مشرق وسطیٰ میں تنازع پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے، اسرائیل نے جنوبی لبنان کے اندر پانچ کلو میٹر تک فاصلے پر شدید گولہ باری شروع کر دی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ اور اسرائیلی فوج میں فائرنگ اور راکٹوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے شام میں دمشق اور حلب کے انٹرنیشنل ائیرپورٹس پر میزائل حملے کیے جس میں دو ملازمین جاں بحق ہوگئے۔
مشرق وسطی میں دفاعی اقدامات میں اضافہ، امریکا کے مقاصد کیا ہیں؟
دوسری جانب عراق میں بھی امریکی اڈے عین الاسد ائیربیس پر راکٹ حملہ ہوا جس کے بعد امریکا نے پورے مشرق وسطیٰ میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے تھاڈ اور مزید پیٹریاٹ میزائل خطے میں بھیجنے کا بھی اعلان کر دیا جبکہ مزید فوجیوں کو تعیناتی کے لیے الرٹ کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے لبنان کے وزیراعظم سے اسرائیل لبنان سرحدی کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس اسرائیل تنازع میں لبنان کو گھسیٹنے سے لبنانی عوام پر اثر پڑے گا۔
واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری ہیں، 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری میں اب تک 31 مساجد شہید ہوچکی ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی بمباری سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 266 فلسطینی شہید ہوگئے۔
اسرائیلی حملوں سے شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 4 ہزار 651 ہوگئی ہے، شہید ہونے والوں میں 40 فیصد بچے شامل ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








