پاکستان اور افغانستان دو ایسے قریبی پڑوسی ملک ہیں، جو کئی حوالوں سے باہم جڑنے کے باوجود بدقسمتی سے ریاستی سطح پر باہمی تعلقات کی زیادہ خوشگوار تاریخ نہیں رکھتے۔
ریاستی سطح پر کچھ تنازعات نے دونوں ملکوں اور قوموں کے بیچ عدم اعتماد اور نا پسندیدگی کا ایسا بیج بو دیا ہے کہ اس صورتحال کے اثرات بالخصوص افغان جانب سرکاری عمال سے لیکر عوامی سطح تک سرایت کر گئے ہیں اور ان سب اسباب و عوامل نے مل کر وہ فضا قائم کر دی ہے، جس کا نتیجہ مآلِ کار افغانستان کی طرف سے پاکستان میں مسلح دراندازی اور حملوں کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے۔
پاکستان میں اس سب کے باوجود افغانستان کے حوالے سے ریاست سے لیکر عوام تک وسعت ظرفی کا ماحول ہے۔ پاکستان نے باوجود افغان سائیڈ سے نفرت کے مظاہرے کے ہمیشہ افغانستان کو ایک بھائی کی نگاہ سے ہی دیکھا ہے، چنانچہ پاکستان کے عوام میں بھی افغانیوں کے تئیں اخوت کا جذبہ وافر پایا جاتا ہے، اس کے برعکس افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان نے افغانوں کی جانب سے ہمیشہ تحقیر، نفرت، عداوت جیسے جذبات کا ہی مشاہدہ اور تجربہ کیا ہے۔
افغانستان میں دو برس سے طالبان کی حکومت قائم ہے، افغانستان میں طالبان کی واپسی کے ساتھ امید کی جا رہی تھی کہ سرحدوں پر جھڑپیں، کشیدگی، تناو، دراندازی اور دہشت گردی و بے امنی کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور دونوں ملک سیکورٹی اور امن و امان کے مسائل پر اپنی توانائی، طاقت اور پیسہ اڑانے برباد کرنے کے بجائے امن و سکون کے ساتھ تجارت، تعمیر، ترقی اور خوشحالی کو ترجیح بنالیں گے اور تعمیر و ترقی میں باہمی تعاون کو فروغ دیں گے، مگر بد قسمتی سے ایسا نہ ہوسکا اور افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے بعد پاکستان مخالف گروہوں میں نئی جان آگئی اور انہوں نے پہلے سے زیادہ آزادی اور تحفظ کے احساس کے ساتھ افغانستان سے پاکستان میں اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں شروع کردیں۔
حالات پر نگاہ رکھنے والوں نے افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ نوٹ کیا ہے، چنانچہ دو سال کے عرصے میں افغان بیسڈ دہشت گردی میں ملک بھر میں متعدد فوجی اور غیر فوجی اہداف کو خونریز کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم گزشتہ دنوں ڈی آئی خان میں کسی ایک کارروائی میں پاکستانی فورسز کا جتنا جانی نقصان ہوا ہے، اتنا بڑا نقصان دو برسوں میں کبھی نہیں ہوا۔
پاکستان نے اس واقعے پر اور اس سے پہلے بھی ایسے ہر واقعے پر ثبوتوں کے ساتھ بجا طور پر طالبان حکومت سے احتجاج کیا ہے اور اسے ایک ریاست کے طور پر مسلمہ بین الاقوامی قوانین، اصولوں اور اخلاقیات کے مطابق اپنے کردار کے ذمے دارانہ پہلووں کی طرف متوجہ کیا ہے، مگر یکے بعد دیگرے دہشت گردی کے واقعات میں افغان بیسڈ گروہوں کے ملوث ہونے کا سلسلہ بتا رہا ہے کہ پاکستان کی بات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور پاکستان کے تحفظات دور کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی، جو بے حد افسوسناک ہے۔
یہ عجیب صورتحال ہے کہ طالبان حکومت بھی اسی دوغلے پن سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں افغان عنصر کے ملوث ہونے کا یکسر انکار کرتی ہے، جو اشرف غنی اور کرزئی کی ”جمہوری“ انتظامیہ کا طرز عمل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اب رفتہ رفتہ یہ تاثر پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ ڈبل گیم کھیلتے ہوئے دہشت گرد گروہوں کو پاکستان کیخلاف بلیک میلنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور اس معاملے میں موجودہ افغان حکومت کا کردار ماضی کی امریکی پٹھو انتظامیہ سے کسی طرح بھی مختلف نہیں ہے۔
پاکستان کی طرف سے ہر احتجاج اور شکوے پر طالبان انتظامیہ یہ کہہ کر ذمے داریوں سے چادر جھاڑ لیتی ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی کی ذمے داری ہماری نہیں ہے۔ پاکستان کے عوام اس اظہار خیال کو قطعی غیر سنجیدہ اور غیر ذمے دارانہ سمجھتے ہیں، پاکستان اپنی سیکورٹی کا مطالبہ نہیں کرتا، پاکستان کا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی افغان سرزمین سے ریگولیٹ ہو رہی ہے اور یہاں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی جڑیں افغانستان میں پیوست ہیں، جن کو قابو میں کرنا یقینا افغان انتظامیہ کی ہی ذمے داری ہے۔
پاکستان کے عوام یہ سوال پوچھنے میں بھی حق بجانب ہیں کہ آخر پاکستان پر ان حملوں کا جواز کیا ہے؟ کیا پاکستان افغانستان میں امریکا کی طرح جارحیت اور فوجی مداخلت کا مرتکب ہے جو پاکستان کو حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ ان حملوں اور انہیں کسی بھی پہلو سے ہلکا سمجھنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے، الٹا یہ واقعات دو پڑوسی مسلم ممالک کے درمیان جنگی ماحول قائم کرنے اور بے گناہ مسلمانوں کی خونریزی کا باعث بن رہے ہیں، ان کا قلع قمع کرنا ہی دین اور انسانی مصالح کا تقاضا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں