جامشورو میں عدالت کے حکم پر بحریہ ٹاؤن کی تمام غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا اور تقریباً 892 ایکڑ عوامی زمین کو قبضہ مافیا سے واگزار کرا لیا گیا۔
بحریہ ٹاؤن کا کالا چہرہ بے نقاب! عوام کی 893 ایکڑ زمین ہڑپنے کی سازش آج زمین بوس ہوئی۔ جامشورو کے بلڈوزر نے ان کا غرور توڑ دیا، جعلی کاغذات، دھونس اور سرمایہ سب بے بس ثابت ہوئے۔ یہ پیغام ہے کہ عوام کے حق پر کوئی مافیا طاقت نہیں دکھا سکتا!#BahriaTownMafiaExposed pic.twitter.com/EpXswv1Ybj
— Karachi Times (@KarachiTimes123) September 23, 2025
عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ بحریہ ٹاؤن نے جعلی کاغذات اور دھونس کے ذریعے اس زمین پر ناجائز قبضہ کیا تھا، جسے قانون کے مطابق کالعدم قرار دے دیا گیا۔
بحریہ ٹاؤن کی جعلی بادشاہت قانون کے سامنے زمین بوس!
893 ایکڑ زمین پر قبضہ غیر قانونی قرار، جعلی کاغذات مسترد، اور بلڈوزر کے نیچے غرور کی دیواریں ڈھیر۔
یہ صرف ایک فیصلے کی جیت نہیں بلکہ ہر قبضہ مافیا کے لیے انتباہ ہے۔#BahriaTownMafiaExposed pic.twitter.com/dwxEuUSqTD— PakVocals (@PakVocals) September 23, 2025
کارروائی کے دوران اینٹی انکروچمنٹ ٹیموں اور بلڈوزر کی مدد سے تمام تجاوزات ہٹا دی گئیں اور زمین کو اس کی اصل حیثیت میں بحال کر دیا گیا۔
اس فیصلے پر عوامی اور سماجی حلقوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برسوں کی جدوجہد اور عوامی دعائیں رنگ لے آئیں۔ سوشل میڈیا پر بھی شہریوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کی اجارہ داری اور ناجائز طاقت کو قانون کے سامنے بے بس قرار دیا۔
#BahriaTownMafiaExposed
کیا اس ملک میں جس کے پاس پیسہ ہے، وہ کچھ بھی کر سکتا ہے؟ کیا کوئی اُس کے آگے بند باندھنے کی ہمت نہیں کر سکتا؟ کیا کوئی اُس سے قانون کے مطابق نمٹنے کے لیے قدم نہیں بڑھا سکتا؟#Justice4BahriaVictims pic.twitter.com/PKQO1dDH8M— Salah Uddin (@Salahuddin_kk) September 23, 2025
لوگوں نے لکھا کہ بحریہ ٹاؤن کا غرور، سرمایہ اور جعلی بادشاہت آج زمین بوس ہو گئی ہے اور یہ فیصلہ ہر اس قبضہ مافیا کے لیے کھلا پیغام ہے جو عوامی زمین کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا کہ ملک ریاض اور دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی طاقتور گروہ عوامی زمینوں پر قبضے کی جرات نہ کرے۔ عوام نے کہا کہ کرپشن کے پیسوں اور ناجائز ہتھکنڈوں سے کھڑے کیے گئے منصوبے دیرپا ثابت نہیں ہو سکتے۔
مزید برآں بحریہ ٹاؤن ٹو جیسے نئے منصوبوں سے عوام کو محتاط رہنے کی اپیل بھی کی گئی ہے، کیونکہ ایسے پراجیکٹس کو عوامی استحصال اور لوٹ مار سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
جامشورو میں ہونے والا یہ فیصلہ نہ صرف عوامی زمین کی بازیابی کی علامت ہے بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ قانون کی نظر میں کوئی بھی شخص یا ادارہ طاقتور نہیں۔ زمین اپنے اصل وارث یعنی عوام کو واپس مل گئی اور ناجائز قبضہ کرنے والوں کا غرور خاک میں مل گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








