پاکستان کے ساتھ ہیں یا فتنہ خوارج کے ترجمان؟ مولانا فضل الرحمان کو عوام نے آڑے ہاتھوں لے لیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان کے ساتھ معاملے خراب ہوئے تو قوم ایک صف میں نہیں ہوگی بلکہ تقسیم ہوجائے گی جبکہ جے یو آئی ف کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانی عوام خون کے رشتے سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے جنگ کسی صورت دونوں کے مفاد میں نہیں ہوگی۔

سوشل میڈیا پر مولانا فضل الرحمان کی ایک پرانی ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ بھارت کے خلاف صورتِ حال خراب ہونے پر قوم ایک ہوجائے گی مگر افغانستان کے خلاف ایسا اتحاد پیدا نہیں ہوگا۔ مولانا حامد الحق نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ صرف نعرے یا بیانات سے قوم متحد نہیں ہوتی ہمیں صورتحال کا گہرا تجزیہ کرناچاہیےاور یہ سمجھنا ہوگا کہ افغان مسئلے پر قوم کھڑی نہیں ہوگی۔

جے یو آئی ف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری بیان میں رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام بھائی ہیں اور مفاہمت و مذاکرات ہی حل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر جنگ ہوئی تو بھارت کے علاوہ امریکہ بھی کسی حکمت عملی کے تحت عمل میں آ سکتا ہے مثلاً بگرام ایئربیسز کے حصول کے لیے متحرک ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے دونوں رہنماؤں کے بیانات پر سخت ردعمل دیا۔ بعض لوگوں نے سوال اٹھایا کہ بھارت میں بھی بہت سے افراد کے خونی رشتے ہیں تو کیا بھارتی جارحیت پر خاموش رہنا درست ہوگا؟ کچھ صارفین نے کہا کہ جو بھی پاکستان کے خلاف بولے یا ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کرے، اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ایک صارف نے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ افغانستان کے متاثرین کے بارے میں کیوں نہیں بولتے، وہاں بچوں اور خاندانوں کی تباہی پر خاموشی قابلِ اعتراض ہے۔

ایک اور صارف نے سوال کیا کہ عوام ایک صف پر کیوں نہیں ہوں گی؟ ان کا کہنا تھا کہ لیڈروں کو عوام کی رہنمائی کرنی چاہیے، اگر افغان لیڈرز یا گروہ کسی بیرونی طاقت کے ہاتھوں استعمال ہوں تو پھر لیڈر ریاست کے ساتھ مخلص کیوں نہیں رہتے؟ شدید غم و غصے میں کچھ لوگوں نے کہا کہ جو بھی پاکستان کے خلاف ہوگا اُس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

مجموعی طور پر سوشل میڈیا پر مباحثہ شدت اختیار کر چکا ہے اور عوام یہ پوچھ رہے ہیں کہ قومی مفاد کو سامنے رکھ کر رہنماؤں کی جانب سے واضح موقف کب آئے گا۔

Related Posts