آدھی رات کے قریب امریکی صدر کی دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے، حماس نے ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے کو بعض تحفظات کے ساتھ قبول کیا، جس میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ کچھ شقوں پر اب بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ حماس نے یہ فیصلہ مذاکرات کاروں اور ثالثوں، مصر، قطر اور ترکی سے گہری مشاورت کے بعد کیا ہے ۔ غزہ میں پیش آنے والی تباہی کے پیش نظر، جس کا اسرائیل نے پہلے ہی اعلان کر رکھا تھا، کہ جو بھی غزہ شہر میں باقی رہ گیا اسے دہشت گرد یا دہشت گردوں کا حامی سمجھا جائے گا- حماس کے پاس اپنے مفاد میں اس سے اتفاق کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔
اپنے باضابطہ بیان میں حماس نے اپنے گروپ کے دیگر دھڑوں، آزادی پسندوں، اور بعض مسلم ممالک، بشمول ثالثوں اور مذاکرات کاروں سے مشورہ کیا۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ اسرائیل امن منصوبے کی شقوں پر کس حد تک عمل کرے گا؟ کئی شقیں مبہم ہیں اور نفاذ کے وقت ان کی وضاحت اور درستگی کی ضرورت ہوتی ہے۔
پورے منصوبے کا سب سے بڑا پہلو ، اور اس کی کامیابی کی کلید یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ آٹھ مسلم ممالک کی مداخلت کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ منصوبے پر عملدرآمد کے دوران یہ ریاستیں حتی الامکان اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتی رہیں گی۔ اس کے علاوہ، بورڈ آف پیس کے چیئرمین ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔
اس لیے ایسا لگتا ہے کہ حماس کے پاس صرف دو ہی راستے رہ گئے تھے، کہ یا تو اس منصوبے کو قبول یا پھر مسترد کردے۔ تاہم غزہ جنگ بندی پلان مسترد کرنے کے نتائج نہ صرف حماس کے لیے بلکہ غزہ شہر کی پوری بچ جانے والی آبادی کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتے تھے ، جو آئی ڈی ایف کی ہدایت کے مطابق اپنی موجودہ پوزیشن سے نہیں ہٹ سکتی تھی۔پلان مسترد ہونے کی وجہ سے سینکڑوں یا اس سے بھی ہزاروں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو غزہ شہر میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں سے 250,000 سے زیادہ لوگ انخلاء کی حتمی انتباہ کے باوجود ٹھہرے رہے۔
ایسے حالات میں حماس اور اسرائیل کے درمیان طاقت کا بے تحاشا عدم توازن دیکھتے ہوئے ، جس کی پیمائش کئی گنا نہیں بلکہ ہزاروں بار کی گئی ہے ، ایسا لگتا ہے کہ حماس کے پاس کوئی حقیقی متبادل نہیں تھا اور ٹرمپ کے منصوبہ کو قبول کرنا ایک قابل عمل اور دانشمندانہ فیصلہ تھا، خاص طور پر آٹھ مسلم ممالک کی شمولیت کے ساتھ یہ فیصلہ نہ صرف غزہ بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ایک ایسا راستہ ثابت ہوسکتا ہے جو غزہ میں جنگ بندی کی امید لائے ، جو تنازعات کی وجہ سے عدم استحکام کے دہانے پر تھا۔
اگرچہ یہ امن غیر مستحکم ہو سکتا ہے اور مستقل قرار نہیں دیا جاسکتا، کم از کم موجودہ حالات کے تناظر میں یہ مظلوم فلسطینیوں کی جانیں بچانے اور استحکام کا موقع فراہم کرتا ہے اور اگر یہ ممالک فلسطین کے ساتھ منسلک اور منصوبے پر عملدرآمد جاری رکھیں اور اگر ٹرمپ یا امریکا کی کوئی اور ری پبلکن انتظامیہ آئندہ مدت کیلئے بھی حکومت جاری رکھے تو مستقل قیامِ امن بھی ممکن ہوسکتا ہے۔ ٹرمپ کے موجودہ دور میں بھی پائیدار امن کی بنیاد قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو ٹرمپ بجا طور پر نوبل انعام کے مستحق ہوں گے اور ان کو ر تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور امن کا نوبل انعام
ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست ہمیشہ تنازعات اور غیر روایتی فیصلوں سے منسلک رہی ہے لیکن ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے انھوں نے چند ایسے اقدامات کیے، جن کی بنیاد پر ، تمام تر تنازعات اور اختلافات کے باوجود انھیں امن کا نوبل انعام دیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں کئی ایسے بیانات اور اقدامات کیے جو شاید بے مثال اور دنیا کو حیران کر دینے والے تھے اور ان میں کچھ ایسے واقعات بھی تھے جنہوں نے علاقائی اور عالمی سطح پر امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔
