تازہ ترین

تازہ ترین

چینی دفتر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ 9 ستمبر کو بھارت میں ہونے والی جی 20 سمٹ میں چینی صدر شی جنگ پنگ شرکت نہیں کریں گے۔ ان کی جگہ چینی وزیر اعظم لی قوان چینی ڈیلی گیشن کی قیادت کریں گے۔ یاد رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ جی 20 سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے۔ باور کیا جاتا ہے کہ روسی صدر آئی سی سی کے وارنٹ کی وجہ سے عالمی سفر نہیں کرتے۔ مگر جی 20 کے تناظر میں یہ بات یوں غلط ہے کہ بھارت آئی سی سی کے وارنٹ کی تعمیل کروانے کا پابند ہی نہیں۔ وہ روم سٹیچو کا ممبر نہیں۔

اگر غور کیا جائے تو حالیہ عرصے میں عالمی سیاست کی سب سے مؤثر شخصیات روس اور چین کے صدور ہی ہیں۔ ہم اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ان دونوں صدور کا دائرہ اثر عالمی منظرنامے پر امریکی صدر سے کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ اس کا پہلا اظہار یوکرین کی جنگ کے نتیجے میں لگنے والی امریکہ اور مغرب کی پابندیوں کے ردعمل کی صورت دیکھا جاسکتا ہے۔ اس جنگ کے بعد سے امریکی صدر کا دائرہ اثر صرف یورپ، انگریزی بولنے والے ممالک، اور جاپان و جنوبی کوریا تک رہ گیا ہے۔ لطف کی بات تو یہ ہے کہ روسی تیل پر لگنے والی پابندی سے امریکہ کے جاپان جیسے اتحادی نے بھی اسٹثناء حاصل کرلیا تھا۔

امریکی صدر کے بے اثر ہونے کا دوسرا بڑا اظہار ہم نے اوپیک پلس کے اقدامات کی صورت دیکھا۔ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں پر پچھلے چالیس سال سے امریکہ کا کنٹرول رہا ہے۔ اس نے چاہا کہ قیمتیں نیچے رہیں تو نیچی رہیں، اس نے چاہا کہ اضافہ ہو تو اضافہ ہوگیا لیکن اب ایسا نہیں۔ پچھلے دو سال کے دوران سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے تیل کی پیداوار کے حوالے سے موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کے تمام مطالبات ردی کی ٹوکری میں پھینکے اور تیل کی پیداوار میں اپنی مرضی کی۔ محمد بن سلمان کی منشا ہی اوپیک پلس کی منشا رہی۔

عام طور پر تاثر یہ ہے کہ آج کے انسانوں میں امریکی صدر دنیا کا سب سے علیم و خبیر شخص ہوتا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس نظام اسے روز ناشتے پر تازہ مخبریاں ہی نہیں پہنچاتا بلکہ سی آئی اے تازہ ترین حالات کا تجزیہ فراہم کرکے یہ تجویز بھی دیتی ہے کہ عالمی بساط پر امریکی صدر کی اگلی چال کیا ہونی چاہئے؟ لیکن اگر ہم صرف یوکرین کی جنگ کے نتائج ہی دیکھ لیں تو یہ سارا بھرم زمین بوس ہوچکا۔ یہ کوئی سربستہ راز نہیں کہ 2015ء سے امریکہ اور یورپ یوکرین میں ایک بڑی فوج کھڑی کررہے تھے۔ ابھی اس فوج نے مطلوبہ عددی و حربی استعداد بھی حاصل نہ کی تھی کہ روس نے حملہ کردیا۔ مگر اس کے باوجود فروری 2022ء تک یوکرین کی فوج یورپ کی دوسری بڑی فوج بن چکی تھی۔ اس فوج کو کھڑا کرنے کے بعد امریکہ نے یوکرین کو نیٹو ممبر بنا کر اپنا فوجی اڈہ بھی یوکرین میں قائم کرنا تھا۔ جس سے واضح ہے کہ یوکرین میں جنگ تو ہونی ہی تھی۔ فرق بس یہ پڑا ہے کہ جنگ امریکی خواہش و منصوبے سے بہت پہلے چھڑ گئی جس سے ان کا سارا پلان دھرے کا دھرا رہ گیا۔

اگر ہم فروری 2022ء کے بعد کے واقعات کا مشاہدہ کریں تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ یوکرین کی جنگ وقت سے پہلے چھڑنے کے باوجود امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یقین تھا کہ فتح انہی کی ہوگی۔ ان کی مزعومہ فتح میں ان کے خیال سے کلیدی کردار ان کی روس پر لگائی گئی پابندیوں نے ادا کرنا تھا۔ لیکن ان پابندیوں کا جو نتیجہ نکلا اس نے مغربی اتحاد کو ششدر کر ڈالا ہے۔ تاریخ کی سب سے بدترین پابندیوں کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یورپین معیشتیں تباہی سے دوچار ہیں۔ یورپ کا سب سے بڑا صنعتی ملک جرمنی ڈی انڈسٹرالائزیشن کے دور سے گزر رہا ہے اور کئی یورپی ممالک کو ریسیشن کا سامنا ہے۔ اس کے بالکل برخلاف روسی معیشت دنیا کی ٹاپ معیشت ہے۔ عالمی معیشتوں پر نظر رکھنے والے ماہرین پیشنگوئی کر رہے ہیں کہ روسی معیشت اگلے سال دنیا کی چھٹی بڑی اکانومی ہوگی۔ جبکہ یہی روس 2021ء میں تیرھویں نمبر پر تھا۔

