پنجاب حکومت نے گندم کی ترسیل کے خلاف کارروائی کو مزید سخت کرتے ہوئے ضلعی سطح پر بھی پابندیاں عائد کر دی ہیں، تاکہ ممکنہ قلت کو روکا جا سکے۔
سرکاری احکامات کے مطابق سیکریٹری روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) رانا محسن کو گندم کی بین الاضلاعی نقل و حمل پر مکمل پابندی نافذ کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
آر ٹی اے سیکریٹری نے سامان بردار ٹرانسپورٹرز کو فوری حکم دیا ہے کہ وہ گندم کی بین الصوبائی اور بین الاضلاعی ترسیل روک دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ملکی برآمدات میں نئی تاریخ رقم، پاکستانی بیف کی خلیجی مارکیٹ میں دبنگ انٹری
رانا محسن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ گندم کی قلت کے خطرے کو ٹالنے اور انسانی خوراک کے لیے اس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
اس سے قبل 5 ستمبر کو پنجاب حکومت نے ممکنہ گندم اور آٹے کے بحران سے بچنے کے لیے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی۔
اس حکم کے تحت پولٹری فیڈ ملز میں گندم کے استعمال پر بھی پابندی لگا دی گئی تاکہ یہ صرف آٹا بنانے کے لیے استعمال ہو۔
انتظامیہ نے یہ اقدام اس وقت کیا جب قلت کے خدشات بڑھ گئے تھے۔ ہوم سیکریٹری پنجاب کی ہدایات کے مطابق اب گندم صرف فلور ملز کو ہی فراہم کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق پنجاب کی فیڈ ملز کے پاس اس وقت 1 لاکھ 4 ہزار میٹرک ٹن سے زائد گندم موجود ہے، جسے وہ پولٹری فیڈ کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








