یومِ آزادی ہو، عید ہو یا کوئی اور خوشی کا دن، بعض اوقات عوام الناس فرطِ جذبات سے مغلوب ہو کر ہوائی فائرنگ سمیت ایسے واقعات کا شکار ہوجاتے ہیں جوخوشی کو ماتم میں تبدیل کردیں۔
مثال کے طور پر پاکستان کے 76ویں یومِ آزادی کے موقعے پر کراچی میں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ 85 زخمی ہوئے۔ ایس ایچ او جمشید کوارٹرز نے پیر کے روز کہا کہ 25 سالہ خاتون اہلِ خانہ کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سفر کر رہی تھی کہ اسے پیپلز چورنگی پر نامعلوم سمت سے گولی لگ گئی۔
خاتون جانبر نہ ہوسکی۔ اسی طرح ایس ایچ او بغدادی غلام یاسین کا کہنا ہے کہ لیاری میں گھر کی چھت پر ایک شخص جو سو رہا تھا، اندھی گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا جبکہ ہوائی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کی تعداد 80 سے زائد رہی۔
یہ تمام تر اعدادوشمار صرف کراچی کے ہیں جبکہ ملک بھر کے مختلف دیگر شہروں میں بھی ہوائی فائرنگ اور دیگر حادثات کے نتیجے میں درجنوں افراد جاں بحق جبکہ سیکڑوں زخمی ہوجایا کرتے ہیں جن کی خبر میڈیا پر دیکھنے کو نہیں ملتی۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر کیے گئے ایک دعوے کے مطابق پاکستان میں ہر یومِ آزادی کے موقعے پر ہزاروں حادثات ہوتے ہیں۔ رواں برس بھی 1 ہزار 659 کار ایکسیڈنٹ ہوئے اور پنجاب کے 37 اضلاع میں 17 افراد جاں بحق جبکہ 1 ہزار 773 زخمی ہوئے۔
ہوسکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر کیے گئے اس دعوے میں کوئی حقیقت نہ ہو، لیکن ملک کے چاروں صوبوں میں یومِ آزادی کے موقعے پر حادثات، ہوائی فائرنگ اور دیگر واقعات میں انسانی جانوں کا ضیاع کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
یہاں کہنا یہ مقصود ہے کہ انسانی جان چاہے ایک ہی کیوں نہ ہو، اس کا ضیاع ملک کیلئے عظیم نقصان سے کم نہیں کیونکہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہوتا ہے۔
ضروری ہے کہ ہم من حیث القوم ایسے واقعات کے تدارک کیلئے مل بیٹھ کر سوچیں اور کوئی ایسی حکمتِ عملی تشکیل دیں کہ ایسے واقعات کم ہوتے ہوتے بالکل معدوم اور ختم ہوجائیں۔
سب سے پہلے تو ہمیں اپنے رویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی خوشی کا موقع ہے تو اپنی خوشی کے اظہار کیلئے ہوائی فائرنگ کی بجائے کچھ خرید کر تقسیم کریں یا پھر گھر پر مہمانوں، دوستوں اور عزیزوں کو دعوت دے کر ان سے بات چیت کریں۔
ایسے مواقع پر جب ہمیں تعطیل کا بھی موقع ملتا ہے تو ضروری ہے کہ ایسے لوگوں سے بھی رسم و راہ بڑھائی جائے جن سے عام دنوں میں گفتگو کا موقع میسر نہیں آتا۔ کجا یہ کہ ہوائی فائرنگ اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں وقت گزارا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں