ٹونی بلیئر غزہ کا نیا حاکم؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Who Was the Lone Warrior Who Stood Against the Tank?

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے حال ہی میں ایک تہلکہ خیز خبر دی ہے کہ برطانوی وزیرِاعظم کے سابق ٹونی بلیئر کو غزہ کی پٹی کا عارضی حکمران مقرر کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ اس رپورٹ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت یہ منصوبہ تیار ہو رہا ہے جو امریکا کے ایک بڑے امن سازی پیکیج کا حصہ ہے۔ اس منصوبے میں کہا گیا ہے کہ بلیئر ایک نئی بین الاقوامی عبوری اتھارٹی کی سربراہی کریں گے جس میں فلسطینی ٹیکنوکریٹس بھی شامل ہوں گے اور جسے ایک عرب قیادت والی بین الاقوامی امن فورس کی حمایت حاصل ہوگی۔ مقصد بظاہر یہ بتایا جا رہا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو ہو، سلامتی بحال ہو اور بالآخر مکمل کنٹرول فلسطینی عوام کے حوالے کر دیا جائے۔ لیکن تاریخی پس منظر اور موجودہ حالات دیکھتے ہوئے یہ سوال شدت سے اٹھتا ہے کہ کیا یہ واقعی فلسطینیوں کے لیے خودمختاری کی راہ ہموار کرے گا یا یہ بھی عارضی انتظامات کے نام پر فلسطینی قوم کو مکمل طور پر دیوار سے لگانے کی ایک بھیانک سازش ہے؟

منصوبے کی تفصیلات

اس منصوبے کے تحت بلیئر جو اس وقت 72 برس کے ہیں ایک ایسی اتھارٹی کی سربراہی کریں گے جس میں فلسطینی ٹیکنوکریٹس بھی شامل ہوںگے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک غیرجانبدار بین الاقوامی ڈھانچے کے ذریعے غزہ کی تعمیرِ نو، انتظامیہ اور سلامتی کے معاملات کو آگے بڑھایا جائے تاہم یہ سب کچھ اس شرط پر منحصر ہوگا کہ اسرائیل اور حماس دونوں اس منصوبے پر متفق ہوں اور حماس نہ صرف اپنے تمام قیدی رہا کرے بلکہ غزہ میں ہتھیار بھی ڈال دے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس کے ذرائع اس منصوبے کو کئی تجاویز میں سے ایک قرار دیتے ہیں لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق چونکہ اس منصوبے کو صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے اس لیے اسے کامیابی کا سب سے زیادہ امکان حاصل ہے۔ عرب ذرائع کے مطابق متعدد عرب ریاستوں اور چند فلسطینی شخصیات نے اسکے خاکے کو مثبت انداز میں لیا ہے تاہم فلسطینی عوام اس پر کیسے ردعمل دیں گے اس پر کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

تاریخی پس منظر اور بلیئر کا کردار

ٹونی بلیئر کوئی نیا کردار نہیں۔ وہ 1997 سے 2007 تک برطانیہ کے وزیرِاعظم رہے اور اپنی مدتِ اقتدار میں انہوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر عراق جنگ میں شرکت کی جسے آج بھی ان کے کیریئر کا سب سے متنازع فیصلہ سمجھا جاتا ہے۔ برطانیہ کی جانب سے 2003 میں عراق پر فوجی حملے کا جواز جھوٹے اور نامکمل انٹیلی جنس رپورٹس پر مبنی تھا اور ایک سرکاری تحقیق میں ثابت ہوا کہ بلیئر نے اس مہم جوئی میں برطانوی عوام کو گمراہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین اور عرب دنیا میں ان کی ساکھ ہمیشہ مشکوک رہی ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ نے امریکہ کے ساتھ مل کر 2003 میں عراق پر حملہ کیا تھا۔ یہ جنگ بعد میں ایک تباہ کن مہم ثابت ہوئی، جس کے نتیجے میں لاکھوں عراقی مارے گئے اور خطے میں انتشار بڑھا۔ ایک سرکاری برطانوی تحقیق (Chilcot Inquiry) میں واضح کیا گیا کہ بلیئر نے جنگ کے جواز کے لیے نامکمل اور غلط معلومات استعمال کیں۔ اس پس منظر میں فلسطینی عوام اور عرب دنیا بلیئر کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے بجائے استعماری ایجنڈے کے نمائندے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

