پاکستان میں چائلڈ لیبر کا بڑھتا ہوا رجحان بڑے پیمانے پر جاری ہے، اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔ اگرچہ بچوں کو گھروں میں کام کے طور پر ملازمت پر رکھنا افسوسناک ہے، لیکن ان کی طرف سے مسلسل جسمانی اذیت اور جذباتی دباؤ کو نوٹ کرنا اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔
گزشتہ چند مہینوں کے دوران، ملک بھر سے گھروں میں کام کرنے والی کم سن بچیوں کے ساتھ جسمانی زیادتی، تشدد اور یہاں تک کہ موت کے حوالے سے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ پہلے واقعے میں دس سالہ بچی رضوانہ کو سول جج کی اہلیہ نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ معصوم بچی کو شدید چوٹیں آئیں اور وہ تاحال زیر علاج ہے۔
ایک اور واقعہ اس وقت پیش آیا جب سندھ کے قصبہ رانی پور میں ایک مقامی بااثر شخص کے گھر ایک کمسن بچی فاطمہ پراسرار طور پر جاں بحق ہوگئی۔ تشدد کا نشانہ بننے کے بعد لڑکی شدید غمزدہ تھی اور اچانک دم توڑ گئی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے سستی کا مظاہرہ کیا لیکن آخر کار مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔ کچھ دن قبل اسلام آباد میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی ایک اور لڑکی کو اس کی خاتون مالکن نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
اگرچہ اصل اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، لیکن تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ چائلڈ لیبر پاکستان بھر میں رائج ہے اور اس میں لڑکوں کے مقابلے کم عمر لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے، اس طرح کے بہت سے خاندان ہیں جن کے گھروں میں بچے ملازمت کے امور انجام دے رہے ہیں، یہ ایسا عمل ہے جس کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے اور اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
بچوں کو اکثر ان کے والدین کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں اور انہیں اس کی معمولی آمدنی ہوتی ہے۔ یہ بچے خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں جن کے کام کا کوئی وقت نہیں ہوتا، خراب حالات میں رہتے ہیں، جیسے فرش پر سونا، چھٹیاں نہیں، اور یہاں تک کہ اپنے اہل خانہ سے ملنے کی اجازت سے انکار کردیا جاتا ہے۔ بچے زبانی، جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں، اکثر ان کے مالکوں عام طور پر بااثر یا جاگیردار افراد کی جانب سے مار پیٹ اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
قانونی چارہ جوئی کا فقدان ہے، قوانین پر موثر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ اگرچہ پاکستان اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن (UNCRC) کا دستخط کنندہ ہے، لیکن اس معاہدے کی توثیق نہیں کی گئی۔ لیبر اور تعلیم کا فریم ورک ہم آہنگ نہیں ہے اور گھریلو چائلڈ لیبر کو ختم کرنے کی پالیسیوں میں بہت بڑا خلا موجود ہے۔ سیاسی عزم کا فقدان اور اس لعنت کو ختم کرنے کی اہمیت پر زور نہیں دیا جاتا۔
پاکستان کو گھریلو چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ایک واضح روڈ میپ کی ضرورت ہے۔ یہ عمل بچوں پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے اور اسے روکنا ضروری ہے۔غربت، نسلوں سے چلا آتا ہوا سلسلہ اور پسماندہ خاندانوں میں بیداری کی کمی اس طرح کے طریقوں کو فروغ دیتی ہے۔ جب تک ہم ان قدیم طرز عمل سے نفرت کرنے والا معاشرہ تشکیل نہیں دیتے، رضوانہ اور فاطمہ جیسی بے شمار معصوم جانیں عذاب میں مبتلا رہیں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں