کوہستان میں این جی اوز کی خواتین ملازمین کو جبری شادی کی دھمکی دینے والے کون ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

کوہستان میں مذہبی رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ این جی اوز میں کام کرنے والی خواتین کو عوامی سطح پر ’نا محرم مردوں‘ کے ساتھ گھومنے کی اجازت نہیں ہوگی، غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں ایسے مرد اور عورت کا نکاح کرا دیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا کے علاقے کوہستان لوئر میں 12 ارکان پر مشتمل مذہبی رہنماؤں کے ایک گروپ نے بیان جاری کیا ہے کہ اگر کوئی شادہ شدہ خاتون کسی نا محرم کے ساتھ پائی گئی تو اسے علاقے سے نکال دیا جائے گا، اگر عورت غیر شادی شدہ ہو تو اس کے ساتھ پائے جانے والے مرد کو اس سے شادی کرنی ہوگی۔

غزہ کی جنگ کا پھیلاؤ ناگزیر ہوچکا، ایران نے پھر دھمکی دے دی

دوسری طرف کوہستان کے علاقے پٹن کے اسسٹنٹ کمشنر محمد بلال نے علما کا ’اعلان‘ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس پر عمل درآمد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دریں اثنا مذکورہ علما کے گروپ میں شامل احمد علی نامی شخص نے فیس بک پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ “آج کوہستان کے علما نےمتفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ آج (4 اکتوبر) بارہ بجے کے بعد جہاں کہیں این جی اوز کی خواتین گھومتی نظر آئیں تو اگر وہ بے نکاح ہوں تو ان کے ساتھ نکاح کیا جائے اور اگر وہ نکاح والی (شادی شدہ) ہوں تو انھیں علاقے سے نکال دیا جائے۔”

نے 

اسی گروپ کے مولانا کریم داد نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر یہ دعویٰ بھی کیا کہ پٹن کے ایس ایچ او کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ مولانا کریم داد کے مطابق ‘ہم کوہستان میں غیر مذہبی کارروائیوں کی حمایت نہیں کر سکتے، این جی او کی خواتین ایسی سرگرمیوں میں حصہ لے کر ہماری روایات کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر وہ مذہبی قوانین کے مطابق کام کریں گی تو ہم ان کی حفاظت اور ان کی حمایت کریں گے، مگر ہماری رسم و روایات کی خلاف ورزی، جن کی شریعت میں اجازت نہیں، برداشت نہیں کی جاسکتی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’این جی او سے منسلک وہ خواتین جو ہماری ہدایات نظر انداز کررہی ہیں، انہیں رضاکارانہ طور پر کوہستان چھوڑنے کے بارے میں سوچنا چاہیے ورنہ ہم یا تو ان کو نکالنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں یا ان کے ساتھیوں کے ساتھ ان کی شادی کی سہولت فراہم کر سکتے ہیں، جن کے ساتھ وہ دیکھی گئی ہوں‘۔

ایک اور عالم دین مولانا فضل وہاب نے دعویٰ کیا کہ یہ فیصلہ تمام علمائے کرام نے متفقہ طور پر کیا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر پٹن نےاصرار کیا کہ علمائے کرام نے یہ فیصلہ اپنی ذاتی حیثیت میں کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشان دہی کی کہ این جی اوز 8 مہینوں سے اس علاقے میں کام کر رہی ہیں اور علما نے کبھی شکایت نہیں کی۔ اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ ’یہ بلیک میلنگ کا ایک طریقہ معلوم ہوتا ہے اور کچھ نہیں‘۔

Related Posts