بین الاقوامی سطح پر غزہ کا تنازعہ ایک نئے موڑ پر پہنچ گیا ہے جہاں جنگ بندی کے امکانات اور چیلنجز ایک ساتھ موجود ہیں اور حالیہ پیشرفت نے غزہ کے حوالے سے امید کی ایک کرن کو بیدار کیا ہے۔
امید کی اس کرن کے ساتھ ساتھ گزشتہ 2 سال سے جاری غزہ جنگ میں کئی پیچیدگیاں اور دھمکی آمیز رویے بھی سامنے آئے ہیں اور حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایسے ہی بیانات میں اپنا حصہ ڈال دیا ہے۔
سب سے توجہ طلب امر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ جنگ بندی پر پیش کیا گیا 20 نکاتی منصوبہ عالمی اہمیت کا حامل ہے جو غزہ میں باقی رہ جانے والے ڈھائی لاکھ فلسطینیوں کی جانیں بچانے کیلئے اہم اقدام ثابت ہوسکتا ہے۔
تاہم ہزاروں فلسطینیوں کی شہادت کے بعد اسرائیل کے مزید حملوں کا شکار بننے سے فلسطینیوں کی جان بچانے والے غزہ جنگ بندی پلان کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کا ذکر بھی ایک الگ اہمیت رکھتا ہے ۔
حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر حماس نے یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کا کنٹرول چھوڑنے سے انکار کردیا تو اسے مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ ہفتے کے روز سامنے آنے والا یہ بیان سی این این کے صحافی جیک کو ٹیکسٹ میسیج کے ذریعے دیا گیا۔
سی این این کے صحافی نے سوال کیا تھا کہ اگر حماس اقتدار پر قائم رہنے پر اصرار کرے تو کیا ہوگا۔ امریکی صدر نے جواب دیا کہ اس کا نتیجہ مکمل تباہی ہوگا۔
آخر میں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اپنے دھمکی آمیز لہجے کے باوجود، ڈونلڈ ٹرمپ کا 20 نکاتی جنگ بندی منصوبہ غزہ کے لیے امید کی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ اس منصوبے نے نہ صرف غزہ کے عوام کو نسل کشی کی مہم کے دوران نئی امید دی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی نمایاں توجہ حاصل کی ہے۔
اس منصوبے کے نتیجے میں مغربی ممالک میں غزہ کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے سڑکوں پر آنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ خصوصاً ایمسٹرڈیم سمیت کئی دیگر شہروں میں لاکھوں افراد نے مظاہرے کیے، جو خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں