کیا اسرائیلی فوج حماس کے سرنگوں کے خطرناک جال میں پھنسنے جا رہی ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

اسرائیلی افواج نے غزہ کی پٹی میں تقریباً ایک کلومیٹر تک اندر گھسنے کے ساتھ گزشتہ چند دنوں کے دوران غزہ شہر کو کئی اطراف سے گھیرے میں لے کر پٹی کے شمال کو جنوب سے الگ کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے امریکی سی این این نیٹ ورک کو بتایا کہ انھوں نے گنجان آباد شمالی غزہ کو چمٹے سے پکڑ لیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیلی فوجی حماس کے جنگجوؤں کے ساتھ شمال اور جنوب میں سینکڑوں میٹر تک لڑ رہے ہیں، لیکن اسرائیلی فورسز کو مسلسل زیر زمین سرنگوں سے حماس کے گھات حملوں کا سامنا ہے۔ ’سی این این‘ کے مطابق غزہ میں زمینی لڑائی میں اب تک 29 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

کوہستان میں این جی اوز کی خواتین ملازمین کو جبری شادی کی دھمکی دینے والے کون ہیں؟

دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے ایک پریس کانفرنس میں غزہ کے اندر شدید لڑائی کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی افواج براہ راست تصادم اور سڑکوں پر ہونے والی جنگ کے دوران آبادی والے علاقوں میں داخل ہوگئی ہیں۔

“مکڑی کا جالا”

تاہم بہت سے سکیورٹی ذرائع نے زور دے کرکہا کہ غزہ کی لڑائی اسرائیلی زمینی افواج کے لیے تفریح کا موقع ثابت نہیں ہوگی۔ حماس کی طرف سے برسوں کے دوران تعمیر کردہ سیکڑوں کلو میٹرطویل سرنگوں کے نیٹ ورک کی موجودگی اسرائیلی فوج کے لیے اصل چیلنج ہے کیونکہ ان میں سے بعض سرنگیں 80 میٹر گہرائی تک پہنچ جاتی ہیں۔ حال ہی میں غزہ میں اسرائیلی قیدی یوچیوڈ لیفشیز نے کہا تھا کہ یہ سرنگیں “مکڑی کے جالے” ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایک سیکورٹی ماہر نے انہیں “ویت کانگ کی سرنگوں سے دس گنا بڑی” یا نیشنل فرنٹ فار دی لبریشن آف ساؤتھ ویتنام کی سرنگوں کی طرح خطرناک قرار دیا۔

مغرب اور مشرق وسطیٰ کے باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حماس کے پاس مختلف قسم کی سرنگیں ہیں جو ساحلی غزہ کی پٹی کے نیچے پھیلی ہوئی ہیں۔ 360 مربع کلومیٹر غزہ کی سرحدوں کے نیچے سرنگیں حملے، اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے لیے سرنگیں بھی شامل ہیں۔

ایک مشکل چیلنج

ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ امریکا کو یقین ہے کہ اسرائیلی اسپیشل فورسز کو ایک بے مثال چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ انہیں زیر زمین یر غمالیوں کو مارنے سے گریز کی کوشش کرتے ہوئے حماس کے ساتھ لڑائی میں حصہ لینا پڑے گا۔

غزہ سرنگوں میں سے ایک
غزہ کی ایک سرنگ

اگرچہ اسرائیل نے سرنگوں کا پتہ لگانے کے ذرائع پر بہت زیادہ پیسہ خرچ کیا ہے۔ ان میں سینسرز سے لیس زیر زمین رکاوٹ بھی شامل ہے جسے اس نے “آئرن وال” کا نام دیا ہے، لیکن حماس کے بارے میں اب بھی خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس سرنگوں کا ایک مربوط نظام ہے جو اسے باہر کی دنیا سے رابطے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

حماس کے ایک سینئر رہ نما یحییٰ سنوار جنہیں اسرائیلی وزیر دفاع یو آو گیلنٹ نے قتل کی دھمکی دی ہے نے 2021ء میں لڑائی کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ حماس کی 100 کلومیٹر طویل سرنگیں تباہ کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ ہمارے پاس غزہ میں جو سرنگیں ہیں ان کی لمبائی 500 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اگر ان کی کہانی سچ ہے تو ان سرنگوں کا صرف بیس فی صد تباہ ہوا ہے۔

السنوار جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ گذشتہ ہفتے شروع ہونے والی اسرائیلی زمینی دراندازی سے قبل انہوں نے سرنگوں میں پناہ لی تھی، کے دعووں کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

لیکن اندازہ لگایا گیا ہے کہ سینکڑوں کلومیٹرتک پھیلی ہوئی سرنگوں کو بہت سے سکیورٹی تجزیہ کاروں نے بڑے پیمانے پر درست قرار دیا ہے حالانکہ محصور ساحلی پٹی کی لمبائی 40 کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہے۔

زیر زمین حرکت

دوسری طرف حماس کا خیال ہے کہ اسرائیل کی فوجی دفاعی اور عسکری برتری کے باوجود یہ سرنگیں دشمن فوج کو سرنگوں میں جانے اور وہاں پر انہیں گھیر کر نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہیں کیونکہ ان سرنگوں کے اندر راستوں اور مقامات کا علم صرف حماس کے جنگجوؤں کو ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے اس سے قبل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ شدید اسرائیلی فضائی حملوں میں سرنگوں کے بنیادی ڈھانچے کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک سابق کمانڈر امیر عویوی نے کہا کہ کئی دنوں کے ہمارے شدید حملے کے باوجود حماس کی قیادت بڑی حد تک مربوط ہے اور کمانڈ اور کنٹرول کی ہدایت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور وہ جوابی حملے کرنے کی کوشش کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔

بعض ذرائع نے سرنگوں کی گہرائی 80 میٹر تک بتائی ہے۔

Related Posts