صرف یہی نہیں بلکہ 2021ء میں دنیا کی تیسری بڑی معیشت رہنے والا جرمنی 2024ء میں ساتویں، فرانس چھٹے سے دسویں، برطانیہ ساتویں سے نویں، جبکہ اٹلی اور اسپین ٹاپ 10 سے ہی آؤٹ ہوجائیں گے۔ کیا یہ سب یوکرین کی جنگ کا نتیجہ ہے؟ نہیں، یہ صرف ان پابندیوں کا نتیجہ ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس پر لگائیں اور ردعمل میں روس نے یورپ کو اس گیس کی فراہمی بند کردی جو ان ممالک کو مل بھی بہت سستی رہی تھی۔ نتیجہ یہ کہ بجلی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں اور یورپین کارخانوں کے لئے چلنا محال ہوگیا۔اگر یہ پابندیاں نہ لگی ہوتیں تو عالمی معیشت پر صرف تیل کی قیمتوں سے ہی تھوڑا بہت اثر پڑتا۔ روسی معیشت اب بھی اپنی پرانی حالت میں ہوتی۔ اس کی معیشت کو تو گیس اور تیل کا رخ موڑنے کا ثمر ملا ہے اور یہ موقع روس کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ہی پابندیاں لگا کر فراہم کیا ہے۔

یوکرین کی جنگ اگر ختم بھی ہوجائے تو روس یورپ کو اب سستی گیس والی عیاشیاں نہیں کرائے گا۔ وہ اپنے نئے قابل بھروسہ ایشین گاہکوں کو چھوڑ کر یورپ کی طرف نہیں جائے گا۔ اور یہ بات اگر کسی کو سمجھ نہیں آرہی تو برکس کے رخ پر ہونے والی پیش رفت کا بغور جائزہ لے لے۔ برکس نے حال ہی میں اپنے ساؤتھ افریقہ سمٹ میں میں چھ مزید ممالک کو ممبرشپ دی ہے۔ ان ممالک میں سعودی عرب، ایران، یو اے ای، ارجنٹائن، ایتھوپیا، اور مصر شامل ہیں۔ کیا آپ کو ان ممالک میں کوئی گورا ملک نظر آتا ہے؟ گوروں کو ممبرشپ دینا تو دور کی بات، جنوبی افریقہ والے سمٹ میں فرانس نے صرف تماش بین کی حیثیت سے مدعو کرنے کی درخواست دی تھی جو رد کردی گئی۔

ایسے میں یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ روسی صدر ویلادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جنگ پنگ اسی ہفتے بھارت میں منعقد ہونے والی جی20 سمٹ میں شرکت کے لئے کیوں نہیں جا رہے؟ پیوٹن اور شی جنگ پنگ کا برکس اس وقت جی 7 سے بھی زیادہ طاقتور اتحاد بن چکا تو جی 20 کی اب ان کی نظر میں کیا حیثیت؟ جی 20 اب دن بدن غیر اہم ہوتے ہوئے جلد تحلیل ہوجائے گا اور جی 7 کی حیثیت امریکہ کے چمچہ ممالک کے اتحاد سے زیادہ کچھ نہ ہوگی۔ اس پوری صورتحال میں جس چیز کی اہمیت سب سے زیادہ ہے وہ ڈالر کی اجارہ داری کا خاتمہ ہے۔ جس کی منزل بہت تیزی سے قریب آرہی ہے۔ برکس ممالک ابھی سے ڈالر میں لین دین ترک کرچکے۔

ہم نے چار پانچ سال قبل عالمی منظرنامے کا مستقبل بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 21 ویں صدی ایشیا کی صدی ہوگی۔ دنیا کے مسائل کا حل مغرب کی بجائے ایشیا میں تلاش ہوگا اور دنیا کا رخ بھی ایشیا سے طے ہوگا۔ چنانچہ ہم دیکھ چکے کہ مشرقی وسطی کا شیعہ سنی تنازعہ اس خاموشی سے بیجنگ میں طے ہوا کہ سی آئی اے کو علم ہوسکا اور نہ ہی ایم آئی سکس کو۔ جبکہ یہ طے ہے کہ اسرائیل اور عرب ممالک کا معاملہ بھی بالآخر بیجنگ ہی آئے گا۔ دنیا بدل رہی ہے اور بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔ آخر میں امریکہ کے پاس حل کرنے کے لئے یہی مسئلہ رہ جائے گا کہ کھسروں کے حقوق کا کیا کرنا ہے؟ وہاں مردوں کو عورت بننے کا حق پہلے ہی دیا جاچکا ہے جس پر ایک ہنگامہ برپا ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے یہ عورت کی حدود میں دراندازی ہی نہیں بلکہ اس سے ہوگا یہ کہ عورت بننے کے شوقین عورت تو نہیں بن پائیں گے کھسرے ضرور بن جائیں گے۔ خیال برا نہیں۔ آںے والے وقت میں لبرلزم کے پجاریوں کی حیثیت عالمی منظر نامے پر ویسے بھی کھسروں والی ہی رہ جائے گی۔ تالی پیٹی اور بچہ پیدا ہونے کی سلامی وصول پائی۔ عالمی سیاست میں اب بچے ایشیا میں ہی پیدا ہوں گے!

Related Posts