بجلی کے بھاری بھرکم بلز پر احتجاج

تازہ ترین

تازہ ترین

ملک کے مختلف شہروں میں بجلی کے بھاری بھرکم بلز کے خلاف مظاہرے حکومت کے قابو سے باہر ہوچکے ہیں جن کے سرکاری نظامِ اقتدار پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

مختلف شہروں میں عوام اورمشتعل شہری احتجاجی مظاہروں کے دوران بلز جلا رہے ہیں اور حکومت کے خلاف شدید تاثرات کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ عبوری حکومت اس تمام تر صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے۔

عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل چکی ہے جو مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں بشمول واپڈا اور کے ای کے عملے پر تشدد بھی کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے یہ ارادہ بھی ظاہر کیا کہ اس بار وہ بل ادا نہیں کریں گے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی اتنی مہنگی ہوچکی ہے کہ بلز ان کی تنخواہوں سے بھی بڑھ گئے جن کی ادائیگی کیلئے اپنے اثاثوں کو فروخت کرنا پڑے گا اور اپنی انتخابی مہم چلانے سے قبل کئی سیاسی جماعتیں عوامی احتجاج کا حصہ بن چکی ہیں۔

جماعتِ اسلامی نے اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کیا تو درجنوں کارکنان گرفتار ہو گئے۔ پی پی پی نے عوامی تحریک کی رفتار بڑھتے ہی احتجاج کا اعلان کردیا جبکہ عوام بھی مزید ٹیکسز کا بوجھ نہ اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے احتجاج کیلئے تیار ہیں۔

تاجر برادری بھی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور حکومت کو بلز میں کمی نہ کرنے کی صورت میں کاروبار بند کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔ مظاہروں کے باعث نگران وزیر اعظم نے ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا۔

تاہم نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی زیرِ صدارت اجلاس میں بجلی کے بلز پر ریلیف دینے کے طریقہ کار پر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج کیلئے قوم کو یہ شدید ترین مہنگائی سہنی پڑ رہی ہے۔

دوسری جانب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے اہلکاروں کو بجلی کی مفت فراہمی بند کردی گئی، حالانکہ اشرافیہ کو اب بھی بڑے پیمانے پر فوائد حاصل ہیں اور بجلی کے چارجز یقینی طور پر اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

بہت سے شہریوں کو بجلی کی قیمت 42سے 52روپے فی یونٹ تک ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ بجلی کے نرخوں کے ساتھ ساتھ سرکاری چارجز اور ٹیکسز کے باعث بلز میں بے تحاشا اضافہ نوٹ کیاجارہا ہے اور یہ صورتحال کشیدہ ہوتی جارہی ہے۔

بلاشبہ بجلی کے نرخوں میں اضافے اور بھاری بھرکم بلز کے خلاف احتجاج کے نتائج دور رس ہوسکتے ہیں۔ عوام کا بے سمت احتجاج حکومتیں گرانے اور انقلابات کو ہوا دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔

حکومت کو چاہئے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے بجلی کے بلز سے غیر ضروری ٹیکسز کا نفاذ ختم کرے تاکہ عوام کو سانس لینے کیلئے درکار جگہ میسر آسکے کیونکہ اگر اس مسئلے کا تدارک نہ کیا گیا تو حالات کسی بھی وقت قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔

Related Posts