اتوار 3 اگست کو قابض صہیونی حکومت کی سرپرستی میں مسجد اقصیٰ پر تاریخ کا سب سے بڑا دھاوا بولا گیا جس کی قیادت اسرائیل کے بدترین دہشت گرد وزیر برائے قومی سلامتی، ایتمار بن گویر نے خود کی۔
یہ دھاوا نام نہاد خراب ہیکل (Temple Destruction) کی یاد میں کیا گیا جسے یہودی مذہبی شدت پسندوں کا مقدس دن قرار دیا جاتا ہے۔ صبح بن غفیر نے سخت سیکورٹی حصار میں مسجد اقصیٰ کے باب المغاربہ (مغربی دروازے) سے داخل ہو کر ہزاروں انتہاپسند یہودیوں کے گروہوں کی قیادت کی جن کی تعداد 3969 تک جا پہنچی، جو مسجدِ اقصیٰ کی تاریخ میں ایک دن کے اندر سب سے بڑا حملہ ہے۔ دراصل اتوار کو دنیا بھر کے یہودی تیشا بَآو (Tisha B’Av) کا تہوار منا رہے تھے۔ دیوارِ گریہ کے سائے میں ہونے والی یہ گریہ و زاری صرف ایک مذہبی روایت ہی نہیں بلکہ تاریخی زخموں کی یاد بھی ہے۔ تیشا عبرانی زبان میں نو کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کی جڑ عربی کے تِسع سے جا ملتی ہے۔ آو عبرانی کیلنڈر کا گیارہواں مہینہ ہے۔ یہ دن یہودی تقویم کے لحاظ سے المناک ترین دن تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اسی تاریخ کو بنی اسرائیل کے دو مقدس ترین معبد مسمار کیے گئے: پہلا، ہیکلِ سلیمانی جو اہلِ بابل کے ہاتھوں برباد ہوا اور دوسرا دوبارہ تعمیر شدہ معبد جسے رومی سلطنت نے راکھ کر دیا۔
قرآن کریم نے بھی سورہ بنی اسرائیل کی آیات 4 تا 7 میں ان دونوں بربادیوں کا ذکر بڑے معجزانہ انداز میں کیا ہے جنہیں یہودی تاریخ بھی دو عظیم تباہیاں (Two Destructions) کہتی ہے۔ یہودی اس دن دیگر قومی سانحات کو بھی یاد کرتے ہیں جیسے: 1290 میں برطانیہ سے یہودیوں کی جلا وطنی۔ 1306ء میں فرانس سے اخراج۔ 1492 میں سقوطِ غرناطہ کے بعد اسپین سے نکالے جانا۔ ہولوکاسٹ کے مظالم جس میں 6 ملین یہودی مارے گئے۔ یہ تمام واقعات یہودی قوم کی تاریخ میں صدیوں کی جلاوطنی، نفرت اور بکھراؤ کا نوحہ بن چکے ہیں۔ یہ دن ایک طویل روزے، عبادت، توبہ اور گریہ و زاری کا دن ہوتا ہے۔ یہودی غروب آفتاب کے بعد 25 گھنٹے کا روزہ رکھتے ہیں، جو اگلے دن مکمل اندھیرے میں افطار کیا جاتا ہے۔ دیوارِ گریہ پر اجتماعی عبادات، مناجات اور آیات کی تلاوت ہوتی ہے۔ بعض لوگ اپنی دعائیں لکھ کر دیوار کی درزوں میں رکھ دیتے ہیں اس امید پر کہ خدا سنے گا۔ یروشلم (القدس) کا قدیم شہر جہاں تیشا بَآو کی مرکزی تقریبات ہوتی ہیں صرف یہودیوں کے لیے مقدس نہیں بلکہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے بھی نہایت محترم ہے۔ یہاں تین اہم مذہبی مقامات ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو واقع ہیں: دیوارِ گریہ (Western Wall): یہودیوں کا سب سے مقدس مقام۔ قبۃ الصخرہ (Dome of the Rock): وہ جگہ جہاں سے مسلمان عقیدے کے مطابق نبی کریم ﷺ معراج پر تشریف لے گئے اور مسجدِ اقصیٰ: اسلام کی تیسری مقدس ترین مسجد۔ یہ تینوں مقامات ٹیمپل ماؤنٹ یا القدس شریف کے مشترکہ احاطے میں واقع ہیں، جس پر صہیونی دعویٰ کرتے ہیں کہ یہاں ان کا معبدِ سلیمانی تھا جب کہ مسلمان اسے نبیوں کی سرزمین اور قبلۂ اول کا مقام مانتے ہیں۔ 1967ء کی چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد شہر کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا یہودی کوارٹر، مسلم کوارٹر، مسیحی کوارٹر، آرمینی کوارٹر۔ مسجدِ اقصیٰ اور اس کے اطراف کا انتظام اردنی حکومت کی زیر نگرانی مسلم وقف کے سپرد رہا، لیکن سیکورٹی اسرائیل کے قبضے میں چلی گئی۔ اسی کشمکش نے آنے والے عشروں میں بے شمار جھڑپوں، مظاہروں، گرفتاریوں اور شہادتوں کو جنم دیا۔
گزشتہ چند برسوں میں قدامت پسند اور دائیں بازو کے صہیونی یہودیوں نے ٹیمپل ماؤنٹ پر اپنی موجودگی بڑھانے کی مہم تیز کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کے نیچے ان کے معبد کی بنیادیں ہیں، اس لیے انہیں یہاں عبادت کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ یہ دعویٰ مسلمانوں کیلئے نہایت حساس اور اشتعال انگیز ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کا انہدام یا تقسیم۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں مذہبی روایت، صہیونی سیاست اور عسکری قبضہ ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جاتے ہیں۔
اس موقع پر کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) کے ارکان عَمیت ہلیوی اور شارین ہاسکل (حزبِ لیکوڈ سے) اور وزیر برائے ترقیِ نقب و جلیل یتصحاق فاسرلاوف بھی بن گویر کے ساتھ شریک تھے۔ یہ تمام افراد مسجد اقصیٰ کے احاطے میں نہ صرف داخل ہوئے بلکہ مذہبی رسوم بھی ادا کیں جنہیں اسلامی شعائر کی کھلی توہین سمجھا جاتا ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز بھی مسجد اقصیٰ کی مغربی دیوار (جسے وہ دیوارِ گریہ کہتے ہیں) پر پہنچا اور متکبرانہ انداز میں کہا کہ اسرائیل، دنیا بھر کے ناقدین کی پروا کیے بغیر یروشلم اور ہیکل ماؤنٹ (مسجد اقصیٰ) پر اپنا قبضہ ہمیشہ کے لیے مضبوط کرے گا۔
قابض پولیس نے آج باب المغاربہ کو اس وقت بند کیا جب وہاں سے 3969 یہودی عبادت گزار مسجد میں داخل ہو چکے تھے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس اسی دن یہ تعداد 2958 تھی جبکہ 2023 میں 2180۔ ان اعداد و شمار کے مطابق، یہ اب تک کا سب سے بڑا اجتماعی دھاوا ہے جو مسجد اقصیٰ پر 1967 کی صہیونی قبضے کے بعد دیکھنے میں آیا۔
اسرائیلی پولیس نے ایک وقت میں چھ مختلف مذہبی افواج کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی اجازت دی۔ ہر دس منٹ بعد درجنوں افراد پر مشتمل ایک نیا گروہ باب المغاربہ سے داخل کیا گیا۔ باہر ان انتہاپسندوں کے لیے سایہ دار چھتریاں لگائی گئیں تاکہ وہ دھوپ میں انتظار کے دوران پریشان نہ ہوں۔ ان گروہوں کے لیے مفت ٹرانسپورٹ، مذہبی گائیڈز اور سہولیات کا انتظام صہیونی مذہبی تنظیموں نے کیا تھا۔
یہ تازہ ترین کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب مقبوضہ یروشلم (القدس) اور مسجد اقصیٰ کے گرد و نواح میں کشیدگی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ گزشتہ دو سال سے اسرائیل کی غزہ میں تباہ کن جنگ جاری ہے جس میں ہزاروں فلسطینی شہید اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایسے میں مسجد اقصیٰ پر یہ بڑا حملہ پورے عالمِ اسلام کے لیے نہ صرف اشتعال انگیز ہے بلکہ ایک مقدس مقام کی توہین بھی ہے۔
عالمی ردعمل کی کمی؟
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اتنے بڑے اور کھلے حملے کے باوجود دنیا کے اکثر ممالک اور اقوامِ متحدہ کی طرف سے کوئی واضح مذمت سامنے نہیں آئی۔ نہ ہی ہیجڑوں کی تنظیم OIC نے اس وحشیانہ اقدام پر کوئی ہنگامی اجلاس بلایا۔ البتہ فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے اس اقدام کو مسجد اقصیٰ کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا ہے اور عوام سے مزاحمت کی اپیل کی ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اسرائیلی حکومت اپنے مذہبی انتہاپسند ایجنڈے کو ریاستی سطح پر نافذ کر رہی ہے اور اسلامی مقدسات کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔ مسجد اقصیٰ کو محفوظ رکھنے کے لیے عالمی برادری کی بے حسی اور مسلم دنیا کی خاموشی دجالی ریاست کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ کی شہادت جیسی خطرناک صورتحال کو جنم دے سکتی ہے۔
کاہنوں کی برکت
حالیہ اسرائیلی یلغار کے دوران مسجد اقصیٰ کے اندر قابض انتہاپسندوں نے ایسی مذہبی رسومات ادا کیں جو اس سے قبل صرف احاطے کے مشرقی حصے تک محدود تھیں۔ کیمروں کی مدد سے دستاویزی شواہد سامنے آئے ہیں جن میں یہودی انتہاپسندوں کو برکتِ کاہن (Priestly Blessing / ברכת כהנים) کی مخصوص تلمودی عبادت ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ برکتِ کاہن دراصل ایک توراتی عبادت ہے جس میں مخصوص حاخام اپنے شاگردوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے ہاتھوں کو بلند کرکے لوگوں کے سروں پر پھیلاتے ہیں اور تورات کی کتاب سفر العدد (Book of Numbers) سے مخصوص آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔
مسجد کے مرکزی ہال میں یہودی عبادت:
یہ رسومات پہلے صرف مسجد کے مشرقی کنارے تک محدود رہتی تھیں لیکن اس بار صہیونیوں نے وسطی صحن اور دیگر حساس حصوں میں بھی یہ تلمودی عبادات ادا کیں جو واضح طور پر اسلامی مقدسات کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔ ان صلوات کے دوران صہیونی آبادکار ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کرتے ہوئے بلند آواز میں تلاوت کرتے رہے، یہاں تک کہ ان کی آوازیں مسجد اقصیٰ کی بیرونی دیواروں سے باہر تک سنی گئیں۔
اسرائیلی سیکورٹی کا مکمل تحفظ
یہ تمام عبادات اور مذہبی مظاہرے اسرائیلی پولیس کے سخت سیکورٹی حصار میں انجام دیئے گئے۔ نہ صرف مسجد کے اندر قابض افواج نے انتہاپسندوں کو تحفظ فراہم کیا بلکہ پرانے شہر (البلدۃ القدیمۃ) کے دروازوں پر بھی اسرائیلی فوجی تعینات رہے جنہوں نے مقامی فلسطینی باشندوں کو اندر داخل ہونے سے روکا تاکہ صہیونی رسومات میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
مسلمانوں کو عبادت سے روکا گیا
یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ ایسے موقع پر جب مسلمانوں کے لیے مسجد اقصیٰ میں داخلہ ایک بنیادی حق ہے قابض افواج نے ان کے داخلے میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ فلسطینی شہریوں کو شہر کے دروازوں پر روک کر واپس بھیجا گیا اور صہیونی آبادکاروں کو مکمل آزادی اور تحفظ فراہم کیا گیا کہ وہ مسجد میں داخل ہو کر اپنی تلمودی رسومات ادا کریں۔ یہ ساری صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل کی ریاستی پالیسی اب صرف جغرافیائی نہیں بلکہ مذہبی جارحیت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مسجد اقصیٰ پر اس طرح کے تلمودی مظاہرے نہ صرف اس کی تاریخی حیثیت کے منافی ہیں بلکہ عالمِ اسلام کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی دانستہ کوشش بھی ہے۔ اگر یہ سلسلہ بغیر کسی مزاحمت یا عالمی دباؤ کے جاری رہا تو نہ صرف مسجد اقصیٰ کی بقا کو خطرہ لاحق ہے بلکہ پورے خطے میں مذہبی کشیدگی اور تصادم کی نئی لہر پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عالمِ اسلام متحد ہو کر اس صریح بے حرمتی کے خلاف مؤثر سفارتی، قانونی اور زمینی اقدامات کرے۔
