موجودہ دور میں مسلمانوں، ہندوؤں اور مسیحیوں سمیت دیگر مذاہب کے ماننے والوں کیلئے ایک ہی ملک میں ایک ساتھ رہنا جتنا دشوار ہوتا جارہا ہے، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
الہامی مذاہب کے ماننے والوں میں عموماً جو ہم آہنگی پائی جاتی ہے وہ اس لیے ہے کیونکہ ان کے مذاہب کی تعلیمات آپس میں ملتی جلتی ہیں۔ مثال کے طور پر مسلمان جتنا قرآنِ پاک کا احترام کرتے ہیں، اتنا ہی مسیحیوں کی انجیلِ مقدس اور یہودیوں کی توراتِ مقدس کیلئے بھی ان کے دلوں میں موجود ہے کیونکہ یہ سب کتب اللہ کے کلام کی حیثیت رکھتی ہیں۔
دوسری جانب مسیحی خوب سمجھتے ہیں کہ مسلمان جس خدا کو مانتے ہیں ان کی مقدس کتاب میں اسی کا کلام موجود ہے اور چونکہ مسلمان ان کی کتاب کا احترام کرتے ہیں، اس لیے جواباً مسیحیوں کی جانب سے بھی خیر سگالی کے جذبات ایک فطری ردِ عمل کہے جاسکتے ہیں جس پر کسی کو حیرانی نہیں ہوتی۔
تاہم موجودہ دور میں جس قسم کی شدت پسندی جنم لے رہی ہے، وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ابھی حال ہی میں جڑانوالہ میں مشتعل ہجوم نے توہینِ مذہب کے الزامات پر خوب توڑ پھوڑ کی اور مسیحیوں کے گرجا گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی گئی۔
بھارت میں مسلمانوں کی مساجد محفوظ نہیں جنہیں ہر گزرتے روز کے ساتھ نذرِ آتش اور مسمار کیا جارہا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شاید بھارت میں کوئی ایک کونہ بھی ایسا نہ بچے جہاں کوئی مسلمان سکون سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکے۔
یہ انتہائی ناقابلِ قبول صورتحال ہے تاہم پاکستان جیسے اسلامیہ جمہوریہ کہلانے والے ملک میں جہاں لوگوں کی بڑی تعداد اسلام کو مانتی ہے عوام کا مشتعل ہو کر مسیحیوں کی عبادت گاہوں پر حملہ آور ہونا انتہائی خطرناک رجحان ہے۔
خاص طور پر اس وقت جب ہم پاکستان میں رہ رہے ہیں، ہم پر اسلام بھی یہ لازم کرتا ہے کہ حکومت کے قانون کو تسلیم کریں اور قانون کے تحت ملزمان کے خلاف مقدمات کا اندراج بھی عمل میں لایا جاچکا ہے۔ تاہم جب پولیس انہیں گرفتار کرنے پہنچی، وہ فرار ہوچکے تھے۔
اگر چند مسیحی نوجوانوں نے توہینِ اسلام کی تو اس کی سزا پوری مسیحی برادری کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟ عبادت گاہوں میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنے کے متعلق خود اسلام کا نقطۂ نظر یہ کہتا ہے کہ اگر آپ کسی کی مذہبی عبادت گاہ کا احترام نہ کرتے ہوئے وہاں توڑ پھوڑ کریں گے تو آپ کی مساجد بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گی۔
اسلام کا یہ کہنا کہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے خداؤں اور مقدس ہستیوں کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ جواباً تمہارے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی توہین کے مرتکب ہوسکتے ہیں، ایسے افراد کیلئے ایک سبق ہے جس پر ہر مسلمان کو عمل پیرا ہونا چاہئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں