پاکستان کا بھارت کے خلاف جنگ میں مصنوعی ذہانت کا استعمال؟ وزیر دفاع کی اقوام عالم کو وارننگ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

دنیا تیزی سے ٹیکنالوجی کی دہلیز پار کر رہی ہے لیکن کیا ہم خود اپنی تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک غیرمعمولی وارننگ دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایسی حقیقت سے پردہ اٹھایا جس نے عالمی رہنماؤں کو چونکا دیا۔

خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ اگر مصنوعی ذہانت (A.I) کو قابو میں نہ رکھا گیا خاص طور پر اگر اسے ہتھیاروں کے طور پر استعمال کیا گیا تو دنیا ایک ایسے خطرناک دور میں داخل ہو سکتی ہے جہاں جنگ کا فیصلہ انسان نہیں بلکہ مشینیں کریں گی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ حیران کن ٹیکنالوجی بیک وقت ترقی اور تباہی کا راستہ فراہم کر سکتی ہے۔ ایک طرف یہ سماجی اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کر سکتی ہے مگر دوسری جانب یہ عالمی طاقتوں میں عدم توازن، ناہمواری اور تنازعات کو بھی ہوا دے سکتی ہے۔

انہوں نے ایک دل دہلا دینے والا انکشاف کیا کہ حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران پہلی بار خودکار ہتھیاروں اور تیز رفتار کروز میزائلوں کا استعمال ہوا اور یہ سب ایک ایٹمی طاقت نے دوسری ایٹمی ریاست کے خلاف کیا، کیا یہی وہ مستقبل ہے جس کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں؟

خواجہ آصف نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مصنوعی ذہانت کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے تابع بنایا جائے۔ ایسے تمام خودکار نظام جن پر انسانی کنٹرول نہیں ان پر فوری پابندی عائد ہونی چاہیے۔

ایجادات کرنے والے ممالک کی فہرست جاری، جانئے پاکستان کا کونسا نمبر ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت ایک ایسی خطرناک طاقت بن چکی ہے جو مختلف شعبوں کو اس انداز سے جوڑ دیتی ہے کہ اس کے نتائج کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں رہتا۔ اگر اسے بغیر کسی نگرانی یا ضابطے کے چھوڑ دیا گیا تو دنیا ایسے فیصلے خودکار نظاموں کے حوالے کر بیٹھے گی جو انسانی جان کی قدر سے ناواقف ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ انسانیت کی تقدیر کسی مشین کے ہاتھ میں نہیں دی جا سکتی۔ جنگ اور امن کے فیصلے صرف انسانوں کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں۔

Related Posts