سندھ میں ڈاکو راج

تازہ ترین

تازہ ترین

حکومت نے اندرون سندھ ڈاکوؤں اور ڈکیتیوں کی زد میں آنے والے علاقوں کو یکسر نظر انداز کر رکھا ہے۔ پولیس نے صوبے کے مختلف کچے کے علاقوں میں آپریشن کیے لیکن جرائم پیشہ عناصر کا قلع قمع کرنے میں ناکام رہی۔

صوبے میں عرصے سے اغوا برائے تاوان، ہائی وے پر ڈکیتیاں اور دیگر مجرمانہ سرگرمیاں تسلسل سے پروان چڑھ رہی ہیں۔ یہ مجرم ‘ہنی ٹریپنگ’ کی تکنیک اور سستی کاروں کے جھانسے دے کرسادہ لوح لوگوں کو پھانس کر انہیں اغوا کرتے ہیں۔ گزشتہ دن ایسے ہی ایک واقعے میں پنجاب سے اوباڑو میں کار خریدنے کے لیے آنے والے ٹیکسی ڈرائیور کو ان ڈاکوؤں نے اغوا کر کے قتل کر دیا۔ یہ ڈاکو اس قدر جری ہیں کہ پولیس اہلکاروں کو بھی اغوا کر چکے ہیں اور انہیں مہینوں تک یرغمال رکھا ہے، جبکہ ریاست نہایت بے شرمی سے یہ سب ہوتا دیکھتی رہی ہے اور بے حسی سے دیکھتی آ رہی ہے۔

اغواء برائے تاوان کی ان بد ترین مجرمانہ سرگرمیوں کا اقلیتی ہندو برادری بطور خاص نشانہ ہے، چنانچہ حالیہ مہینوں میں 40 سے زائد ہندوؤں کو اغوا کیا گیا اور انہیں بھاری رقم ہتھیانے کے بعد رہا کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ضلع کشمور کندھ کوٹ میں ان حالات سے شدید مایوس برادری نے احتجاج کیا اور شاہراہ بلاک کردی۔ یہ احتجاج صوبے کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گیا ہے، جس کے بعد پولیس پر کارروائی کے لیے دباؤ ہے۔ اس دباؤ کا اثر ہے کہ بارہ روز قبل اغوا ہونے والے دو مغویوں کو فوری بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

سندھ کے نگراں وزیر داخلہ حارث نواز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ امن کو یقینی بنانے کے لیے کراچی اور سندھ کے دیہی علاقوں میں آپریشن کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گھوٹکی، کشمور، کندھ کوٹ اور جیکب آباد کے اضلاع میں آپریشن کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، تاہم حکومت نے ابھی تک ان کارروائیوں کے لیے پولیس اہلکاروں کی خدمات حاصل نہیں کی ہیں۔

مئی میں پولیس نے کئی اضلاع کے دریائی علاقوں میں آپریشن کر کے 67 ڈاکوؤں کو ہلاک اور متعدد کو گرفتار کیا، تاہم جدید اسلحہ رکھنے والے ان جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں مغلوب ہونے کے بعد پولیس کو رینجرز نے مدد فراہم کی۔ تاہم اب ایک بار پھر یہ مجرم دوبارہ منظم ہو گئے ہیں اور معصوم مقامی لوگوں کو پھر سے ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ قیام امن کے لیے ڈاکوؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ امن و امان کی صورتحال دیہی علاقوں میں ترقی اور لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے۔ پولیس کو اس سسلسلے میں کسی سیاسی دباؤ میں نہیں آنا چاہئے۔ انہیں جدید ہتھیاروں سے بھی لیس ہونا چاہیے اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ اگر اس لعنت کا خاتمہ نہ کیا گیا تو یہ خطہ غربت کی دلدل میں مزید دھنستا چلا جائے گا۔

Related Posts