کیا ہم آزادی سے بول سکتے ہیں؟ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ کیا ہمارا ماحول آزادی کی ضمانت دیتا ہے؟ آزادی کے چرچے تو ہر طرف ہیں اور سب ہی اس کے حامی دکھائی دیتے ہیں، لیکن کیا آزادی سے بولنے یا آزادی سے جینے کا حق صرف طاقتور لوگوں تک محدود ہے؟
کیا اپنی سوچ اور اپنی آواز بلند کرنے کے لیے ہمیں ہمیشہ کسی کی اجازت درکار ہوگی؟ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص اپنی رائے بغیر اجازت پیش کرتا ہے تو اسے برا سمجھا جاتا ہے اور اکثر سزا بھی ملتی ہے۔
ہمارے بچے بھی آج تک آزادی کو نہ سمجھ پائے اور نہ ہی حقیقی معنوں میں آزاد ہوئے۔ ان کی سوچ صرف سوچ بن کر رہ جاتی ہے، آواز بن کر کبھی سنائی نہیں دیتی۔ اس کا سب سے بڑا سبب ہماری تربیتی روایت ہے۔
جب ہم چھوٹے تھے تو وہی دہراتے جو استاد کہتا۔ اگر استاد کی بات سے اختلاف کرتے یا اپنی رائے دیتے تو ہمیں بدتمیز اور بدتہذیب کہا جاتا۔ بچوں کے سوالوں کا جواب نہ استاد دیتا اور نہ ہی معاشرہ۔
گھر آنے پر بھی بڑے بزرگ نصیحتیں سناتے اور اپنی بات منوانے پر اصرار کرتے۔ بچے کے ذہن میں یہ احساس بیٹھ جاتا کہ نہ اسکول میں اسے کوئی سنتا ہے نہ گھر میں۔ اس کی اپنی سوچ کہیں سنی نہیں جاتی۔
جب یہی بچہ بڑا ہوتا ہے تو اس کا کیریئر بھی ماں باپ طے کرتے ہیں یا پھر کہا جاتا ہے کہ وہی کرو جو سب کر رہے ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری کی تلاش میں نکلے تو وہاں بھی کہا جاتا ہے کہ مالک کے سامنے زبان نہ کھولو، ورنہ نوکری چلی جائے گی۔
یوں بچپن سے جوانی تک اور شادی کی عمر تک پہنچنے تک وہ شخص سننے والا تو بن جاتا ہے، لیکن بولنے والا کبھی نہیں۔ اسے کہا جاتا ہے کہ وہ آزاد ہے، لیکن حقیقت میں وہ ہمیشہ کبھی استاد، کبھی والدین اور کبھی مالکان کا غلام رہتا ہے۔
شادی کے معاملے میں بھی اکثر نوجوانوں کو اپنی پسند کا حق نہیں دیا جاتا۔ اگر وہ بچپن سے جوانی تک کی غلامی کی زنجیر توڑنا چاہیں تو معاشرہ انہیں برا کہتا ہے۔
شادی کی تقریبات میں بھی زیادہ تر والدین کی مرضی چلتی ہے۔ یہاں تک کہ بچوں کے نام رکھنے میں بھی خاندان کے کئی لوگ اپنی رائے مسلط کرتے ہیں۔
یہ غلامی موت کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی، کیونکہ قبر بھی اکثر دوسروں کی خواہشات کے مطابق بنائی جاتی ہے۔
اس سارے نظام کی جڑ طاقت ہے۔ یہی غلامی ایک ایسا معاشرہ جنم دیتی ہے جو سیاسی رہنماؤں اور بااختیار طبقات کا بھی غلام بن جاتا ہے۔
طاقتور طبقے آزادیٔ اظہار کا ذکر تو کرتے ہیں، مگر ان کے نزدیک آزادی کا مطلب صرف ان کی بات ماننا ہے۔
