پاکستان  کے صبر کا پیمانہ لبریز۔۔۔حل کیاہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تاریخ کے مختلف ادوار میں ہچکولوں کا شکار رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین سیکڑوں کلومیٹرز پر محیط طویل سرحد ہے جسے ڈیورنڈ لائن کہتے ہیں اور جو 11 اور 12 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب کو افغان سرحد سے ہونے والے حملوں کے دوران  نشانے پر رہی، یہی وہ اہم نکتہ ہے جس نےپاکستان کو اپنے دفاع کا قانونی حق استعمال کرنے پر مجبور کردیا نتیجتاً سرحدوں کی بندش اور افغانستان سے تجارت کو منقطع کیا گیا۔

کیونکہ بات سرحد کی ہورہی ہے تو پاک افغان سرحد جو 1893 میں قائم کی گئی اور جس 2600 کلومیٹر  طویل لائن پر حال ہی میں باڑ بچھا کر سرحد کو مزید مستحکم کیا گیا، پاکستان اسے اپنی خودمختاری کا حصہ سمجھنے میں حق بجانب ہے۔ اس کے باوجود طالبان حکومت کا پراپیگنڈہ جاری ہے کہ اس سرحد  کی کوئی حیثیت نہیں جبکہ تاریخی دستاویزات ثابت کرتی ہیں کہ برطانیہ اور امریکا سمیت کئی ممالک اسے تسلیم کرچکے ہیں۔ اس  نکتے کا ذکراس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ افغانستان کی جانب سے سرحد پار سے جو حملہ اور دہشت گردی ہوئی، اسی ڈیورنڈ لائن کو عبورکرکے کی گئی جو کہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

فروری 2020 میں امریکا اور طالبان کے مابین ہونے والا دوحہ معاہدہ  جس کی توثیق اقوامِ متحدہ کی  سلامتی کونسل نے 9مارچ 2020 کو سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2513 کے ذریعے کی، جس میں طالبان نے افغان سرزمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ کیا، تاہم اس  کی پاسداری تاحال نہیں کی گئی اور طالبان حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی سمیت کئی دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کی وجہ سے پاکستان میں  دہشت گردی میں بے پناہ اضافہ ہوا۔

مجموعی طور پر 4 کروڑ 40لاکھ کی آبادی رکھنے والے افغانستان کے 42فیصد  پشتون، 27 فیصد تاجک، 9، 9فیصد ہزاروی اور ترکمانی  اور 2 فیصد بلوچ ہیں  اور افغانستان پر جو طالبان حکومت اس وقت عبوری طور پر برسر اقتدار ہے، اس نے سال 2021 میں جنگ و جدل کے ذریعے اس ملک کی حکومت حاصل کی جبکہ کوئی قابض عبوری حکومت عوام کی پسندیدہ حکومت نہیں سمجھی جاسکتی اور یہ عالمی طور پر تسلیم شدہ جمہوریت کے اصولوں کے بھی سراسر خلاف ہے، جبکہ دوحہ معاہدے کے مطابق عوامی نمائندہ حکومت کا وعدہ کیا گیا ہے  ۔

افغان حکومت نے حالیہ دنوں میں پاکستان میں صوبائی عصبیت کو بھی دوام بخشنا شروع کردیا جبکہ علاقائی عوامل کوہتھیار بنا کر  دہشت گردی کو فروغ دینے کیلئے استعمال کرنے میں کسی کا فائدہ نہیں۔اس کے باوجود پاکستان افغانستان کے ساتھ پڑوسی اور ہم مذہب مملکت ہونے کی حیثیت سے اپنے مراسم استوار رکھنا چاہتا ہے اور کسی بھی قسم کے تنازعے کے حق میں نہیں۔ لیکن جب 11 اور12اکتوبر 2025 کی درمیانی شب سرحد پار سے حملہ شروع ہوا تو اس میں ہمارے شہری اور فوجی جوان شہید ہونا شروع ہوگئے اور قبل ازیں سرحد پار سے دہشت گردی کے نتیجے میں  شہادتیں روز کا معمول بننے لگیں تو قومی قیادت کے پاس جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔

پاکستان نے افغان حملوں کا جواب دے کر اپنا قانونی حق استعمال کیا۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 1 اور آرٹیکل 2 کے جزو4 اور آرٹیکل 51 کے مطابق افغان جارحیت کا جواب دیا۔پاکستان نے مذاکرات  کے راستے سے راہِ فرار اختیار نہیں کی بلکہ آخری وقت تک ہماری کوشش رہی کہ سفارت کاری کی مدد سے دونوں برادر ممالک کے باہمی تنازعات کو حل کیا جائے اور ان کوششوں کو جاری و ساری رہنا چاہئے۔

پاکستان کے لوگ عام افغان شہریوں کو ہمسایہ اور ہم مذہب   ہونے کے ناطے اپنا بھائی سمجھتے ہیں اور ہمیشہ سے سمجھتے آئے ہیں۔قیامِ پاکستان کے وقت بھی انہوں نے ہماری مخالفت کی تھی اور 1960 کی دہائی میں باجوڑ پر حملہ کردیا تھا  اور 1971 میں سقوطِ ڈھاکہ کے موقعے پر پاکستان سے اظہارِ یکجہتی بھی نہیں کیا۔تاریخی اعتبار سے ظاہر شاہ کی قیادت میں پاکستان کے ساتھ پشتونستان کے تنازعے میں الجھی ہوئی افغان حکومت نے اس وقت بھی پاکستان کے ساتھ سرحدی تعلقات کو کشیدہ کر رکھا تھا ۔

