اوپن اے آئی نے اپنے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ کے نئے اور طویل عرصے سے منتظر ماڈل جی پی ٹی 5 کو متعارف کرا دیا ہےجسے کمپنی نے پی ایچ ڈی سطح کی مہارت کا حامل قرار دیا ہے۔
کمپنی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کے مطابق یہ نیا ماڈل تیز تر، زیادہ ذہین اور زیادہ مفید ہے اور چیٹ جی پی ٹی کو ایک نئے دور میں لے جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی تاریخ میں اس سطح کا ماڈل پہلے کبھی ممکن نہ تھا۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ جی پی ٹی5 تحریر و پروگرامنگ کے شعبوں میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہے اور اپنے پچھلے ماڈلز کی نسبت زیادہ درست، ایماندار اور کم گمراہ کن جوابات دیتا ہے۔
اس ماڈل میں ریزننگ ماڈل کی بنیاد پر مسائل کے حل کے لیے بہتر منطقی سوچ، مرحلہ وار وضاحت اور استدلال شامل کیا گیا ہے۔
سیم آلٹمین کے مطابق جی پی ٹی3 ایک ہائی اسکول طالب علم سے بات کرنے جیسا تھا، جی پی ٹی4 کسی کالج کے طالب علم سے جبکہ جی پی ٹی5 کسی بھی موضوع پر ایک ماہر سے بات کرنے کا احساس دلاتا ہے۔
Do you remember back in school when you couldn’t remember something during a presentation and wrote the info on your hand? Apparently, that’s still a thing. #gpt5 #openai #keynote #wtf #chatgpt gpt-5 pic.twitter.com/xN8F0YDgYT
— Marc (@Marc72910953) August 8, 2025
انسٹی ٹیوٹ فار ایتھکس ان اے آئی کی پروفیسر کاریسا ویلیز کا کہنا ہے کہ یہ ماڈلز اگرچہ متاثر کن ہیں مگر انسانی سوچ کی حقیقی نقل نہیں کر سکتے اور یہ زیادہ تر مارکیٹنگ کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
ایڈا لوولیس انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر گائیا مارکس نے خبردار کیا کہ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی زیادہ طاقتور ہوتی جا رہی ہے اس کی نگرانی اور ضابطہ کاری کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
بی بی سی کے نمائندے مارک سیسلک کو باضابطہ لانچ سے پہلے جی پی ٹی 5 استعمال کرنے کا موقع ملااور ان کے مطابق اس کا استعمال پچھلے ماڈلز جیسا ہے مگر یہ مسائل کو زیادہ گہرائی سے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
گیٹی امیجز کے چیف پروڈکٹ آفیسر گرانٹ فارہال نے کہا کہ جیسے جیسے اے آئی مواد مزید قائل کن ہوتا جا رہا ہے، ضروری ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ یہ ماڈلز کس طرح تربیت پا رہے ہیں اور اصل تخلیق کاروں کو معاوضہ دیا جا رہا ہے یا نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








