امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے شاہی محل ونڈزر کیسل میں منعقدہ ریاستی ضیافت کے حوالے سے ایک بار پھر لندن کے میئر سر صادق خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ صادق خان اس تقریب میں شریک ہوں۔
ڈونلڈٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران صادق خان کو دنیا کے بدترین میئروں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ لندن میں جرائم کی شرح بڑھ چکی ہے، جس کی ذمہ داری صادق خان پر عائد ہوتی ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ صادق خان ضیافت میں شامل ہونا چاہتے تھے لیکن ان کی درخواست پر انہیں مدعو نہیں کیا گیا۔ تاہم برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق صادق خان نے ایسی کوئی خواہش ظاہر نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ اس تقریب میں مدعو ہونے کی توقع رکھتے تھے۔
صادق خان کے قریبی ذرائع نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی سیاست خوف اور تقسیم پر مبنی ہے اور وہ لندن جیسے عالمی شہر کی کامیابیوں کو کم تر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ لفظی جنگ دونوں رہنماؤں کے درمیان پرانی دشمنی کی ایک تازہ کڑی ہے۔ 2019 میں ٹرمپ نے صادق خان کوہارا ہواے شخص قرار دیا تھا جبکہ صادق خان نے انہیں دائیں بازو کی انتہا پسندی کو ہوا دینے والا قرار دیا تھا۔
اسی طرح لندن برج دہشت گرد حملے کے بعد بھی ٹرمپ نے صادق خان کی کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
صادق خان اور ٹرمپ کے درمیان کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب 2015 میں لیبر پارٹی کے رہنما نے ٹرمپ کی مسلمانوں پر سفری پابندی کی تجویز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے انہیں ذہانت کے ٹیسٹ کا چیلنج بھی دیا۔
2019 میں ٹرمپ کے پہلے سرکاری دورہ برطانیہ کے موقع پر صادق خان نے ان کے خلاف احتجاج کی اجازت دی تھی جس میں ایک دیو قامت ٹرمپ بے بی غبارہ اڑایا گیا۔
الومیناٹی: پوری دنیا کی دولت اور وسائل پر قابض دنیا کے 13 سب سے طاقتور اور پراسرار خاندان
حالیہ دورے کے دوران بھی ہزاروں افراد نے پارلیمنٹ اسکوائر میں ٹرمپ کے خلاف مظاہرہ کیا جبکہ ونڈزر کیسل پر ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی تصاویر پروجیکٹ کرنے پر چار افراد کو گرفتار کیا گیا۔
اگرچہ اس دورے کو دونوں اتحادی ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کو اجاگر کرنے کے طور پر پیش کیا گیا لیکن ٹرمپ اور صادق خان کے درمیان جاری لفظی جنگ نے اس تقریب کو ایک بار پھر سیاسی تنازع میں بدل دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