یقیناً آزادی کا یہ مطلب بھی نہیں کہ کوئی بچپن سے بڑھاپے تک صرف غلط کام کرے اور باقی لوگ اس کی بات برداشت کرتے رہیں۔ آزادی کا مطلب ہے حق بات کہنے اور دوسروں کو قائل کرنے کا حق۔ اگر کوئی شخص آپ کی بات سے قائل نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ دلائل کے ساتھ آپ کو قائل کرے۔ یہی اصل آزادی ہے۔
کوئی ملک یا خاندان تب تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک بولنے، سوچنے اور جینے کی آزادی نہ ہو۔ کسی کے خیالات کو فوراً رد کرنے کے بجائے ان کے پس منظر کو سمجھنا چاہیے، کیونکہ الفاظ کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔
ہم میں سے اکثر مسلمان محض اس لیے ہیں کہ ہم مسلمان گھروں میں پیدا ہوئے۔ ہم نے اپنے مذہب کو نہ پڑھا، نہ سمجھا۔ اگر ہم قرآن و سنت کو سچائی سے پڑھتے اور سمجھتے تو اپنے دل سے اسلام کو قبول کرتے اور اس پر خلوصِ نیت سے عمل بھی کرتے۔
ہمارے دین نے ہمیشہ آزادی دی ہے۔ پہلا لفظ جو نازل ہوا وہ اقرا یعنی پڑھو تھا۔ دین میں جبر نہیں ہے۔ ہمیں اجازت دی گئی ہے کہ نیک نیتی اور اچھے ارادے کے ساتھ اپنی زندگی گزاریں۔
پاکستان اور دیگر مسلم ممالک تبھی ترقی کرسکتے ہیں جب ہم اپنے دین کو پڑھیں، سمجھیں اور دوسروں پر زبردستی حکومت کرنے کے بجائے ان کے دل جیتیں۔
دلوں پر حکومت زبردستی سے نہیں بلکہ سننے اور قائل کرنے سے قائم ہوتی ہے۔ اگر ہم کسی کی بات سن کر اس کی اچھائی کو اچھا اور برائی کو برا سمجھیں تو یہی اصل کامیابی ہے۔
منافقت ہمارے دین میں سب سے بڑا گناہ ہے۔ منافقت یہ ہے کہ طاقتور کے خوف سے حق کو دبایا جائے اور برائی کو برا کہنے کے بجائے اس کی ہاں میں ہاں ملائی جائے۔
آج دنیا کی حالت خراب اس لیے ہے کہ بچے کہتے ہیں ہم ٹھیک ہیں ، بڑے کہتے ہیں ہم ٹھیک ہیں ، سیاستدان کہتے ہیں ہم ٹھیک ہیں اور طاقتور طبقہ بھی یہی کہتا ہے۔ اس ہم کے نعرے میں حق اور باطل کا فرق مٹ گیا ہے اور طاقتور اپنے ہم کے نشے میں ڈوبا ہوا ہے۔
صدام حسین، معمر قذافی اور دیگر طاقتور حکمران اسی میں اور ہم کے غرور میں ڈوب کر تباہ ہوئے۔
جس دن ہمارے والدین اور طاقتور طبقہ دوسروں کی بات سننا شروع کردے گا اور اپنی ذات کو مرکز بنانے کے بجائے دوسروں کے دل جیتنے کی کوشش کرے گا، تب ہماری زندگیاں بہتر ہوں گی اور دنیا میں خوشحالی آئے گی۔
دنیا کے تمام رہنماؤں کو یہ سوچنا چاہیے کہ یہ دنیا سب کی ہے۔ اس میں بسنے والے تمام انسان آزادی کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں۔
کبھی کہا جاتا تھا کہ سب سے زیادہ آزادی امریکا اور یورپ میں ہے، لیکن اب ان ملکوں کے حکمران طاقت اور دولت کے نشے میں انسانی حقوق اور آزادی کو بھول چکے ہیں۔
وہ ایسے قوانین بناتے ہیں جو عوام کی بھلائی کے بجائے انہیں سزا دینے کے لیے ہوتے ہیں۔ جبکہ سزا کا اصل مقصد برائی کو ختم کرنا ہے، انسان کو نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں