انتخابات کا موسم

تازہ ترین

تازہ ترین

انتخابات کی غیر معینہ مدت تک تاخیر کے خدشات کی فضا میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے، جو الیکشن کمیشن کی پٹیشن پر آیا، اس بات کو کلی طور پر یقینی بنادیا ہے کہ انتخابات میں اب کوئی تاخیر نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے الیکشن کمیشن کی کچھ تعیناتیوں کو معطل کرنے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔ فیصلے میں عدالت نے اپنے 3 نومبر کے حکم نامے کو دہرایا، جس میں جمہوریت کو پٹری سے اتارنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف اس کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

اس فیصلے سے پہلے انتخابات کے انعقاد کے بارے میں قیاس آرائیاں عروج پر تھیں۔ میڈیا میں مختلف سیاست دان اور مبصرین مسلسل یہ خیال پیش کررہے تھے کہ ممکن ہے انتخابات شیڈول کے مطابق نہ ہوں۔ کچھ سیاسی شخصیات دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور موسم کی خراب صورتحال کو بنیاد بنا کر الیکشن کے التوا کا ڈھکا چھپا مطالبہ کرتے بھی نظر آئیں۔

اگرچہ موسم سے متعلق عذر کو مضحکہ خیز سمجھا جا سکتا ہے، لیکن پرتشدد واقعات کے تناظر میں الیکشن کا التوا کسی حد تک معقول دکھائی دے رہا تھا، اب اگرچہ الیکشن کے متعلق تمام خدشات دم توڑ چکے ہیں، مگر دہشت گردی کا خطرہ بہرحال اب بھی موجود ہے، ایسے میں یہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ انتخابات کے کامیاب انعقاد کے لیے دہشت گردی سے پاک ماحول کو یقینی بنائے۔

لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی تعیناتیوں کو معطل کرنے کا فیصلہ پی ٹی آئی کی درخواست پر دیا تھا، پی ٹی آئی کو الیکشن ڈیوٹی پر بیوروکریٹس کی تعیناتی پر اعتراض تھا، پی ٹی آئی کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ افراد ‘دھاندلی’ میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں، حالانکہ 2018 کے انتخابات کے دوران بھی بیوروکریٹس کا تقرر کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تھی، چنانچہ پی ٹی آئی کا یہ اعتراض کوئی وزن نہیں رکھتا۔

 دوسری بات یہ ہے کہ عدلیہ اپنے عملے کو الیکشن ڈیوٹیز پر بھیجنے کو تیار نہیں ہے، ایسے میں الیکشن ڈیوٹیز کے لیے بیوروکریسی کو طلب کرنا الیکشن کمیشن کی مجبوری ہے اور یہ معقول امر ہے، اس پر اعتراض کسی طرح بھی کوئی منطقی جواز نہیں رکھتا۔ لاہور ہائی کورٹ کو سرسری طور پر سطحی سا فیصلہ جاری کرنے کے بجائے معاملے پر اچھی طرح غور کرنا چاہیے تھا۔

وقت پر انتخابات کرانے میں ناکامی کی وجہ سے ملک پہلے ہی آئینی خلا کی کیفیت سے دوچار ہے اور یہ حالت غیر معینہ مدت تک برقرار نہیں رہ سکتی۔ تمام جماعتوں کو ایسے بہانے پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے جو انتخابات کے مزید التوا کا جواز پیش کر سکیں۔

Related Posts