روس اور ایران نے بدھ کے روز ایران میں چھوٹے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے حوالے سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ یہ اعلان روس کی سرکاری جوہری کارپوریشن روس اٹوم نے کیا۔
یہ معاہدہ ماسکو میں ہونے والی ملاقات کے دوران روس اٹوم کے سربراہ الیکسی لیخاچوف اور ایران کے اعلیٰ جوہری عہدیدار محمد اسلامی کے درمیان طے پایا۔ روس اٹوم نے اس کو ایک “اسٹریٹجک منصوبہ” قرار دیا۔
یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات کو بمباری کر کے تباہ کیا ہے۔
شاہین ڈرونز نے دبئی میں رہائشی عمارت میں لگی آگ 6 منٹ میں بجھادی، ویڈیو
ایرانی نائب صدر اور جوہری ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے رواں ہفتے ایرانی سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ایران کا منصوبہ ہے کہ 2040 تک 20 گیگاواٹ جوہری توانائی کی استعداد حاصل کرنے کے لیے آٹھ ایٹمی بجلی گھر تعمیر کیے جائیں۔
فی الحال ایران کو زیادہ طلب کے مہینوں میں بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور اس کے پاس صرف ایک فعال جوہری بجلی گھر ہے جو بوشہر کے جنوبی شہر میں واقع ہے۔ یہ پلانٹ روس نے تعمیر کیا تھا اور اس کی صلاحیت تقریباً ایک گیگاواٹ ہے۔
روس کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور رواں سال کے آغاز میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری مقامات پر کیے گئے حملوں کی ماسکو نے مذمت کی تھی۔ ان حملوں کا مقصد بظاہر ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکنا بتایا گیا تھا۔
تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








