ستمبر 2025 کے اوائل میں اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے وہ اعلان کیا جس نے یورپ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ارتعاش پیدا کردیا۔ آٹھ ستمبر کو انہوں نے اپنے ملک کی طرف سے اسرائیل پر اسلحے کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے، اسرائیلی فوجی اہلکاروں کے لیے ایندھن لے جانے والے جہازوں کو ہسپانوی بندرگاہوں میں لنگر انداز ہونے سے روکنے اور غزہ میں جاری ’’نسل کشی‘‘ کو بند کرانے کے لیے ایک سلسلہ وار اقدامات کی منظوری دی۔
سانچیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ میڈرڈ کے پاس نہ ایٹمی ہتھیار ہیں، نہ طیارہ بردار جہاز اور نہ ہی وسیع تیل کے ذخائر، اس کے باوجود ہمیں کوشش جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ کچھ مسائل ایسے ہیں جو محض طاقتوروں کی جنگ نہیں بلکہ انسانیت کی جنگ ہیں۔
اسرائیلی ردعمل اور تلخ جملے
سانچیز کے اس دوٹوک مؤقف نے اسرائیل کو چرکا لگایا۔ وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے نہ صرف سانچیز کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا بلکہ اسے یہودی ریاست کی تباہی کی دھمکی سے تعبیر کیا۔ اس کا کہنا تھا: ’’لگتا ہے کہ اسپین کی تفتیشی عدالتیں، یہودیوں کی جلاوطنی اور نازی ہولوکاسٹ بھی سانچیز کے لیے کافی نہیں تھے۔‘‘ صہیونی وزیرِ خارجہ جدعون ساعر نے بھی اسپین پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی قوم ہے جس نے ماضی میں ’’یہودیوں پر مظالم ڈھائے‘‘ اور اب وہ تاریخ کے شعور سے عاری ہوکر اسرائیل کو موردِ الزام ٹھہرا رہی ہے۔
یہ جملے اس بات کا غماز ہیں کہ اسپین کا مؤقف اسرائیل کے لیے کس قدر پریشان کن ہے، خاص طور پر جب یہ بات یورپ کے کسی کونے سے نہیں بلکہ ایک بڑی اور بااثر ریاست کے سربراہ کی زبان سے نکلی ہو۔
یورپ میں منفرد آواز
پیڈرو سانچیز نہ تو کسی غیر سرکاری تنظیم کے سرگرم کارکن ہیں، نہ کوئی معروف صحافی یا فنکار، بلکہ وہ اسپین جیسے ایک بڑے یورپی ملک کے سربراہ ہیں جسے گزشتہ برس برطانوی جریدہ اکانومسٹ نے دنیا کی 37 امیر ترین ریاستوں میں معاشی کارکردگی کے لحاظ سے بہترین قرار دیا۔ اس کامیابی نے سانچیز کے مؤقف کو اور زیادہ وزنی بنا دیا، کیونکہ اب ان کی آواز محض نظریاتی نہیں بلکہ ایک کامیاب لیڈر کی آواز ہے جو اپنے ملک کو بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر چکا ہے۔
پیڈرو سانچیز: سیاسی کیریئر
پیڈرو سانچیز کا سیاسی سفر 1993 میں شروع ہوا جب انہوں نے ہسپانوی سوشلسٹ ورکرز پارٹی (PSOE) میں شمولیت اختیار کی۔ بعدازاں یورپی پارلیمان اور اقوامِ متحدہ میں بطور سیاسی مشیر خدمات انجام دیں۔ 2004 میں میڈرڈ سٹی کونسل کے رکن بنے اور 2009 میں پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے۔
2011 میں سیاست کے ساتھ ساتھ علمی میدان میں بھی قدم رکھا اور معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 2014 میں پارٹی کے سربراہ منتخب ہوئے۔ اس وقت وہ ایک نسبتاً غیر معروف شخصیت تھے لیکن جلد ہی اپنی انتھک محنت اور غیر متوقع کامیابیوں کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔
اکتوبر 2016 میں انہیں عارضی طور پر قیادت سے ہٹا دیا گیا، لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ اپنی گاڑی میں اسپین بھر کا سفر کیا، 40 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، عوام سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور بالآخر سات ماہ بعد دوبارہ اپنی پارٹی کی قیادت حاصل کرلی۔
جون 2018 میں انہوں نے پارلیمان میں تاریخی عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے قدامت پسند حکومت کا تختہ الٹ کر وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا۔ یہ اسپین کی تاریخ میں پہلی بار تھا کہ کسی وزیراعظم کو پارلیمان نے اس طرح معزول کیا۔
کامیاب اصلاحات اور عوامی مقبولیت
اقتدار میں آتے ہی سانچیز نے کم سے کم اجرت میں اضافہ کیا، خواتین پر مشتمل کابینہ تشکیل دی اور مہاجرین کے حقوق کا دفاع کیا۔ انہوں نے عوامی بہبود کے منصوبے شروع کیے جس سے ان کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ معاشی میدان میں اسپین نے ان کے دور میں حیران کن ترقی کی۔ 2024 میں اکانومسٹ نے اسپین کو دیگر یورپی ریاستوں کے لیے ’’نمونہ‘‘ قرار دیا۔
ٹرمپ اور اسرائیل سے اختلاف
پیڈرو سانچیز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ناقد رہے۔ انہوں نے نیٹو ممالک سے دفاعی اخراجات میں 5 فیصد تک اضافے کے ٹرمپ کے مطالبے کو مسترد کردیا اور صرف 2.1 فیصد پر اکتفا کیا۔ وہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ارب پتی طبقے کو بھی جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ یہی ضد اور مزاحمت اسرائیل کے خلاف بھی نظر آتی ہے۔
اسپین اور فلسطین: ایک تاریخی پس منظر
فلسطین کے ساتھ اسپین کی ہمدردی بہت قدیم اور تاریخی نوعیت کی حامل ہے۔ اسپین نے دوسری جنگِ عظیم میں حصہ نہیں لیا، اس لیے اسے اسرائیل کے قیام کے حوالے سے وہ احساسِ جرم نہیں تھا جو یورپی ریاستوں کو لاحق تھا۔ 1979 میں اسپین نے یاسر عرفات کو میڈرڈ میں خوش آمدید کہا اور فلسطینی تنظیم کے دفتر کو سرکاری حیثیت دی۔ 1986 میں یورپی یونین میں شمولیت کے لیے اسپین کو مجبوراً اسرائیل کو تسلیم کرنا پڑا، لیکن ساتھ ہی اس نے عرب ممالک کو یقین دہانی بھی کرائی کہ فلسطین کے ساتھ تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔
2012 میں اسپین نے اقوامِ متحدہ میں فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دینے کے حق میں ووٹ دیا۔ 2024 میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا اور اسرائیل کے خلاف کئی قراردادوں کی حمایت کی۔
اسپین کے عوام کی حمایت
اطالوی حکومت کی طرح عوام بھی فلسطین کے سب سے بڑے ہمدردوں میں شامل ہیں۔ فلسطین کے مسئلے پر یورپ کے مختلف ممالک میں یکجہتی کے مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن اسپین میں عوامی حمایت ہمیشہ نمایاں اور پرزور رہی ہے۔ میڈرڈ، بارسلونا، ویلنسیا اور دیگر شہروں میں لاکھوں افراد نے جلوس نکالے، جن میں فلسطینی پرچم اور آزادی کے نعرے بلند کیے گئے۔ حالیہ مہینوں میں عوامی دباؤ اس قدر بڑھ گیا کہ ہسپانوی حکومت کو واضح پیغام ملا کہ محض اخلاقی بیانات کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔ اسپین کے عوام کا یہ پرزور اور مسلسل احتجاج یورپی سیاست میں ایک اہم حوالہ بن چکا ہے اور یہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ مسئلہ فلسطین صرف مشرقِ وسطیٰ کا نہیں بلکہ یورپی عوامی ضمیر کا بھی مسئلہ بن چکا ہے۔
حالیہ اقدامات اور پابندیاں
غزہ میں جاری جنگ کے بعد وزیراعظم سانچیز نے اسرائیل کے خلاف کئی عملی اقدامات کیے:
اسلحے کی برآمدات پر پابندی اور 700 ملین یورو کے معاہدے کی منسوخی۔
اسرائیلی کمپنی سے 287.5 ملین یورو کے اینٹی ٹینک میزائلوں کی خریداری روک دی۔
اسرائیلی ساختہ گولہ بارود کی خریداری منسوخ کردی۔
اسرائیلی فوجی جہازوں اور ہتھیار بردار کشتیوں کے لیے بندرگاہیں اور فضائی حدود بند کر دی۔
اسرائیلی وزیروں سمیت انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث افراد پر پابندی۔
