچستان سے سینیٹر کے طور پر فرائض انجام دینے والے انوار الحق کاکڑ بلوچستان عوامی پارٹی کے شریک بانی ہیں جن سے غیر جانبداری کی توقع کی جارہی ہے اور اب نگراں وزیر اعظم کی حیثیت سے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کروانے کے ذمہ دار بھی ہیں۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے انوار الحق کاکڑ کی تقرری کے متعلق زیادہ بیانات سامنے نہیں آئے جبکہ یہ ذمہ داری سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے سپرد کی گئی تھی۔ خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ پارٹی کو انوار الحق کاکڑ کے نگراں وزیر اعظم بنائے جانے کا علم نہیں تھا، کوئی اور الیکشن کرواتا تو بہتر ہوتا۔

تاہم فوری طور پر اس بیان سے انکار کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ کی تقری کا خیر مقدم کیا گیا اور اعلیٰ قیادت کی جانب سے خاموشی کا مطلب نئے وزیرِ اعظم کے  طرزِ عمل سے مشروط نظر آتا ہے۔

پی ڈی ایم کے ایک جلسے میں اے این پی نے بھی ایک سینیٹر کو عبوری وزیر اعظم بنانے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ اے این پی رہنما ایمل ولی خان نے کہا کہ کیا سیاسی جماعت کا کارکن غیر جانبدار رہ سکتا ہے؟ اے این پی سربراہ اختر مینگل نے بھی اس تقرری پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ن لیگ کے قائد نواز شریف کو خط لکھ دیا ہے۔

خط میں کہا گیا کہ اس فیصلے سے جمہوری اداروں کو نقصان پہنچا اور غیر جمہوری قوتوں کو بااختیار بنا دیا گیا ہے۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اس تقرری سے شاید نواز شریف بھی خوش نہیں کیونکہ ان کی نامزدگیوں میں سے کسی کو اس عہدے کے قابل نہیں سمجھا گیا۔ نواز شریف وطن واپسی کیلئے پر تول رہے ہیں جس میں قانونی پیچیدگیاں ہیں۔

دوسری جانب شہباز شریف کا کہنا ہے کہ انوار الحق کاکڑ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اس لیے انتخابات ہی نگراں وزیر اعظم کیلئے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوسکتے ہیں۔

انوار الحق کاکڑ کو اسٹیبلشمنٹ کا قریبی سیاسی رہنما بھی سمجھا جاتا ہے جو سیاسی بحران کے دور میں حکومت سنبھال چکے ہیں جبکہ سابق وزیر اعظم عمران خان تاحال قید میں ہیں۔ ملک کی نازک معاشی صورتحال بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ انوار الحق کاکڑ ان ذمہ داریوں سے کیسے نمٹتے ہیں۔ 

Related Posts