ایگزٹ پولز پر پابندی

تازہ ترین

تازہ ترین

دنیا بھر میں لوگ داخلی اور خارجی انتخابات کے اشارے کی بنیاد پر انتخابات میں ووٹ دیتے ہیں۔ ایک حیران کن اقدام میں الیکشن کمیشن نے عام انتخابات سے قبل ایگزٹ اور انٹری پولز پر پابندی لگادی ہے۔

ووٹرز کے پولنگ اسٹیشنوں سے نکلنے کے فوری بعد اُن کا انتخابی ایزٹ پول لیا جاتا ہے۔ اسی طرح اُن کے ووٹ ڈالنے سے پہلے بھی اسی قسم کا پول لیا جاتا ہے جسے انٹری پول کہتے ہیں۔ مختلف تنظیمیں یا میڈیا ادارے اِن پولز کو کرواتے ہیں تاکہ اس بات کا ابتدائی اشارہ مل سکے کہ انتخابات کیسے ہوئے۔

امریکہ میں ایگزٹ پولز بڑی حد تک اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ صدارتی انتخابات کون جیتے گا۔ میڈیا ایجنسیوں پر مشتمل نیشنل الیکشن پول (این ای پی) مشترکہ الیکشن ایگزٹ پول کرتا ہے۔ 2004 سے یہ ایگزٹ پول ایڈیسن میڈیا ریسرچ کے ذریعے کرایا جا رہا ہے اور اس کی مددد سے کافی حد تک پتہ چل جاتا ہے کہ انتخابی جیت کس کی ہوگی۔

امریکہ میں ایگزٹ پول کے اعداد و شمار کے اجراء کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ برطانیہ، اٹلی، فرانس، جرمنی، بھارت اور سنگاپور سمیت کچھ ممالک نے تمام پولنگ اسٹیشنز بند ہونے سے پہلے ایگزٹ پول کے اعداد و شمار جاری کرنے کو مجرمانہ جرم قرار دیا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صورتحال پر قابو پانے کے بجائے اس پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

ای سی پی نے پولنگ سٹیشنوں یا حلقوں میں کسی بھی قسم کے سروے پر پابندی لگا دی ہے جو ووٹرز کے ووٹ کاسٹ کرنے کے آزادانہ انتخاب کو متاثر کرے گی، اس نے پرنٹ ، الیکٹرونک اور ڈیجیٹل میڈیاسے امیدوار یا سیاسی جماعت کے ادا شدہ اشتہارات پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات بھی مانگی ہیں، ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کو دی جانے والی کوریج پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس پابندی کا مقصد ووٹرز کو کسی بھی قسم کے اثر و رسوخ سے “محفوظ” کرنا اور انہیں آزادانہ انتخاب کا موقع دینا ہے۔ انتخابات کی نگرانی کرنے والی ایک غیر سیاسی تنظیم فیفین نے اس پابندی کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ ایگزٹ پول کا استعمال پولنگ کے دن کسی مخصوص امیدوار یا سیاسی جماعت کے بارے میں تاثر پیدا کرنے اور نتائج کو متاثر کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

فیفین نے کہاکہ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان اب بھی ایگزٹ پولز کے تصور سے دوچار ہے۔ 1960 کی دہائی کے اواخر سے، جب ایگزٹ پول پہلی بار متعارف کرائے گئے تھے، پولسٹر اس بات کا ابتدائی اشارہ دے رہے ہیں کہ انتخابات کیسے ہوئے ہیں۔ انہیں انتخابی دھاندلی پر جانچ پڑتال کے طور پر استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اس کے نتائج کے درمیان بہت بڑا فرق ہے اور سرکاری نتائج انتخابات کی ساکھ پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا سکتے ہیں۔

تاہم ، انتخابات کتنے آزاد، مصنفانہ اور شفاف ہوئے ہیں اس کا اندازہ لگانے کیلئے ایگزٹ پول ایک اہم ذریعہ ہے۔جس پر مکمل پابندی عائد کرنے کے بجائے الیکشن ریگولیٹرز کو ان کو ریگولیٹ کرنے کے لیے گائیڈ لائنز جاری کرنی چاہئیں۔

Related Posts