پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں بھارت کا مکروہ کردار

تازہ ترین

تازہ ترین

ابھی مئی میں ہی پاکستان نے خود سے 8گنا بڑی طاقت بھارت کے دانت کھٹے کیے تھے اور افغانستان میں اس وقت جو بھارت نے شرارت کی ہے، اس کے جال میں ہم نہیں پھنسیں گے اور جس طرح پاک فوج نے 11 اور 12اکتوبر کی درمیانی رات سے شروع ہونے والی در اندازی، دہشت گردی اور پشت پناہی کا منہ توڑ جواب دیا، اگر مستقبل میں بھی ایسا ہوا تو پاکستان مجبوراً اس کا جواب دیتا رہے گا، گو کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ سے اجتماعی طور پر افغانستان کے عوام کو اپنا بھائی ہی سمجھتے رہے ہیں اور سمجھتے رہیں گے۔

مگر ہمارے دشمنوں کے بہکانے سے اگر افغانستان کے چند افراد پاکستان کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنا کر پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کریں گے تو ایسی صورت میں اس کا جواب دینا بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہماری اپنی عزت و ناموس و تکریم کی حفاظت کیلئے ضروری ہوجائے گا۔

افغان عوام کو یہ پیغام جانا چاہئے کہ پاکستان نے گزشتہ 3 سے 4دہائیوں میں ان کی مہمان نوازی اور آبیاری کی ہے، افغان عوام میں وہ جوش و جذبہ پیدا نہ کیا جائے کہ وہ پاکستان اور پاکستانیوں کو اپنا دشمن سمجھنے لگیں۔ افغانستان میں را کی بہت بڑی فنڈنگ ہے جس کے سبب تہ در تہ ایسا ماحول پیدا کیا جارہا ہے ۔

بھارتی ٹی وی چینلز میں شادیانے بجائے جارہے ہیں اور اس محاذ آرائی کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔ پاکستان نے جو افغانستان کی چوکیوں پر قبضہ کیا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان جو ایک عسکری قوت کے طور پر عالمی سطح پر خود کو منوا چکا ہے ، ہم عالمی سطح پر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر سرحد پار سے حملہ ہوگا تو ہم اس پر چپ نہیں بیٹھیں گے۔ بھارت افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں در اندازی کررہا ہے اس کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم اور کمزور کرنا ہے۔ پاکستان معرکہ حق کے بعد روایتی اور ملٹری ڈپلومیسی کے لحاظ سے دنیا کے افق پر اپنا مقام حاصل کرچکا ہے بہت آگے بڑھ گیا ہے اور اسے ایسے معاملات میں الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اس موقعے پر ہم بہت تحمل سے کام کرتے ہوئے افغانستان میں رہنے والے مسلمان بھائیوں کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنا مناسب نہیں ہے۔ ہم آج بھی دردِ دل رکھتے ہوئے ان کے ساتھ ہیں۔

ماضی میں بھی ہم افغانستان کے ناظم الامور اور حکومت کو باور کراتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کو کنٹرول کریں۔ ہمارے پاس ثبوت اور شواہد ہیں کہ افغانستان کی سرحد سے پاکستان میں دہشت گردی طویل عرصے سے کی جارہی ہے لیکن یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ  کیا افغانستان حکومت میں یہ صلاحیت ہے کہ دہشت گردی اور اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول کرسکے؟

پاکستانی وزارت خارجہ نے افغانستان کے ساتھ بات چیت اور مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا ہے اور ہم ہمیشہ سے یہ چاہتے ہیں کہ افغانستان اس دہشت گردی پر قابو پائے اور افغانستان چاہے دانستہ یا نادانستہ طور پر اس دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے، اسے کنٹرول کرنا ہوگا۔ پاکستان کو مسلسل اور استقلال کے ساتھ افغانستان کو قائل کرتے رہنا ہوگا کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات نہ ہوں اور ہمارے دو طرفہ تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہوسکیں۔

پاکستان اپنی عسکری صلاحیتوں کو اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف استعمال نہیں کرنا چاہتا، لیکن ہمارے ملک کی قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں اور ہمارے سرحدی محافظوں کو اپنی جانوں کی قربانیاں دینی پڑیں تو ضروری ہے کہ اس کا عسکری طور پر بھی جواب دیا جائے جو پاکستان نے کردکھایا ہے۔

تاہم بھارت را کے ذریعے کثیر فنڈنگ کرتے ہوئے افغانستان کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرنے پر اکسا رہا ہے اور ماضی میں بھی اکساتا رہا ہے، اس کا کچھ تو اثر ہوگا ۔ ماضی میں پاکستان کے 2600کلومیٹر کے بارڈر کے ساتھ 16 کے قریب بھارتی قونصلیٹ کھولے گئے، ان کا مقصد بھی را کی مدد سے دہشت گردی کو فروغ دینا تھا۔

افغانستان کے باسیوں کو بھی اس کا احساس کرنا ہوگا کہ وہ اغیار کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی نہ بنیں اور پاکستان جیسے مسلمان ملک کو اپنا دشمن نہ سمجھیں۔ پاکستان اور افغانستان میں عوامی سطح پر جو تعلقات قائم ہیں، انہیں متاثر نہیں ہونے دینا چاہئے۔ اگر افغانستان کی چوکیوں سے بم اور بارود کی برسات کی جائے تو پاک فوج بھی بجائے انہیں ہار پہنانے کے، اس کا جواب دینے پر مجبور ہوگی۔

ہمیں علم ہے کہ دنیا میں آگ اور خون کی کتنی ہولی کھیلی جارہی ہے اور کتنی کھیلی جاچکی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان امریکا سمیت دیگر اسلامی ممالک کے ہمراہ 20 نکاتی غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کا حصہ بن چکا ہے ۔ اس عالمی امن کے بہت بڑے منصوبے پر عملدرآمد کے موقعے پر ہم نہیں چاہتے کہ پاک افغان کشیدگی کو ہوا دی جائے اور یوں امن کی فضا کو خون کے چھینٹوں سے داغدار کردیا جائے۔

ماضی میں عراق، لیبیا، شام، لبنان اور سوڈان سمیت دیگر ممالک میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی گئی اور اب بھی بے شمار ممالک جنگ کے شعلوں میں جھلس رہے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ افغانستان اس کشیدگی کو ہوا دے کر اپنے خطے کے امن کو خطرے میں نہ ڈالے تاکہ دونوں ممالک کے موجودہ اور آئندہ حالات بہتری اور ترقی کی جانب گامزن ہوسکیں اور کسی بھی عالمی جیو پولیٹیکل کھیل کا حصہ بننے سے اجتناب کرتے رہیں۔

Related Posts