یہ بجلی چور افسران

تازہ ترین

تازہ ترین

بدترین اووربلنگ، تاریخ کی مہنگی ترین بجلی اور غریب عوام کے خرچے پر اشرافیہ اور افسر شاہی کی مفت بجلی کی ناجائز سہولتوں کیخلاف ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں عوام سراپا احتجاج ہیں۔

ن لیگ کی قیادت میں پی ڈی ایم پلس کی اتحادی حکومت نے جاتے جاتے بجلی کی قیمت میں اضافے کے ساتھ بجلی بلوں میں جو طرح طرح کے بھاری ٹیکس شامل کیے، اس کا نتیجہ پوری قوم میں شدید بے چینی، اضطراب اور پریشانی کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔

مشکل فیصلوں کے عنوان سے بڑی آسانی سے اشرافیہ کو بچا کر تمام تر بوجھ عوام اور کاروباری کمیونٹی پر منتقل کرنے کی عاقبت نا اندیشانہ پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب عوام ریاست اور حکومت کے اخراجات کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے دیوار سے جالگے ہیں اور ان میں مزید کسی بوجھ کو اٹھانے کی سکت اور طاقت نہیں رہی ہے۔

اس سنگین صورتحال نے عوام کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے اہلکاروں، دفاتر اور تنصیبات پر حملوں کے ساتھ ساتھ بجلی بلوں کو نذر آتش کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جو آہستہ آہستہ ملک گیر مہم کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ مساجد سے اعلانات کیے جاتے ہیں کہ بلوں کی ادائی سے انکار کیا جائے اور بلوں کوآگ لگا دی جائے۔ یہ سلسلہ آزاد کشمیر سے شروع ہوا، اب سوات، ایبٹ آباد سے لیکر پنجاب اور کراچی تک ہر جگہ لوگ اسی کو مسئلے کا واحد حل سمجھ کر میدان میں نکل رہے ہیں۔

معاشی ابتری نے پہلے ہی ملک کو بری طرح تباہی کی دلدل میں دھنسا رکھا ہے، اب بجلی کی گرانی اور بھاری بھرکم بلوں کی وجہ سے ملک سنگین سیاسی، سماجی اور انسانی المیوں اور بحرانوں کی طرف بھی تیزی بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
دنیا میں ہر جگہ یہی اصول رائج ہے کہ صارف کو جو سروس، خدمت اور شئے فراہم کی جاتی ہے، بل میں اسی کی قیمت اس سے وصول کی جاتی ہے، مگر پاکستان میںنکمے، نکھٹو اور مفت کی عیاشیوں کی عادی ہڈ حرام مقتدر اشرافیہ نے ایسا جنگل کا قانون رائج کر دیا ہے کہ یہاں کرے کوئی، بھرے کوئی کے مصداق عوام کو ایک سہولت دی جاتی ہے تو اس کے بدلے میں ان سے دسیوں ”بادہ ناخوردہ“ اور ایسی ایسی خدمات اور سہولتوں کی قیمت وصول کی جاتی ہے، جو انہوں نے خواب میں بھی نہیں دیکھی ہوتیں، جبکہ یہ سہولتیں جن کے گھروں کی باندی ہوتی ہیں، وہ ان کی کوئی قیمت ادا نہیں کرتے۔

بجلی بلوں میں اپنائی جانے والی اسی ظالمانہ، غیر منصفانہ اور یکسر ناجائز پالیسی نے پورے ملک میں ایک سنگین انسانی المیے کو جنم دیا ہے۔

اگرچہ بجلی فی یونٹ بھی اس وقت بہت مہنگی ہے، مگر بات صرف استعمال شدہ یونٹس کی قیمت چارج کرنے کی ہوتی تو اتنے بڑے مسائل پیدا نہ ہوتے، دراصل مسائل بجلی کے بلوں میں شامل دسیوں دیگر بجلی سے بالکل غیر متعلق چیزوں، سروسز کی قیمت اور بھاری ٹیکسوں نے پیدا کر رکھے ہیں، جو سراسر ظلم، زیادتی، ناجائز اور حرام ہے۔

ایک چیز کے بل میں آخر دوسری اشیاءکی قیمت کس اصول کے تحت شامل کی جاسکتی ہے؟ کیا یہ ریاستی طاقت کا انتہائی جابرانہ اور ظالمانہ استعمال نہیں ہے؟ آخر یہ کون اس قدرظالم اور بے رحم لوگ ریاست پر مسلط ہیں، جو ریاست کی طاقت کو عوام پر ہر طرح کا ظلم و جور روا رکھنے کیلئے بروئے کار لا رہے ہیں؟

اس بدترین ظلم کیلئے ایک ہی بہانہ ہے کہ معیشت تباہ ہے، آئی ایم ایف کے قرضوں کی واپسی کا دباو ہے، مگر سوال یہ ہے کہ آخر کب تک اس بہانے کی آڑ میں عوام پر بوجھ ڈالا جاتا رہے گا؟ کیا مسئلے کا یہی ایک حل ہے؟

کسی پر بھی بوجھ اس کی برداشت دیکھ کر ڈالا جا سکتا ہے، برداشت سے زیادہ کسی پر بوجھ ڈالنا ظلم اور ناروا ہے اور اس وقت ریاست عوام پر یہی ظلم روا رکھے ہوئے ہے، جس کیخلاف اب عوام تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق بجا طور پر میدان میں نکلے ہیں۔
“کرے کوئی، بھرے کوئی” کا یہ ناروا اصول عوام کی زندگی اجیرن کر چکا ہے، عوام اب مزید آئی ایم ایف کے ان قرضوں کی واپسی میں حصہ شامل کرنے سے قاصر ہیں، جوعوام کے بجائے ملک کے سیاہ و سفید پر قابض دو فیصد مراعات یافتہ مقتدرہ اور اشرافیہ کے اسراف و تبذیر اور بے حساب عیاشیوں کیلئے لیے گئے ہیں اور لیے جا رہے ہیں۔

اب عوام میں یہ بھی زیر بحث ہے کہ مفت خوری کی عادی افسر شاہی اور اشرافیہ بھی ملک کو گھیری ہوئی معاشی مشکلات کا کچھ حصہ اٹھائے۔

بجلی کے بحران کا ایک بڑا سبب لائن لاسز اور گردشی قرض بتایا جاتا ہے، مگر اس پر آج تک بات نہیں کی گئی کہ بجلی کی مد میں جو لاسز درپیش ہیں، ان میں مختلف اداروں کے لاکھوں سرکاری افسران “مالِ مفت، دلِ بے حم” کے مصداق مفت بجلی کی سہولت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بجلی کا جو بے دریغ استعمال کرتے ہیں، اس کی شرح اور تناسب کیا ہے اور یہ کس قدر عوام کی جیبوں اور بجلی کی قیمت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ صرف ایک سال کے دوران صرف ایک ہی محکمہ واپڈا کے ملازمین نے 8 ارب 19 کروڑ روپے مالیت کی بجلی مفت اڑائی۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے عدلیہ سے لیکر فوج تک تمام اداروں کے مفت بجلی کی سہولت حاصل کرنے والے افسران کے بجلی اخراجات کا اندازہ لگایا جائے تو بات کہاں سے کہاں تک جا پہنچتی ہے۔

مفت بجلی کی سہولت کا بڑا نقصان یہ ہے کہ مفت کی چیز کا احساس نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ اس سہولت کے نتیجے میں بجلی کے بے تحاشا غیر ضروری استعمال اور انتہائی اسراف کی سامنے آنے والی ہوشربا داستانیں الگ سے قوم میں اضطراب، احساس بے چارگی اور اشتعال کو جنم دے رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر میپکو ملتان کے ایک افسر کا ایک مہینے کا بِل وائرل ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ “افسر بہادر” کے 1547 استعمال شدہ یونٹس کا بِل صرف ایک ہزار پچپن روپے ہے، جبکہ ایک عام شہری کو اتنے یونٹس کا بل 86343 روپے پڑتا ہے۔ قیاس کن زِگلستانِ من بہارِ مرا۔

یہ بدترین طبقاتی تفریق اووربلنگ سے پیدا ہونے والی شدید بے چینی کو انارکی، فساد اور انتشار میں تبدیل کرسکتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ منصفانہ اور متوازن پالیسیوں کے ذریعے آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے اور عوام پر اتنا ہی بوجھ ڈالا جائے، جتنی ان کی طاقت اور گنجائش ہے۔

سارا دن ٹھنڈے دفاتر میں منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے ہڈ حرام سرکاری افسران کی عیاشیوں، لمبی چوڑی مراعات اور بجلی چوریوں کی ایک غریب، معاشی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑی اور مقروض قوم کسی صورت متحمل نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ عوام کے ٹکے کا بھی کوئی کام نہ کرنے والے ان بجلی چور افسران کی عیاشیوں کی قیمت قوم اپنا پیٹ کاٹ کر ادا کرتی رہے۔ یہ گھر پھونک تماشا اب ہر صورت ختم کرنا ہوگا۔

Related Posts