فلسطینی وزارتِ اوقاف کا انتباہ
مسجد اقصیٰ پر حالیہ یلغار کو عالمِ اسلام کی مذہبی غیرت کے منہ پر ایک طمانچہ قرار دیتے ہوئے خطیب مسجد اقصیٰ شیخ عکرمہ صبری نے ان کارروائیوں کو عبادت کی آزادی اور مسجد کی حرمت کی کھلی پامالی قرار دیا ہے۔ انہوں نے الجزیرہ سے گفتگو میں واضح کیا کہ قابض صہیونی قوتیں قبلۂ اول پر مکمل قبضہ جمانے کی منصوبہ بندی کے تحت ایک نیا اسٹیٹس کو مسلط کرنا چاہتی ہیں۔ شیخ صبری نے عرب ممالک سے اپیل کی کہ وہ صہیونی ریاست پر سیاسی و سفارتی دباؤ ڈال کر ان اشتعال انگیز اقدامات کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں جبکہ فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے ایک تفصیلی بیان میں واضح کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر کی مسجد اقصیٰ میں اشتعال انگیز یلغار براہِ راست ایک متشدد صہیونی حکومت کی سبز بتی کے تحت ہوئی ہے، جو اسلامی مقدسات پر مکمل تسلط حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وزارت نے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی نہ صرف فلسطینی مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کی سنگین توہین ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اسلامی مقدسات بالخصوص مسجد اقصیٰ اور مسجد ابراہیمی، روزانہ کی بنیاد پر صہیونی آبادکاروں کی یلغار اور جارحیت کا شکار ہیں اور ان تمام مظالم کی پشت پر ایک منظم حکومتی پالیسی کارفرما ہے۔
وزارتِ اوقاف نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ جولائی کے مہینے میں صہیونی آبادکاروں نے 27 مرتبہ مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا جب کہ اسرائیلی فوج نے الخلیل میں واقع مسجد ابراہیمی میں اذان کو 51 مواقع پر روک دیا۔ یہ اقدامات واضح طور پر مذہبی آزادی کی بین الاقوامی ضمانتوں کی خلاف ورزی اور انسانی حقوق کی شدید پامالی ہیں۔
عالمِ اسلام اور عالمی اداروں سے اپیل
بیان میں کہا گیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ فلسطینی عوام، بالخصوص اہلِ القدس بڑی تعداد میں مسجد اقصیٰ کی جانب رخ کریں وہاں نماز و عبادت کا تسلسل قائم رکھیں اور صہیونی یلغار کے خلاف منظم مرابطہ (رباط) کا سلسلہ شروع کریں۔ وزارت نے تمام بین الاقوامی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی سے متعلق اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں بالخصوص اس نسل پرست حکومت کے ہاتھ روکے جائیں جو اپنے متشدد وزراء کو مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے لیے کھلی چھوٹ دے رہی ہے۔ اب محض مذمت سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں جو مذہبی جنگ مسلط کی جا رہی ہے اس کا مقابلہ صرف اتحاد، مزاحمت اور بین الاقوامی دباؤ سے ہی ممکن ہے۔ مسجد اقصیٰ صرف فلسطین کا نہیں پوری امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہے اور اس کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر بیداری اور قربانی درکار ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں