افغان طالبان کے سینئر رہنما ملا عبدالغنی برادر، جنہیں بعض حلقے عبداللہ کے نام سے بھی جانتے ہیں نے حالیہ شوریٰ اجلاس میں طالبان ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان مضبوط تھے، ہیں اور آئندہ بھی اپنے مؤقف پر قائم رہیں گے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں ملا برادر نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی فون کال انہوں نے خود ختم کی تھی اور گفتگو کے دوران انہوں نے امریکی صدر کو شرپسند بھی کہا تاہم ان بیانات کے باوجود طالبان کے اندرونی حلقوں میں ٹرمپ کے رویے نے خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔
Mullah Abdul Ghani Baradar (known as Abdul and reportedly Trump’s favored Taliban) told Taliban members in an internal meeting not to fear @realDonaldTrump ‘s warnings, to maintain their morale and to trust the Taliban leadership.
He also added that he himself had cut off the… pic.twitter.com/tN7o4QOTYi— Ahmad Sharifzad (@AhmadSharifzad) October 4, 2025
ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے بگرام ایئر بیس پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی دھمکیوں نے کئی طالبان ارکان کو پریشان کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ بگرام وہی جگہ ہے جہاں امریکہ نے برسوں تک طالبان جنگجوؤں کو حراست میں رکھا تھااور اب وہاں دوبارہ امریکی موجودگی کی باتیں طالبان کے لیے ایک سنگین خدشہ بن گئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس دباؤ کے باعث کچھ طالبان نے اپنی ذمہ داریاں چھوڑ دی ہیں جبکہ کئی دوسرے قیادت پر اعتماد کھوچکے ہیں۔ کچھ ارکان نے تو ملک چھوڑنے کی تیاری بھی شروع کر دی ہے اور پاسپورٹس بنوا لیے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال میں باہر جا سکیں۔
ملا برادر کی کوشش ہے کہ حوصلہ برقرار رکھا جائے لیکن زمینی حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ امریکی دھمکیاں طالبان کے اندر گہری بےچینی پیدا کرچکی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








