افغان باشندے دہشت گردی میں ملوث ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

تازہ ترین

تازہ ترین

Pakistan Army, people stand united against terrorism, says DG ISPR
(Image: ISPR)

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جرمن جریدے کے ساتھ اہم امور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان باشندے دہشت گردی میں ملوث ہیں جس کے ثبوت موجود ہیں۔

تفصیلات کے مطابق 5ستمبر کو جرمن جریدے کے نمائندے کے ساتھ اہم امور پر گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے 40سال تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی۔ مہاجرین کی باعزت واپسی کیلئے منظم طریقے سے اقدامات کیے گئے۔

گفتگو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے انسانی بنیاد پر افغان مہاجرین کے انخلا کی ڈیڈ لائن میں متعدد بار توسیع کی۔ مستند شواہد ہیں کہ غیر قانونی افغان باشندے دہشت گردی اور سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان مہاجرین کو پناہ دینے کی بنیادی وجوہات غیر ملکی مداخلت اور خانہ جنگی تھی اور وہ وہ وجوہات اب موجود نہیں۔ بھارت میں پرتشدد واقعات بھارتی حکومت کی بڑھتی ہوئی انتہا پسند پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔

بلوچستان :سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں چار بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد جہنم رسید

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت اندرونی مسائل کو بیرونی اور بیرونی مسائل کو اندرونی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ پاکستان میں جو دہشت گردانہ کارروائیاں ہوتی ہیں، ان میں بھارت ریاستی سرپرستی کے ساتھ ملوث ہے۔ بھارتی فوج کے حاضر سروس افسران کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارتی دہشت گردی کے ثبوت اقوامِ عالم کے سامنے متعدد بار پیش کرچکا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ پاکستان کی ریاست تمام تر غیر ریاستی دہشت گرد عناصر کو بلا تفریق مسترد کرتی ہے۔

پاکستان میں جیش یا دیگر مسلح جتھوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاست کے علاوہ کوئی گروہ یا شخص جہاد کا اعلان کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا اور بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

Related Posts