افغان طالبان حکومت نے بدھ کے روز ملک گیر انٹرنیٹ پابندی کی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے وضاحت دی ہے کہ حالیہ مواصلاتی تعطل کسی حکومتی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ پرانی اور بوسیدہ فائبر آپٹک کیبلز کے متبادل سے متعلقہ کام کی وجہ سے ہوا ہے۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب گزشتہ کئی دنوں سے بینکاری، تجارت، ہوابازی اور انسانی ہمدردی پر مبنی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی تھیں اور ملک میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔
طالبان حکام نے اپنے پہلے باضابطہ بیان میں کہاکہ ان افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں کہ ہم نے انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ بیان پاکستانی صحافیوں کے ایک واٹس ایپ گروپ میں جاری کیا گیا اور بعدازاں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر بھی شیئر کیا گیا۔
طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ مواصلاتی نظام میں خرابی کی بنیادی وجہ پرانی فائبر آپٹک لائنز ہیں جنہیں اب تبدیل کیا جا رہا ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ سروس کی مکمل بحالی کب تک ممکن ہوگی۔
سمندر میں طغیانی کا خطرہ، ماہی گیروں کو پانی میں جانے سے روک دیا گیا
انٹرنیٹ میں بڑے پیمانے پر تعطل کی خبریں سب سے پہلے نیٹ بلاکس نامی عالمی تنظیم نے دی تھیں، جس نے تصدیق کی کہ کابل سمیت پورے افغانستان میں انٹرنیٹ سروسز بیٹھ گئی ہیں جبکہ ٹیلی فون نیٹ ورکس بھی متاثر ہوئے ہیں۔
مزید ابہام اس وقت پیدا ہوا جب گزشتہ ماہ چند صوبائی حکام نے یہ اعتراف کیا تھا کہ طالبان امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر فحاشی کے خاتمے کے لیے انٹرنیٹ سروس عارضی طور پر بند کی گئی تھی۔
بچوں کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن نے ایک بیان میں کہا کہ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروسز میں رکاوٹ انسانی ہمدردی پر مبنی امدادی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مستحکم اور قابلِ اعتماد مواصلاتی نظام ہماری سرگرمیوں کے لیے ناگزیر ہے۔ ہم زندگی بچانے والی امداد فراہم کرنے اور شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے لیے فوری طور پر انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








