اے آئی کی دنیا میں انقلاب! جی پی ٹی 5 کے ساتھ چیٹ جی پی ٹی نئے دور میں داخل

تازہ ترین

تازہ ترین

OpenAI claims GPT-5 model boosts ChatGPT to 'PhD level'
ONLINE

اوپن اے آئی نے اپنے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ کے نئے اور طویل عرصے سے منتظر ماڈل جی پی ٹی 5 کو متعارف کرا دیا ہےجسے کمپنی نے پی ایچ ڈی سطح کی مہارت کا حامل قرار دیا ہے۔

کمپنی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کے مطابق یہ نیا ماڈل تیز تر، زیادہ ذہین اور زیادہ مفید ہے اور چیٹ جی پی ٹی کو ایک نئے دور میں لے جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی تاریخ میں اس سطح کا ماڈل پہلے کبھی ممکن نہ تھا۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ جی پی ٹی5 تحریر و پروگرامنگ کے شعبوں میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہے اور اپنے پچھلے ماڈلز کی نسبت زیادہ درست، ایماندار اور کم گمراہ کن جوابات دیتا ہے۔

اس ماڈل میں ریزننگ ماڈل کی بنیاد پر مسائل کے حل کے لیے بہتر منطقی سوچ، مرحلہ وار وضاحت اور استدلال شامل کیا گیا ہے۔

سیم آلٹمین کے مطابق جی پی ٹی3 ایک ہائی اسکول طالب علم سے بات کرنے جیسا تھا، جی پی ٹی4 کسی کالج کے طالب علم سے جبکہ جی پی ٹی5 کسی بھی موضوع پر ایک ماہر سے بات کرنے کا احساس دلاتا ہے۔

 

انسٹی ٹیوٹ فار ایتھکس ان اے آئی کی پروفیسر کاریسا ویلیز کا کہنا ہے کہ یہ ماڈلز اگرچہ متاثر کن ہیں مگر انسانی سوچ کی حقیقی نقل نہیں کر سکتے اور یہ زیادہ تر مارکیٹنگ کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

ایڈا لوولیس انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر گائیا مارکس نے خبردار کیا کہ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی زیادہ طاقتور ہوتی جا رہی ہے اس کی نگرانی اور ضابطہ کاری کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

بی بی سی کے نمائندے مارک سیسلک کو باضابطہ لانچ سے پہلے جی پی ٹی 5 استعمال کرنے کا موقع ملااور ان کے مطابق اس کا استعمال پچھلے ماڈلز جیسا ہے مگر یہ مسائل کو زیادہ گہرائی سے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

گیٹی امیجز کے چیف پروڈکٹ آفیسر گرانٹ فارہال نے کہا کہ جیسے جیسے اے آئی مواد مزید قائل کن ہوتا جا رہا ہے، ضروری ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ یہ ماڈلز کس طرح تربیت پا رہے ہیں اور اصل تخلیق کاروں کو معاوضہ دیا جا رہا ہے یا نہیں۔

Related Posts