مقبوضہ فلسطینی بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر پابندی۔
فلسطین کے لیے 150 ملین یورو کی انسانی امداد کا اعلان۔
عوامی دباؤ اور سیاسی ماحول
اسپین کے اندر فلسطین کے حق میں زبردست عوامی رائے موجود ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق 82 فیصد عوام اسرائیلی کارروائیوں کو ’’نسل کشی‘‘ قرار دیتے ہیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں سمیت حزبِ سومار اور بودیموس مسلسل حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ اسرائیل سے مکمل تعلقات ختم کیے جائیں۔
دوسری طرف دائیں بازو کی جماعتیں سانچیز پر الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ اسپین کو عالمی سطح پر ’’شرمندہ‘‘ کررہے ہیں۔ اس طرح سانچیز بائیں بازو کے دباؤ اور دائیں بازو کی تنقید کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کا دباؤ
امریکہ نے سانچیز کی پالیسی کو ’’انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی‘‘ قرار دیا ہے۔ واشنگٹن کو اس پر خاصی تشویش ہے کیونکہ اسپین میں دو بڑی امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ علاوہ ازیں، اسرائیل اور اسپین کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے اور ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے معاہدے بھی ہیں جنہیں ختم کرنا آسان نہیں۔
پیڈرو سانچیز آج یورپ میں اسرائیل مخالف سب سے نمایاں اور جری آواز ہیں۔ وہ محض بیانات پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ عملی اقدامات بھی کرتے ہیں۔ گزشتہ برس رفح بارڈر کھلوانے کے لیے وہ بنفس نفیس خود مصر پہنچے تھے اور انہوں نے اپنے ہاتھوں بارڈر کھولنے کی تقریب کا فیتہ کاٹ کر افتتاح کیا۔ ان کی پالیسی ایک طرف اسپین کے تاریخی پس منظر اور عوامی رائے کی عکاس ہے، تو دوسری طرف ان کے ذاتی نظریات اور سیاسی جرات کی بھی۔ ان کے اقدامات سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ یورپ میں اب بھی کچھ رہنما ایسے موجود ہیں جو فلسطینی عوام کے حق میں انصاف کی بات کرنے سے گریزاں نہیں، چاہے اس کے نتیجے میں اسرائیل اور امریکہ ناراض ہی کیوں نہ ہوں۔ پیڈرو سانچیز کا موقف اور اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یورپ کی خاموش اکثریت کے باوجود کچھ رہنما ایسے ہیں جو طاقتور لابیوں کے دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اصولی مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ ان کا فلسطین کے لیے آواز بلند کرنا محض وقتی سیاست نہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل ہے جس نے اسپین کو ہمیشہ فلسطینی عوام کے قریب رکھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سانچیز کے اقدامات یورپ کی پالیسیوں میں ایک نئی لہر پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر اسپین جیسے بڑے ملک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات محدود کیے ہیں تو یہ مثال برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی لیے اسرائیل کی بے چینی اور امریکہ کی ناراضی فطری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سانچیز یہ سلسلہ آخر تک جاری رکھ پائیں گے؟ اسپین کی داخلی سیاست، یورپی یونین کی پیچیدگیاں اور امریکی دباؤ ہر لمحہ ان کے راستے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ایک بات طے ہے کہ سانچیز نے تاریخ میں اپنا نام ان رہنماؤں کی فہرست میں درج کرا دیا ہے جو فلسطینیوں کے لیے صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے کی جرات رکھتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں