کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اپنے جدید نرسری منصوبے کے لیے کنٹریکٹ بنیادوں پر نئی آسامیاں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ تقرریاں پروجیکٹ پے اسکیل (پی پی ایس) کے تحت کی جائیں گی اور ان کا مقصد ایسے پیشہ ور افراد کو بھرتی کرنا ہے جنہیں ہارٹیکلچر، فلوریکلچر، مارکیٹنگ اور تکنیکی شعبوں میں مہارت حاصل ہو۔
ان آسامیوں میں سینئر منیجرنرسری، منیجرنرسری، اسسٹنٹ منیجر(گرین ہاؤس، فلوریکلچر، ٹری نرسری، مارکیٹنگ اور آرکیٹیکچر)، آٹوکیڈ آپریٹر، سپروائزرز اور ٹیکنیکل آپریٹرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف شعبوں کے لیے ہیلپرز کی بھی بھرتی کی جائے گی۔
اہلیت کے مطابق امیدواروں کے پاس ہارٹیکلچر، ایگریکلچر، فاریسٹری، باٹنی، ماحولیاتی سائنسز یا آرکیٹیکچر میں ڈگری ہونی چاہیے جبکہ پلانٹ سائنسز، بائیوٹیکنالوجی، فلوریکلچر، آٹوکیڈ ڈیزائن اور مارکیٹنگ میں مہارت رکھنے والوں کو ترجیح دی جائے گی۔
سینئر عہدوں کے لیے کئی برسوں کا عملی تجربہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ مختلف آسامیوں کے لیے عمر کی حد 30 سے 45 برس مقرر کی گئی ہے۔
درخواست دہندگان صرف سی ڈی اے کی آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن اپلائی کر سکیں گے۔ اس دوران تعلیمی اسناد، تجربے کے سرٹیفیکیٹس، قومی شناختی کارڈ، ڈومیسائل اور حالیہ تصویر اپ لوڈ کرنا لازمی ہوگا۔
آئی ایم ایف کی شرائط پوری! حکومت نے پرانی گاڑیوں کی امپورٹ کی اجازت دیدی
سیریل نمبر 1 سے 9 تک کی آسامیوں کے لیے 2000 روپے نان ریفنڈ ایبل فیس بھی جمع کرانی ہوگی جو آن لائن فراہم کردہ کیو آر کوڈ کے ذریعے ادا کی جائے گی۔
درخواست دینے کی آخری تاریخ 9 اکتوبر 2025 مقرر کی گئی ہے۔ نامکمل درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی اور وہ امیدوار جنہوں نے 18 مئی 2025 کے اشتہار کے تحت اپلائی کیا تھا انہیں دوبارہ اپلائی کرنے کی ضرورت نہیں۔ صرف شارٹ لسٹ امیدواروں کو ٹیسٹ یا انٹرویو کے لیے بلایا جائے گا اور کسی بھی قسم کا ٹی اے/ڈی اے فراہم نہیں کیا جائے گا۔
سی ڈی اے کے مطابق ملازمین کو ابتدائی طور پر دو سال کے لیے کنٹریکٹ پر بھرتی کیا جائے گا جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع دی جا سکتی ہے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ یہ بھرتیاں مکمل طور پر میرٹ پر کی جائیں گی تاکہ اس کے کمرشل نرسری منصوبے کے لیے ایک پیشہ ور ٹیم تیار کی جا سکے۔
امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ مقررہ تاریخ سے قبل اپنی درخواستیں جمع کرائیں اور مطلوبہ دستاویزات کو مکمل رکھیں تاکہ کسی قسم کی دشواری سے بچا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








