ترکی کے شہر اوشاک کی ایک عدالت نے ایک شوہر کو اپنی سابقہ بیوی کا نمبر موبائل فون میں توہین آمیز نام سے درج کرنے کے الزام میں مالی اور اخلاقی ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب طلاق کے دوران بیوی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ شوہر نے اس کا فون نمبر موٹی کے نام سے محفوظ کیا تھا، جو اس کی ذاتی عزت اور وقار کے منافی عمل ہے۔
عدالت نے اس طرزِ عمل کو نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شوہر کو سزا سنائی۔
عدالتی فیصلے کے بعد ترکی کے مختلف حصوں میں اس موضوع پر سماجی و قانونی بحث چھڑ گئی۔
کچھ صارفین نے عدالت کے فیصلے کو خواتین کی عزت اور حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مثبت اقدام قرار دیا جبکہ بعض نے رائے دی کہ بعض اوقات ایسے نام مذاق یا پیار کے اظہار کے طور پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
ماہرین قانون نے واضح کیا کہ ازدواجی تعلقات میں ذاتی احترام اور الفاظ کے محتاط استعمال کی اہمیت بنیادی اخلاقی اصولوں میں شامل ہے۔
یہ فیصلہ ترکی کے خاندانی قوانین کے تناظر میں ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آیا ہے، جو مستقبل میں اس نوعیت کے تنازعات میں رہنمائی فراہم کرے گا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے شہریوں میں یہ شعور پیدا ہوگا کہ ازدواجی رشتوں میں تلخی کے باوجود ایک دوسرے کی عزت اور وقار کا خیال رکھنا معاشرتی ذمہ داری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








