آئی ایم ایف کی شرائط پوری! حکومت نے پرانی گاڑیوں کی امپورٹ کی اجازت دیدی

تازہ ترین

تازہ ترین

Govt allows commercial import of used vehicles under IMF deal
FILE PHOTO

اسلام آباد میں حکومت پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور سخت شرط پوری کرتے ہوئے یکم اکتوبر سے پانچ سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں کی تجارتی بنیادوں پر درآمد کی باضابطہ اجازت دے دی ہے۔

وزارتِ تجارت کے مطابق یہ درآمدات اب صرف بینکوں کے ذریعے عمل میں لائی جائیں گی تاکہ شفافیت اور ضابطے کو یقینی بنایا جا سکے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ایسی گاڑیوں کی درآمد پر چالیس فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی جائے گی اور اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) جلد ہی نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔

انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) نے بھی تجارتی درآمدات کے لیے سخت شرائط مقرر کی ہیں، جن کے تحت صرف وہی گاڑیاں پاکستان میں لائی جا سکیں گی جو بین الاقوامی سرٹیفیکیشن حاصل کریں گی۔

پیٹرولیم قیمتیں بڑھنے کے بعد ٹرانسپورٹرز کی کرایوں میں اضافے کی دھمکی

اس کے علاوہ پرانی گاڑیوں کی مالیت میں ماہانہ کمی یا فرسودگی کے حوالے سے بھی قواعد و ضوابط جلد جاری کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کے دوسرے جائزے کے سلسلے میں بات چیت جاری ہے، جس میں ریونیو کی کمی، زیر التوا ٹیکس مقدمات اور مالیاتی اصلاحات پر غور کیا جا رہا ہے۔

ایف بی آر ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو اس بات پر بریفنگ دی گئی کہ ٹیکس اہداف کیوں حاصل نہ ہو سکے۔

آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ ایف بی آر سے متعلق عدالتوں میں زیر التوا مقدمات، خصوصاً سپر ٹیکس سے متعلق فیصلوں کو تیز کیا جائے۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اگر یہ مقدمات اس کے حق میں آئے تو تقریباً دو سو ارب روپے کی وصولی ممکن ہے، تاہم اگر فیصلے خلاف ہوئے تو متبادل اقدامات کرنا پڑیں گے۔

حکومت نے آئی ایم ایف کو یہ بھی بتایا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب کے باعث ساٹھ ارب روپے کے لگ بھگ ٹیکس آمدن کا نقصان ہوا ہے، اسی لیے ایف بی آر نے ریونیو اہداف میں نرمی کی درخواست کی ہے، تاہم آئی ایم ایف نے فی الحال اس پر کوئی حتمی جواب نہیں دیا اور ٹیکس نیٹ میں اضافے پر زور دیا ہے۔

Related Posts