جیسی عوام ویسے حکمران!

تازہ ترین

تازہ ترین

The Glorious Legacy of Pakistan Television (PTV)

ہماری عوام اور ہمارے حکمرانوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں اسٹاک مارکیٹ کی طرح چل رہے ہیں۔ سب کے پاس کچھ نہیں ہے مگر دکھاتے ایسے ہیں جیسے سب کچھ موجود ہو۔

سچائی کا سامنا نہ عوام کرنا چاہتی ہے اور نہ حکومتوں نے کبھی سات دہائیوں میں دکھایا ہے۔ بلکہ سب یہی کہتے ہیں کہ سب اچھا ہے اور سب اچھا ہونے جارہا ہے، لیکن کچھ عرصے بعد جب حکومتیں بدلتی ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ہم مزید پریشانیوں میں گھر چکے ہیں۔

ہم سب کا مسئلہ یہ ہے کہ جو ہمارے پاس ہے ہم اس پر خوش نہیں ہوتے بلکہ لالچ میں آکر وہ بھی کھو دیتے ہیں جو ہمارے پاس موجود ہوتا ہے۔ عوام کو بڑے بڑے خواب دکھا کر اور خیرات دے کر انہیں محتاج اور فقیر بنا دیا جاتا ہے تاکہ جب ان کی ضرورت حد سے بڑھ جائے تو وہ ہر طرح کی غلامی قبول کرلیں۔

آج جب پورے پاکستان میں سیلاب کی صورتحال ہے جس کی وجہ سے آنے والے وقتوں میں معیشت پر بے پناہ دباؤ کا امکان ہے، مہنگائی مزید بڑھنے کے خدشات ہیں اور لوگوں کے لیے کاروبار کے ذریعے منافع کمانا ممکن نہیں رہے گا کیونکہ قوتِ خرید عوام کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ ایسے میں ہم بغیر سوچے سمجھے بس یہی کہہ رہے ہیں کہ سب اچھا ہو جائے گا۔

جو حالات اس وقت نظر آرہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے اسٹاک مارکیٹ کو بہت نیچے ہونا چاہیے، لیکن ایسا لگتا ہے جیسے سیلاب کی وجہ سے کروڑوں ڈالر آنے والے ہیں۔ اس سے عوام کی زندگی بہتر ہو یا نہ ہو، لیکن بہت سے افراد کی زندگیاں بہتر ہونے کا امکان ہے۔

دیکھا جائے تو عوام بھی اپنی غربت کا رونا اس وقت روتے ہیں جب پانی سر سے گزر جاتا ہے۔ عوام کو کچھ سیاست دان اور کچھ مذہبی رہنما اتنے مصروف کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے بارے میں حقیقت کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔

کروڑوں اور اربوں روپے ہم جلسوں میں خرچ کر دیتے ہیں مگر وہی کروڑوں روپے اپنی گلیوں کو بہتر کرنے میں نہیں لگاتے اور انتظار کرتے ہیں کہ کوئی آکر ان کی گلیاں، محلے اور ان کے بچوں کی زندگی بہتر کرے گا۔

اگر ہر محلے والے آپس میں مل کر اپنے علاقوں کو بہتر بنائیں اور اپنے بچوں کے لیے اپنے ہی علاقوں میں سہولیات پیدا کرلیں تو ان کی زندگیاں بہتر ہوسکتی ہیں۔ یہ سب ممکن اس لیے نہیں لگتا کیونکہ ہر گھر میں خود غرضی نے جگہ لے لی ہے۔ اس خود غرضی کی وجہ سے نہ ہم اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھتے ہیں نہ گلی محلے کا۔

ہم خیرات بھی ان جگہوں پر دیتے ہیں جہاں ہمیں ایسی تصویریں دکھا کر جذباتی کیا جاتا ہے اور ہم متاثر ہو کر اپنی زکات و خیرات وہاں دے دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال رمضان میں چندہ لینے والے لوگوں کی تشہیر ہے۔

یہی زکات و خیرات اگر ہم اپنے پڑوسیوں اور اپنے محلے کے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے پر لگائیں تو یہ زیادہ بہتر ہوسکتا ہے۔ ہر پاکستانی سے یہ سوال ہے کہ جو کئی سالوں سے اپنے محلوں میں رہ رہے ہیں، انہوں نے اپنے محلے کے لیے کیا کیا؟ کیا انہوں نے کوئی درخت لگایا؟ کیا انہوں نے کوئی صفائی کا انتظام کیا؟ کیا انہوں نے پڑوس کے بچوں کو مفت تعلیم دی؟

یہ جو ہم مختلف اداروں میں جا کر سماجی خدمت کرتے ہیں، اگر یہی خدمت ہم اپنے گلی محلوں میں شروع کر دیں تو ہمارے اردگرد کے حالات مختلف اور بہتر ہوسکتے ہیں۔

پرانے وقتوں میں لوگ خوش اس لیے رہتے تھے کہ خوشی ہو یا غم، وہ ایک دوسرے سے باخبر رہتے تھے۔ ایک دوسرے کے گھروں میں کھانا بھیجتے تھے۔ بچے بچیاں ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔

آج انٹرنیٹ کے دور میں محلہ داری تو دور، لوگ رشتہ داری کا بھی خیال نہیں رکھتے۔ نہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں نہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔

ہر شخص اپنے فون پر مصروف ہے۔ سوشل میڈیا کی دنیا ایک خود غرضی کی دنیا ہے جہاں ہزاروں دوست ملتے ہیں لیکن ایک بھی سچا ہمدرد نہیں ہوتا۔

آج بھی اگر ہم ایک دوسرے سے ملاقات کرنا اور ایک دوسرے کی مدد کرنا شروع کریں تو ہمیں نہ حکومت کی ضرورت ہے نہ کسی اور کی۔

ہم اپنی مدد آپ کے تحت خود کو، اپنے رشتہ داروں کو، محلہ داروں کو اور دوسروں کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ آئیے معاشی طور پر لوگوں کو روزگار دلائیں، کاروبار میں مدد کریں اور اپنے ہنر کو ایک دوسرے کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔

Related Posts