افغان حکومت نے نہ صرف پاکستان کی حمایت سے گریز کیا بلکہ بنگالی مہاجرین کو پناہ دے کر اور بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کی سفارتی حمایت کرکے بنگلہ دیش کو 1972 میں آزاد ریاست تسلیم کرلیا جو کہ پاکستان کے مؤقف کے برعکس تھا ۔ اس تمام تر مخالفت کے باوجود پاکستان نے چار  دہائیوں تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی اوردونوں ممالک کے مؤقف میں ایک بڑا فرق تو یہ بھی ہے کہ  پاکستان کے نزدیک تحریکِ طالبان (ٹی ٹی پی) ایک دہشت گرد گروہ ہے لیکن طالبان اسے دہشت گرد نہیں سمجھتے جنہیں امریکا نے بھی دہشت گرد قرار دیا ہے۔

سال 2021 سے 2025 تک پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو طالبان کی افغان حکومت کے قیام سے منسلک ہے۔ گلوبل ٹیررزم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں 2024 میں ہلاکتوں میں پچھلے سال کے مقابلے میں 45 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل (SATP) کی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ 2021 میں کل ہلاکتیں تقریباً 639 تھیں، جو 2023 تک بڑھ کر 1748 ہو گئیں اور  یہ اضافہ ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں اور افغان سرزمین سے دہشت گردی  کی وجہ سے ہوا، حالانکہ افغان طالبان اس کی تردید کرتے ہیں اور اس کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہیں۔

اگر ٹی ٹی پی کی بات کی جائے تو جولائی 2024 میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی طالبان رجیم کی نگرانی میں دہشت گردی کرنے والا سب سے بڑا گروہ ہے جس میں 6 سے ساڑھے 6 ہزار جنگجو موجو دہیں اور ٹی ٹی پی نے پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں اضافہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں 2021 سے 2023 تک تقریباً2 ہزار 500 افراد شہید ہوئے۔

افغان حکومت کو چاہئے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کریں اور اگر اس پر قابو پانے کیلئے پاکستان سےکوئی مدد درکار ہے تو  اس کی بھی برملا استدعا کی جائے تاہم طالبان حکومت دہشت گردی کو دہشت گردی بھی تسلیم کرنے کو تیارنہیں۔امریکا اور اقوامِ متحدہ کے علاوہ روس اورچین بھی افغانستان میں دہشت گردی کی موجودگی کی نشاندہی کرچکے ہیں لیکن افغان حکومت اسے تسلیم نہیں کرتی جبکہ ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا ہے پاکستان اور  افغانستان مسئلے کے  پُرامن حل کے لیے تعمیری مذاکرات میں مصروف ہیں۔

اسلام آباد میں 17 اکتوبر کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے باربار افغانستان میں فتنۃ الخوارج کی موجودگی کی اطلاع دی، 11 تا 15 اکتوبر سرحد پرطالبان کے اشتعال انگیز حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا جبکہ پاکستان نے اپنے دفاع کےحق کےتحت طالبان کے حملوں کو مؤثر طور  پر  پسپا کیا۔

انہوں نے کہا کہ طالبان فورسز اور  ان کے زیر استعمال دہشت گرد ٹھکانوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا، جوابی کارروائی شہری آبادی نہیں دہشتگرد عناصر کے خلاف تھی اور کارروائی کے بعد طالبان کی درخواست پر 15 اکتوبرکی شام 6 بجے سے 48 گھنٹوں کی جنگ بندی نافذ کی گئی۔یہاں ترجمان دفتر خارجہ کے اس بیان کو بھی اہمیت دینا ہوگی کہ  افغان حکومت اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی ذمہ داری سے خود کو بری نہیں کر سکتی، امن و استحکام کے قیام کی ذمہ داری افغانستان پر بھی عائد ہوتی ہے۔

ضروری ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین پر امن تعلقات کو دوبارہ بحال کیا جائے، تاہم یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ ہمارے ہمسایہ ملک کی عبوری حکومت پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کے بجائے حقیقت پسندانہ مذاکرات کیلئے تیار نہ ہو اور پاکستان پر اندرونی و بیرونی دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ بند نہ کیا جائے۔

سنگین بات یہ ہے کہ بھارت انٹیلی جنس اداروں کو ایک مرتبہ پھر افغانستان میں پنجے گاڑنے کا موقع دیا جارہا ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ ایک دانستہ عمل ہے   جس کے تحت پاکستانی سرزمین کو ماضی کی طرح ملک کے عدم استحکام کیلئے  دوبارہ استعمال  کیا جارہا ہے۔ معرکہ حق کے بعد پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی ساکھ کے پیش نظر دفتر خارجہ کو اس امر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بات پر زور دینا ہوگا کہ افغانستان پر کثیر جہتی دباؤ میں اضافہ کرنے کیلئے   امریکا سمیت شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کا ساتھ حاصل   کیا جائے تاکہ افغان بھائیوں میں کسی قسم کی غلط فہمی اور کدورتیں پیدا نہ ہوسکیں اور افغان عبوری حکومت کو علاقائی عصبیت کو دوام بخشنے کا موقع نہ مل سکے اور عبوری حکومت دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول کرسکے۔

Related Posts