یمن میں حوثی ملیشیا کی خفیہ جیلوں میں خواتین پر وحشیانہ تشدد کا انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

houthi militia
یمن میں حوثی ملیشیا کی خفیہ جیلوں میں خواتین پر وحشیانہ تشدد کا انکشاف

صنعاء: یمن میں انسانی حقوق کی تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے صنعا میں متعدد عمارتوں کو خواتین کی جیلوں میں تبدیل کر دیا جہاں انہیں وحشیانہ عقوبت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انسانی تجارت کے انسداد سے متعلق غیر سرکاریمنی تنظیم نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ اسے جیلوں اور عقوبت خانوں میں زیر حراست خواتین کو درپیش وحشیانہ معاملے کے حوالے سے خوف ناک نوعیت کی مصدقہ شہادتیں موصول ہوئی ہیں۔

بیان کے مطابق ان بھیانک جرائم کے مرتکب بے رحم افراد انسانیت اور آدمیت سے عاری ہو گئے اور انہوں نے کمزور خواتین کی اذیت رسانی سے مزے لیے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ حوثی ملیشیا کی معروف قیادت کے زیر انتظام مذکورہ خفیہ جیلوں اور عقوبت خانوں میں زیر حراست خواتین کو جسمانی اور جنسی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ بعض خواتین تشدد، اذیت رسانی اور منظم طور پر تذلیل کا نشانہ بننے کے سبب بدترین نفسیاتی حالت کا شکار ہو گئیں۔ تنظیم نے ان حالتوں کی تصدیق کی ہے۔اس کے علاوہ جیلوں میں موجود متعدد خواتین نے خود کشی کی بھی کوشش کی جب کہ بعض خواتین بے رحمانہ وحشیانہ تشدد کے سبب جسمانی معذوری سے دوچار ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: فلپائن میں فان فون نامی سمندری طوفان نے 28افراد کی جان لے لی

تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان جیلوں اور قید خانوں کو بند کرانے کے لیے فوری طور پر حرکت میں آئے اور عقوبت کا نشانہ بننے والی خواتین کے لیے نفسیاتی بحالی کے پروگراموں کا انعقاد کرے۔

ساتھ ہی ان جرائم میں ملوث حوثی قیادت کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے تا کہ اس ظلم کا شکار ہونے والی خواتین کے لیے زر تلافی کی رقم حاصل کی جا سکے۔یمن میں انسانی تجارت کے انسداد سے متعلق تنظیم نے ایک سابقہ رپورٹ میں بتایا تھا کہ جبری طور پر اغوا اور روپوش کی جانے والی خواتین کی تعداد 160 سے تجاوز کر گئی ہے۔

Related Posts