بڑی بے حسی اور بے رحمی سے فلسطینیوں کو بھلا دیا گیا، یادوں سے مٹا دیا گیا، ان کی حالت زار کو معمولی سی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا، وہ پون صدی تک اسرائیل کی ظلم کی چکی میں پستے رہے، اس کے باوجود ان کا کوئی پرسان حال نہ ہوا، ایسے میں حماس نے اچانک حملہ کردیا، جس کے ساتھ ہی اچانک سب کو فلسطین اور فلسطینی یاد آگئے۔
فلسطینی مزاحمتی گروپ نے ہفتے کے روز بے مثال جرات و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی علاقے میں نا قابل یقین ہوائی حملے کیے اور اس کے جنگجو آہنی باڑ کو توڑ کر نہایت کامیابی سے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں داخل ہوگئے۔
یہ واقعہ تقریباً دو دہائیوں تک امریکا اور عالمی برادری کی جانب سے فلسطین کے متعلق ہر اقدام اور فیصلے میں غزہ کے 20 لاکھ سے زائد لوگوں کو نظر انداز کرنے کے بعد پیش آیا ہے، یہ بیس لاکھ جیتے جاگتے انسان ہر طرف سے اسرائیلی حصار میں گویا ایک اوپن ایئر جیل کی تعذیب سہ رہے ہیں، جس پر شہر کی تہمت لگی ہوئی ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ اسرائیلی سیکورٹی فورسز اور یہودی آباد کار فلسطینیوں کو مشتعل کرنے کے لیے تشدد کا زیادہ سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ بالخصوص پچھلے ایک سال سے، جب سے اسرائیلی تاریخ کی سب سے زیادہ نسل پرست، بنیاد پرست اور انتہائی دائیں بازو کی حکومت آئی ہوئی ہے، فلسطینیوں کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے۔ اس حکومت کے دور میں فلسطینیوں کی گھروں سے بے دخلی، ان کے گھروں کی مسماری، اجتماعی ہلاکتوں، پناہ گزین کیمپوں پر بے رحمانہ فوجی چھاپوں کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ اسرائیلی فورسز کی نگرانی میں بد مست یہودی ٹولے آئے دن مسجد اقصیٰ کی حرمت پامال کر تے دکھائی دیتے ہیں، یہ سب وہ واقعات ہیں جو مسلسل کشیدگی اور شدید اشتعال کو ہوا دے رہے تھے، یہی وجہ ہے کہ حماس کے ایک کمانڈر نے حالیہ حملے کے بعد اپنے بیان میں ان تمام واقعات کا حوالہ دیا ہے۔
اسرائیل نے اب بھلے فلسطینیوں کے خلاف اعلان جنگ کیا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ان کے خلاف 75 سال سے یک طرفہ طور پر جنگ ہی لڑ رہا ہے۔ یہ تمام خونریزی اسرائیل کی نسل پرستی کے ساتھ ساتھ امریکہ کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔
اسرائیلی حکومت کے وحشیانہ فضائی، سمندری اور زمینی فوجی محاصرے کے نتیجے میں غزہ کے 20 لاکھ لوگ قید کی زندگی گزار رہے ہیں، بھوکے ہیں اور 16 سال سے طبی امداد سے محروم ہیں۔
اسرائیل کے مسلح قبضے کی وجہ سے ہونے والے ظلم میں امریکہ کی شراکت داری پچھلے 75 سال اور حالیہ قتل عام میں براہ راست موجود ہے۔ فلسطینیوں پر تمام تر مظالم کی ذمے داری صرف اور صرف امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے جو مسلسل اسرائیل کی پشت پناہی کرکے اسے بے پروا اور خونخوار بنا چکی ہے۔ اسرائیل کی ناجائز ریاست کو غیر محدود فوجی حمایت، سفارتی تحفظ اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے آنے والے اربوں ڈالر کی نجی مالی مدد نے خطے کی مضبوط قوت بنادیا ہے، چنانچہ تمام تر حالات کی ذمے داری امریکا پر ہی عائد ہوتی ہے۔
دنیا کو امریکہ سے مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ فوری طور پر اسرائیل کی فوج کی حمایت بند کرے اور اسرائیلی قیادت کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کا جوابدہ بنائے۔
مظلوم اور محکوم ہر جگہ آزادی کے چاہتے ہیں، آزادی، تحفظ اور مساوات تمام انسانوں کا مشترکہ حق ہے اور فلسطینی بھی بطور انسان یہ حق رکھتے ہیں، ان کا یہ حق محض اس لیے دبایا نہیں جا سکتا کہ وہ کمزور ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں