غزہ: امداد کی بحالی کے نام پر گھناؤنا منصوبہ!

تازہ ترین

تازہ ترین

عالمی دباؤ کے باعث ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل نے غزہ میں محدود پیمانے پر امدادی سامان کے داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ گزشتہ روز97ٹرک وسطی غزہ پہنچا دیئے گئے۔22سے23لاکھ محصورین غزہ کے لیے اگرچہ یہ مقدار اونٹ میں منہ میں زیرے سے بھی کم ہے۔ مگر2مارچ سے مسلسل ناکہ بندی کا شکار فلسطینیوں کے لیے اسے امید کی ایک رمق قرار دیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی قابض حکام اپنی نگرانی میں امداد تقسیم کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ جس کے لیے چار مقامات پر وصولی پوائنٹ قائم کیے جا رہے ہیں اور اتوار سے براہ راست اسرائیلی فوج کی نگرانی میں فلسطینیوں میں امدادی سامان کی تقسیم شروع ہو جائے گی۔ اس منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اپنی نگرانی میں امداد کی تقسیم اس لیے کر رہے ہیں تاکہ پہلے کی طرح حماس والوں کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ اس مقصد کے لیے جس امریکی نجی کمپنی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، اس کی مسلم دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس کا مالک سابق امریکی فوجی ہے، جو فوج میں بطور اسنائپر (نشانچی) افغانستان اور عراق میں سینکڑوں بے گناہوں کے قتل میں ملوث رہا ہے۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق، اس منصوبے پر عمل درآمد میں حصہ لینے والی کمپنیوں میں سے ایک “آربِس” نامی امریکی نیشنل سیکورٹی کنسلٹنگ فرم کی ذیلی کمپنی ہے، جس کے کئی ایگزیکٹوز کے اسرائیلی وزیر برائے اسٹرٹیجک امور رون ڈرمر کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اطلاعات اور سیٹلائیٹ تصاویر سے معلوم ہوا ہے کہ رفح کے مغرب میں اسرائیل کی جانب سے بہت بڑا تعمیراتی پراجیکٹ شروع کیا جاچکا ہے، جسے امدادی کی تقسیم کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اسرائیلی فوجی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے ایک امریکی کمپنی کے تعاون سے غزہ کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں خوراک کی تقسیم کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت، اسرائیلی فوج کی نگرانی میں چار مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں ہزاروں فلسطینیوں کو خوراک فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد شمالی غزہ سے شہریوں کی جنوب کی طرف منتقلی کو فروغ دینا ہے تاکہ شمالی علاقے کو خالی کرایا جا سکے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس منصوبے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امدادی سامان پر حماس کے قبضے کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور امریکہ کے ساتھ مل کر خوراک کی تقسیم کا یہ منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
تاہم، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں خوراک، پانی اور طبی امداد کی شدید قلت ہے اور امدادی سامان کی تقسیم میں مشکلات کے باعث ضرورت مند افراد تک امداد نہیں پہنچ سکی ہے۔ جبکہ اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ امدادی سامان کی تقسیم حماس کے عسکریت پسندوں تک نہ پہنچے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ امداد کی فراہمی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور شہریوں کو بنیادی ضروریات تک رسائی دی جائے۔
اے پی نیوز ایجنسی کے مطابق غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کے لیے جو امریکی کمپنی متعین کی گئی ہے، اس کا نامGaza Humanitarian Foundation (GHF)رکھا گیا ہے۔ یہ تنظیم سوئٹزر لینڈ میں رجسٹرڈ ہے اور اس کی قیادت جیک وُڈ(Jake Wood)کر رہا ہے، جو سابق امریکی میرین ہے اور “ٹیم روبیکون” کا بانی بھی ہے، جو قدرتی آفات میں امدادی کارروائیوں کے لیے مشہور ہے۔ جیک وُڈ کوGHFکا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ ڈیوڈ برک اس کا چیف آپریٹنگ آفیسر ہے۔ وہ بھی سابق امریکی میرین فوجی اور ٹیم روبیکون کا رکن ہے۔ علاوہ ازیں یو ایس ایڈ کے سابق عہدیدار جون ایکری بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔ جو لاطینی امریکہ اور کیریبین میں45ملین ڈالر سے زائد کے منصوبوں کی قیادت کر چکا ہے۔ مارک شوارتز کوGHFکے مشاورتی بورڈ کا رکن بنایا گیا ہے، جو امریکی فوج کا ریٹائرڈ جنرل اور اسرائیل-فلسطین سیکورٹی کوآرڈی نیٹر رہ چکا ہے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابقGHFمنصوبے کے تحت غزہ کے جنوبی علاقوں میں چار امدادی مراکز قائم کیے جائیں گے، جن میں سے ہر ایک3لاکھ افراد کو خوراک، پانی، صفائی کا سامان اور ممکنہ طور پر ایندھن فراہم کرے گا۔ یہ مراکز اسرائیلی فوج اور امریکی نجی سیکورٹی کمپنیوں کی نگرانی میں کام کریں گے۔ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نےGHFکے منصوبے پر تنقید کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ انسانی امداد کو سیاسی اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ امدادی مراکز کی جنوبی غزہ میں موجودگی سے شمالی غزہ کے شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔GHFکا منصوبہ شفافیت اور فنڈنگ کے ذرائع کے حوالے سے بھی واضح نہیں ہے۔GHFکی قیادت چونکہ سابق امریکی فوجی کر رہے ہیں، اس لیے غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم میں شفافیت، غیر جانبداری اور انسانی حقوق کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اس لیے حماس بھی اس کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، اب تک سامنے آنے والے اسرائیلی منصوبوں سے ان کی تصدیق ہو رہی ہے۔ اس معاملے پر کام کرنے والے عرب اور اسرائیلی عہدیداروں کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق منصوبے کا مقصد بڑے پیمانے پر تقسیم اور ذخیرہ اندوزی کے موجودہ ماڈل سے ہٹ کر بین الاقوامی تنظیموں اور نجی سیکورٹی کمپنیوں کے ذریعے خوراک کو براہ راست غزہ کے خاندانوں تک پہنچانا ہے۔ منصوبے کے مطابق ہر خاندان کا ایک نمائندہ مقرر کیا جائے گا، جو غزہ کے جنوبی حصے میں واقع اسرائیلی فوجی سیکورٹی زون تک پہنچے گا، جہاں کئی مراحل کی جانچ پڑتال کے بعد اسے راشن مہیا کیا جائے گا، چہرے کی شناخت کا سسٹم بھی لگایا جائے گا، اس کا مقصد فلسطینی مزاحمت کاروں کی جاسوسی کرنا ہے، اس طریقہ کار کے ذریعے غزہ میں اسرائیل کے لیے جاسوس بھی بھرتی کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ہر ڈبے میں صرف چند دنوں کے لیے کافی خوراک ہوگی، جس کے بعد خاندانوں کے نمائندوں کو نئی کھیپ لینے کے لیے دوبارہ سیکورٹی زون آنے کی اجازت ہوگی۔ چونکہ فلسطینی بھوک و افلاس کے اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ وہ امداد کے حصول کے لیے مجبوراً جنوبی غزہ میں جمع ہوں گے اور ان اسرائیلی مراکز کا رخ کریں گے۔ جس کے بعد انہیں ٹرمپ پلان کے مطابق غزہ سے بے دخل کرنا آسان ہوگا۔ نتن یاہو ہر حال میں غزہ کو فلسطینیوں سے خالی کرنے پر مصر ہے۔
تنظیم برائے آزادیِ فلسطین(PLO)نے اس اسرائیلی منصوبے پر جامع ردعمل دیا ہے۔ تنظیم کے شعبہ برائے امورِ پناہ گزین نے اسے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ اسرائیل کی جانب سے اپنے قبضے کو مضبوط کرنے، اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی امدادی ایجنسی اونروا(UNRWA)یعنی ایجنسی برائے امداد و بحالیِ فلسطینی پناہ گزینان کو ختم کرنے اور بین الاقوامی اداروں کے کردار کو مفلوج کرنے کی کوشش ہے۔ منصوبہ بنیادی انسانی اصولوں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے متصادم ہے۔ امداد کی تقسیم صرف رفح شہر میں اسرائیلی فوج کے زیرِ نگرانی قائم مراکز کے ذریعے ہوگی، جو “موراج اور فلادلفیا کے محوروں” کے درمیان واقع ہیں (یہ دونوں علاقے غزہ کی جنوبی سرحد پر واقع اسرائیلی فوجی زونز ہیں)۔ کسی اور علاقے میں امداد کی تقسیم کی اجازت نہیں ہوگی اور داخلے سے قبل مکمل تلاشی لی جائے گی۔ اسرائیل اس منصوبے کے ذریعے شمالی غزہ کے شہریوں کو جنوب کی طرف ہجرت پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ وہاں سے انہیں ملک بدر کیا جاسکے۔ شمالی غزہ کو ایک ایسے بفر زون میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں کوئی رہائش نہ ہو، تاکہ اسرائیلی سیکورٹی مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ فلسطینیوں کو امداد کے بدلے فوجی دباؤ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیل نے اپنی ساکھ بہتر بنانے اور بین الاقوامی دباؤ سے بچنے کے لیے یہ منصوبہ شروع کیا ہے۔ امداد کی تقسیم اقوامِ متحدہ کی ایجنسی اونروا اور اس کے شراکت داروں کی ذمہ داری ہے۔ قابض اسرائیلی قوت جو محاصرہ کر رہی ہے، وہ اس کی مجاز نہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ فوری اقدامات کرے تاکہ فلسطینیوں کو درپیش نسل کشی کو روکا جا سکے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ اونروا کی قانونی حیثیت اور مالی معاونت کا تحفظ کیا جائے، جب تک کہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد194کی شق11کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ سیاسی طور پر حل نہ ہو جائے۔

Related Posts