پاک افغان تعلقات کی بساط

تازہ ترین

تازہ ترین

بین الاقوامی سطح پر تعلقات کی بنیاد کبھی ثقافتی و مذہبی نظریات پر نہیں بلکہ ہمیشہ قومی مفادات پر رکھی جاتی ہے جس کے نتیجے میں قوموں کے تعلقات میں عروج و زوال آتا اور چھوٹے بڑے فیصلے کیے جاتے ہیں۔

حال ہی میں پاکستان نے لاکھوں افغانیوں کو وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین چھوٹے بڑے دیگر فیصلوں کی ایک قطار لگ گئی جس سے محسوس ایسا ہوتا ہے کہ پاک افغان تعلقات کی یہ بساط کسی نئی بازی کا مشاہدہ کرنے والی ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کسٹمز رولز 2001 میں ترمیم کردی جس کے تحت پاکستان کے راستے افغانستان جانے والوں کیلئے قواعد مزید سخت کردئیے گئے ہیں۔ افغانستان جانے والے سامان پر فنانشل سکیورٹی کی شرط عائد کردی گئی۔

فنانشل سکیورٹی مجاز بینک سے گارنٹی کی صورت میں دی جاسکے گی جبکہ یہ مالی گارنٹی کم از کم ایک سال کیلئے ہوگی اور پاکستان میں کیش بھی کرائی جاسکے گی۔ نئی شرائط کا اطلاق امپورٹرز، کسٹمز ایجنٹس، بروکرز اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز پر کیا جاسکے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان نے گزشتہ کچھ دہائیوں سے افغانستان کے ہزاروں پناہ گزینوں کی میزبانی کی جبکہ پاکستان 2018 کے اعدادوشمار کے مطابق 1ہزار 437 ملین ڈالر کے تجارتی حجم کے ساتھ افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر رہا ہے۔ پاکستان نے 28 سے 40 لاکھ افغانیوں کو اپنے یہاں رہنے کی اجازت دی۔

اگر ہم علاقائی امن و استحکام کی بات کریں تو پاکستان کیلئے افغانستان کے ساتھ تعلقات ہمیشہ مغرب اور دیگر ممالک کی نظروں میں خار بن کر کھٹکتے رہے اور خود افغانستان کی جانب سے بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات میں زیادہ گرمجوشی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

خاص طور پر جنرل مشرف کے دور میں پاکستان نے امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لے کر افغانیوں کو اپنا دشمن ہی بنا لیا جس کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کا ایسا طوفان اٹھ کھڑا ہوا جو آج تک تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ٹی ٹی پی، داعش اور بی ایل اے سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں نے پاکستانیوں کا جینا حرام کردیا۔ 

حال ہی میں پاکستان نے جو اعلان کیا کہ یہاں غیر قانونی طور پر مقیم افغانی ملک چھوڑ کر یکم نومبر تک چلے جائیں، جس کے نتیجے میں درجنوں افغانی پاکستان چھوڑ کر افغانستان واپس جانے پر مجبور ہو رہے ہیں، اس پر اقوامِ متحدہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو اپنے ملک میں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی میں دشواری کا سامنا ہے تو اسے تعاون فراہم کیاجاسکتا ہے جبکہ پاکستان کو ایسے افغانیوں کی حمایت کرنی چاہئے جو وطن واپس تو جارہے ہیں لیکن انہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، تشدد اور قتل کے خدشات کا سامنا ہے۔

عالمی ادارے اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی صورتحال دگرگوں ہے اور اگر افغان شہری وہاں واپس جاتے ہیں تو انہیں شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، خاص طور پر خواتین کیلئے افغانستان کے حالات سازگار نہیں ہیں جس پر مغربی ممالک بھی طالبان پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کا مؤقف بھی سمجھنے کی ضرورت ہے جہاں رواں برس ہونے والے 24 خودکش حملوں میں سے 14افغان شہریوں نے کیے جبکہ آئی جی خیبر پختونخوا کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر ہے کہ 70فیصد  خودکش حملے جو کے پی کے میں ہوتے ہیں، ان میں افغان شہری ملوث ہیں۔

ہمارے لیے سب سے مشکل مسئلہ یہ ہے کہ ہم عام افغان شہریوں اور خود کش حملہ آوروں یا بھتہ خوروں میں فرق نہیں کرسکتے، نتیجتاً پاکستان کو تمام ہی غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کو ملک بدر کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ فیصلہ تکلیف دہ ضرور ہے تاہم اس سے امن و امان کے حالات میں بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے۔ 

Related Posts