پہلی اور سب سے اہم دلیل بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں ثالث کے طور پر ٹرمپ کا ممکنہ کردار ہے جب دونوں ممالک ایٹمی جنگ کے دہانے پر تھے۔ حکومت پاکستان نے ٹرمپ کی نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے یہ جواز پیش کیا کہ انھوں نے جنوبی ایشیا کی دو جوہری ریاستوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ بھارت نے متعدد مواقع پر اس کی تردید کی لیکن پاکستان نے اس کی حمایت کی۔ پاکستان کے مؤقف کے مطابق اگرچہ یہ تنازع مکمل طور پر حل نہیں ہوا تھا لیکن ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش اور ان کے بیانات نے وقتی طور پر کشیدگی کو کم کرتے ہوئے خطے کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔ اس طرح کے اقدامات کو بعض مبصرین ڈونلڈ ٹرمپ کی مثبت نیت اور امن قائم کرنے کی کوششوں کے ثبوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
یہاں ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے دعوے بھی قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے بارہا کہا کہ ان کی پالیسیوں کی بدولت دنیا کی “سات بڑی جنگیں” ختم ہوئیں یا کم از کم ان میں اضافہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق انہوں نے امریکی افواج کو غیر ضروری تنازعات سے نکالا اور یہ حکمت عملی امن کے نوبل انعام کے معیار پر پوری اترتی ہے۔ ناقدین اس مؤقف سے متفق نہیں اور کہتے ہیں کہ درحقیقت، ٹرمپ کی بعض پالیسیوں نے تناؤ میں اضافہ کیا، لیکن ان کے مداحوں کا ماننا ہے کہ، کم از کم، امریکی صدر نے نئی جنگیں شروع نہیں کیں، جو کہ کسی بھی امریکی حکومت کے لیے کوئی چھوٹی کامیابی نہیں ہے۔
اس کے علاوہ ٹرمپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے عالمی سطح پر طاقت کے استعمال کی بجائے کئی مواقع پر سفارتی اور تجارتی دباؤ اور مذاکرات کو ترجیح دی۔ شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات ہوں یا طالبان سے براہ راست بات چیت، ٹرمپ کا انداز یقیناً غیر روایتی تھا لیکن انہوں نے دشمن ممالک سے بھی براہ راست مذاکرات کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح کے اقدامات کو بعض ماہرین “امن کے قیام کے نئے طریقوں” کے طور پر دیکھتے ہیں۔
عالمی سطح پر کچھ دیگر ممالک نے بھی ٹرمپ کی حمایت کی ہےاور اس فہرست میں پاکستان سرفہرست ہے جہاں حکومت نے انہیں حقیقی امن ساز قرار دیا، اسی طرح بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع میں کسی مستقل اور پائیدار معاہدے کی ثالثی کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نوبل انعام کے معیار پر پورا اترے گا۔
بلاشبہ ایک بڑا طبقہ اس سوچ کے مکمل خلاف ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے کئی خطوں میں امن کو نقصان پہنچایا۔ مثال کے طور پر اس نے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کی اور مسئلہ فلسطین کو پس منظر میں دھکیل دیا جس سے مشرق وسطیٰ میں ایک نیا عدم توازن پیدا ہوا۔ اسی طرح ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور افغانستان سے انخلاء کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے بھی ان کی خارجہ پالیسی پر سوالیہ نشان چھوڑ دیا۔
تاہم جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ پاکستان بھارت کشیدگی کو کم کرنے اور محدود جنگ کے خاتمے میں امریکی صدر کا کردار انتہائی اہم تھا۔ اسی طرح غزہ کی جنگ بندی بھی ایک ایسا قدم ہے جو امریکی صدر کو امن کے نوبل انعام کا مستحق بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوبل کمیٹی کے لیے فیصلہ آسان نہیں ہوگا۔ لیکن اگر ٹرمپ واقعی روس-یوکرین یا مشرق وسطیٰ جیسے کسی بڑے تنازع میں مستقل امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو پھر انہیں امن کا نوبل انعام دینے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں