منگل کی صبح بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں شہریوں نے آسمان پر ایک دلکش اور حیران کن منظر دیکھا۔
صبح تقریباً 6 بج کر 20 منٹ پر آسمان میں ایک رنگ برنگا دائرہ نمودار ہوا جس نے دیکھنے والوں کو مسحور کر دیا۔ چند منٹ بعد یہ منظر غائب ہوگیا مگر اس کا حسن دیر تک شہریوں کے ذہنوں پر نقش رہا۔
یہ رنگین مظہر نہ صرف کوئٹہ بلکہ نوشکی، دالبندین اور اطراف کے علاقوں میں بھی دیکھا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق آسمان پر رنگوں کا یہ دائرہ جادوئی منظر پیش کر رہا تھا، جو کچھ دیر بعد آہستہ آہستہ مدھم ہو کر غائب ہو گیا۔
#WATCH: A rare lenticular cloud formation was observed in the early hours of Tuesday, over the skies of Quetta city in Pakistan’s southwest, Pakistan's Meteorological Department said. https://t.co/QDqsWIHq6u pic.twitter.com/DA9Wv0Jj47
— Arab News Pakistan (@arabnewspk) October 28, 2025
محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر کے مطابق یہ دلکش قدرتی مظہر لینٹیکولر بادل کی تشکیل کے باعث سامنے آیا، جو کوہِ مردار کے مشرقی پہاڑی سلسلے کے اوپر طلوعِ آفتاب سے کچھ دیر قبل نمودار ہوا تھا۔ ان کے مطابق یہ بادل تقریباً 6:20 پر ظاہر ہوئے اور 6:45 تک تحلیل ہو گئے۔
ترجمان نے وضاحت کی کہ لینٹیکولر بادل دراصل ایسے مخصوص بادل ہوتے ہیں جو پہاڑوں کے اوپر اس وقت بنتے ہیں جب نم دار اور مستحکم ہوا پہاڑوں سے ٹکرا کر بلند ہوتی ہے اور فضا میں موجی پیٹرن تشکیل دیتی ہے۔
جب یہ ہوا اپنے درجہ حرارت کے نقطۂ شبنم پر پہنچتی ہے تو بادل بنتے ہیں، اور پہاڑوں کے نیچے کی گرم ہوا بخارات کو تحلیل کر دیتی ہے، جس سے بادلوں کو عدسے یا گول تشتری جیسی منفرد شکل ملتی ہے۔
A rare display of auroral lights was visible in #Quetta's sky this morning, a phenomenon typically observed only in the polar regions of the world." pic.twitter.com/KTOJfoUgL1
— Azhar Afghan (@AzharAfg) October 28, 2025
ماہرین کے مطابق یہ بادل اپنی ہموار اور تہہ دار ساخت کی وجہ سے بعض اوقات اڑن طشتریوں سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث کئی لوگ انہیں پراسرار مظاہر سمجھ بیٹھتے ہیں۔
پاکستان میں، خاص طور پر بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں اس طرح کے بادل شاذونادر ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح آسمان پر نظر آنے والا یہ رنگین ہالہ دراصل سورج کی روشنی کے لینٹیکولر بادلوں میں موجود نمی سے ٹکرانے کے نتیجے میں بنا، جس سے قوس و قزح جیسے دلکش رنگ بکھر گئے اور آسمان ایک حیرت انگیز منظر پیش کرنے لگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