تاہم بلیئر کے پاس امن سازی کا ایک روشن باب بھی ہے۔ انہوں نے شمالی آئرلینڈ میں امن قائم کرنے والے جمعہ عظیم معاہدے (Good Friday Agreement) میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے ذریعے دہائیوں پر محیط مذہبی اور سیاسی تشدد کا خاتمہ ہوا۔ یہی تجربہ آج انہیں ایک امن ساز شخصیت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ 2007 سے 2015 تک مشرقِ وسطیٰ کی چوکڑی (Quartet) کے نمائندے بھی رہے جہاں انہوں نے فلسطینی معیشت کو سہارا دینے اور دو ریاستی حل کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔

فلسطینی اتھارٹی کی کمزور حیثیت

اس منصوبے کے پسِ پردہ ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ فلسطینی اتھارٹی (پی اے) اپنے اندرونی اختلافات اور اسرائیلی دباؤ کے باعث کسی بھی وقت حقیقی اقتدار سنبھالنے کی اہل نظر نہیں آتی۔ 1995 کے اوسلو ٹو معاہدے کے تحت مغربی کنارے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا جس میں ساٹھ فیصد سے زائد علاقہ براہِ راست اسرائیلی قبضے میں رہا۔ یہ معاہدہ پانچ سال کے لیے عارضی طور پر کیا گیا تھا مگر آج تیس برس کے قریب ہونے کو ہیں اور یہ عارضی حیثیت مستقل شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس مثال سے یہ بات عیاں ہے کہ عبوری انتظامات اکثر فلسطینی عوام کے لیے مستقل غلامی اور قبضے کا دوسرا نام بن جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں یہ اندیشہ بجا ہے کہ بلیئر کی قیادت میں بننے والی اتھارٹی بھی دراصل فلسطینی خودمختاری کو مزید موخر کرنے اور اسرائیلی کنٹرول کو طول دینے کا نیا طریقہ ہے۔

فلسطین میں عارضی انتظامات کی تاریخ

بلیئر کا نیا منصوبہ کوئی منفرد تجربہ نہیں۔ فلسطین کے مسئلے کی تاریخ میں “عبوری یا عارضی انتظامات کا سلسلہ طویل ہے لیکن ہر بار ان کا نتیجہ فلسطینی عوام کے لیے مزید نقصان کی شکل میں سامنے آیا۔

1. کیمپ ڈیوڈ (1978)

امریکی صدر جمی کارٹر کی ثالثی میں مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدہ ہوا۔ اس کے تحت مصر نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا اور صحرائے سینا واپس لے لیا لیکن فلسطینی مسئلہ ایک بار پھر خودمختاری کے پانچ سالہ منصوبے” کے نام پر موخر کر دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فلسطینیوں کو کچھ نہ ملا اور مصر عرب دنیا میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔

2. میڈرڈ کانفرنس (1991)

امریکہ اور سوویت یونین کی سرپرستی میں یہ کانفرنس بلائی گئی۔ فلسطینیوں کو اردنی وفد کے ساتھ ضمنی شریک بنا کر پیش کیا گیا۔ یہاں بھی اصل بات یہ تھی کہ فلسطینی ریاست کے سوال کو براہِ راست تسلیم کرنے کے بجائے ایک مرحلہ وار امن عمل کے نام پر کھٹائی میں ڈال دیا گیا۔

3. اوسلو اول (1993) اور اوسلو ٹو (1995)

یہ شاید سب سے اہم مثال ہے۔ اوسلو معاہدے میں فلسطینی اتھارٹی کو ایک عبوری سیٹ اپ کے طور پر بنایا گیا تاکہ پانچ سال کے اندر فلسطینی ریاست قائم کی جا سکے لیکن حقیقت میں اس معاہدے کے تحت مغربی کنارے کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا: علاقہ اے: فلسطینی انتظامی کنٹرول (صرف 18 فیصد)۔ علاقہ بی: مشترکہ انتظام (22 فیصد )اور علاقہ سی: مکمل اسرائیلی کنٹرول (60 فیصد) یہ پانچ سالہ عارضی انتظام آج تیس برس بعد بھی جاری ہے اور اسرائیل مسلسل بستیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس مثال سے یہ واضح ہے کہ انتقالی اتھارٹی یا عبوری انتظامیہ کا مطلب دراصل اسرائیلی قبضے کو مستقل کرنا ہوتا ہے۔

سائکس-پیکو دوم؟

1916کے خفیہ سائکس-پیکو معاہدے نے مشرقِ وسطیٰ کی پہلی بڑی تقسیم کی۔ برطانیہ اور فرانس نے سلطنتِ عثمانیہ کے عرب علاقوں کو آپس میں بانٹ لیا۔ آج بلیئر کا منصوبہ اسی پرانی روش کی بازگشت لگتا ہے۔ اس بار بھی وہی پرانے کھلاڑی میدان میں ہیں: برطانیہ، امریکہ اور ان کے اتحادی۔ غزہ کو بین الاقوامی انتظام میں ڈال کر دراصل ایک نیا نوآبادیاتی ماڈل پیش کیا جا رہا ہے جس میں فلسطینی عوام کا براہِ راست حقِ حکمرانی غائب ہے۔ امریکی اتحادی مشرق وسطیٰ کی تقدیر طے کر رہے ہیں جبکہ مقامی عوام ایک بار پھر اپنے مستقبل کے فیصلوں سے باہر رکھے جا رہے ہیں۔

علاقائی اور عالمی ردعمل:

اگرچہ ابھی تک اس منصوبے کے حوالے سے اسرائیل نے باضابطہ طور پر اپنی رائے نہیں دی، لیکن بظاہر یہ منصوبہ وزیرِاعظم نتن یاہو کے لیے مشکل ہوگا۔ اسرائیلی حکومت ہمیشہ سے غزہ پر مکمل سیکورٹی کنٹرول چاہتی ہے اور وہ کسی بھی بین الاقوامی فورس یا عرب قیادت والے نظام کو اپنی بالادستی کے لیے خطرہ سمجھ سکتی ہے۔ دوسری جانب حماس کے لیے یہ منصوبہ اس لیے ناقابلِ قبول ہے کہ اس میں نہ صرف اس کی سیاسی حیثیت ختم کر دی جائے گی بلکہ ہتھیار ڈالنے اور اس سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی جیسی کڑی شرائط بھی شامل ہیں۔ عرب دنیا کے کچھ ممالک، بالخصوص وہ جو واشنگٹن کے قریب ہیں، اس منصوبے کو مثبت سمجھ رہے ہیں کیونکہ یہ انہیں ایک امن پسند ثالث کے طور پر پیش کرتا ہے۔ لیکن کئی دیگر ممالک اور عوامی سطح پر فلسطینی مزاحمت کو دبانے کے اس منصوبے کو ایک نئی استعماری سازش سمجھا جا رہا ہے۔

مستقبل کے خدشات:

سوال یہ ہے کہ کیا بلیئر کی اتھارٹی واقعی غزہ کے لیے تعمیرِ نو اور امن کا ذریعہ بنے گی یا یہ ایک اور عبوری ڈھانچہ ہوگا جو فلسطینیوں کو اپنی اصل ریاستی خودمختاری سے مزید دور لے جائے گا؟ ماضی کی مثالیں واضح طور پر بتاتی ہیں کہ اس طرح کے منصوبے زیادہ تر اسرائیل کو سہولت پہنچانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اوسلو معاہدے کی طرح عبوری لفظ اکثر ایک جال ثابت ہوا ہے جس میں فلسطینی حقوق غیرمعینہ مدت تک معطل کر دیئے جاتے ہیں۔ ٹونی بلیئر کی بطور عارضی حکمرانِ غزہ تقرری کا منصوبہ محض ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ یہ ایک ایسا منظرنامہ ہے جو سائکس-پیکو کے بعد دوسری بڑی تقسیم کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی کمزوری، اسرائیلی ہٹ دھرمی اور مغربی طاقتوں کی پرانی مداخلتیں سب مل کر ایک ایسا مستقبل تشکیل دے رہی ہیں جس میں فلسطینی عوام کی خودمختاری ایک بار پھر موخر ہوسکتی ہے۔

اگر عالمی برادری نے تاریخ سے سبق نہ سیکھا اور فلسطینی عوام کی رائے کو نظرانداز کر کے نئے استعماری منصوبے مسلط کیے، تو خطہ مزید تنازعات اور خونریزی میں ڈوب سکتا ہے۔ بلیئر کا نام ایک بار پھر تنازع کے بیچ لا کر دراصل یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی قسمت اب بھی باہر کے طاقتور ہاتھوں میں ہے اور فلسطینی عوام کی آواز اب بھی دبائی جا رہی ہے۔

Related Posts